ابا کو چھوڑیں، میرے سامنے آئیں، سلمان شہباز نے عمران خان کو 11 کے جواب میں 111 سوالوں کا چیلنج دیدیا

ابا کو چھوڑیں، میرے سامنے آئیں، سلمان شہباز نے عمران خان کو 11 کے جواب میں 111 ...
ابا کو چھوڑیں، میرے سامنے آئیں، سلمان شہباز نے عمران خان کو 11 کے جواب میں 111 سوالوں کا چیلنج دیدیا

  



لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) نواز شریف فیملی کو گیارہ سوالوں کے ساتھ چیلنج دینے والے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو اسی فیملی کے نوجوان سلمان شہباز نے 111 سوالوں کا جوابی چیلنج دے دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ میاں نواز شریف کو عمران خان سے مناظرے کی ضرورت نہیں پڑے گی، ان کیلئے میں ہی کافی ہوں، وہ میرے ساتھ مناظرہ کر لیں۔جیو نیوز کے پروگرام لیکن میں گفتگو کرتے ہوئے میاں شہباز شریف کے صاحبزادہ سلمان شہباز نے شریف فیملی پر غیر ملکی مصنف ریمنڈ بیکر کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فیملی ان بے بنیاد الزمات کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی ضرورت محسوس نہیں کرتی کیونکہ ہم نے کسی قسم کی کوئی کرپشن نہیں کی بلکہ ہمارا خاندان 1937 ءسے صنعتی شعبہ میں محنت اور ترقی کر رہا ہے حالانکہ بھٹو اور پرویز مشرف کے دو ر میں ہمارے خاندان کو بدترین انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان، رحمان ملک اور راجہ صاحب میں کوئی فرق نہیں ان سب کا ایک ہی سکرپٹ اور ایجنڈا ہے کہ نواز شریف فیملی کو ٹارگٹ کیا جائے لیکن وہ نہیں جانتے کہ اس طرح ہدف بنانے کا فائدہ پیپلز پارٹی کے سوا کس کو ہو گا۔ میں عمران خان پر حیران بھی ہوں اور ان پر ترس بھی آتا ہے کہ انہیں بڑے بڑے سکینڈل اور اربوں کے ڈاکے، ملکی معیشت کی تباہی اور زرداری صاحب نظر نہیں آتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے سوالوں کے جواب دینے، شریف فیملی کی صنعتی و فلاحی اور سیاسی خدمات گنوانے کیلئے ٹی وی پر ایک گھنٹے کا پروگرام ناکافی ہے۔ ہم یہ نہیں چاہتے کہ ٹی وی پر آئیں، تفریحی شو کریں، لوگوں کو پاگل بنائیں اور چلے جائیں۔ سلمان شہباز نے کہا کہ عمران خان کو درحقیقت نواز شریف فوبیہ ہو گیا ہے اور انہیں خواب میں بھی نواز شریف ہی نظر آتے ہیں۔ ملکی حالات، نوجوان نسل ، بحران در بحران اور ان کا حل عمران خان کے پیش نظر نہیں اور نہ ہی ان کا کردار قابل تحسین ہے۔ عمران خان نے ساری عمر انگلینڈ میں گزاری ہے ، انہیں فیس میں دیتا ہوں وہ انگلینڈ سے ہماری بیان کی گئی پراپرٹی کا ریکارڈ نکلوائیں اور عدالت سے رجوع کریں اور اس کےساتھ ساتھ پاکستانی حکام کو ٹربیونل اور کمیشن بنانے کیلئے خط بھی لکھیں مگر یہ ضرور بتائیں کہ مغرب میں گزارے جانے والے شاہانہ وقت کے دوران ان کا ذریعہ معاش کیا تھا۔

مزید : لاہور /اہم خبریں


loading...