14 اگست آزادی مارچ یا انقلاب؟

14 اگست آزادی مارچ یا انقلاب؟
 14 اگست آزادی مارچ یا انقلاب؟
کیپشن: pic

  

آج جب لکھنے بیٹھا تولکھنا 14 اگست والے آزادی مارچ پر تھا مگر اس موضوع پر آنے سے پہلے کچھ ذکر مجید نظامی صاحب کا جو آج ہم میں نہیں ہیں۔ مجید نظامی صاحب صرف ایک شخصیت ہی نہیں، ایک عہد کا نام ہے اپنی ذات میں ایک ادارے کا نام ہے صحافت کی تاریخ ساز شخصیت کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں جگہ دے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے انہوں نے صحافت کے جو اصول بنائے اور جس طرح نظریہ¿ پاکستان کی ریاست کی بقاءکو اور ملکی سالمیت کو صحافت کے بنیادی اصولوں میں شامل کیا اور اپنے گروپ کو اس پر کار بند رکھا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ میں دعا گو ہوں کہ اللہ ان کے بنائے ہوئے میڈیا گروپ کو مجید نظامی صاحب کی بنائی ہوئی اقدار کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے میری ایک تجویز ہے اپنے ملک کے تعلیمی ادروں کیلئے کہ ایسی عہد ساز شخصیات کے لئے تحقیقی مقالے یا تھیسز لکھوائے جائیں کیونکہ ایسی شخصیات ہمارے پاس کم ہوتی جارہی ہیں جنہوں نے تاریخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ شعور سے لاشعور میں محفوظ کیا ہے کیونکہ یہ تاریخ ان کیلئے حالات حاضرہ تھی۔ ہمیں ان لوگوں کی قدر کرنی چاہئے اور اس دار فانی سے کوچ کے بعد ہی کیوں بلکہ ہمیں ان شخصیات کو یہ خراج تحسین ان کی زندگی میں پیش کرنی چاہئے ایسا کرنا زیادہ مناسب ہو گا۔ میری جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران صاحب بلکہ گورنر صاحب سے درخواست ہے کہ وہ ایسے مقالوں کا آغاز کروائیں کیونکہ اس طرح نہ صرف تاریخ اپنے درست معنوں میں مرتب ہوگی بلکہ آنے والی نسلوں کے فخر کیلئے ہمارے پاس ہیرو ہونگے جنہوں نے اپنے اپنے میدان میں کاوشیں کیں مشقتیں کیں جنہوں نے باقاعدہ صحافت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا جن میں سے آج ہمارے پاس چند ہستیاں بچی ہیں جیسے مجیب الرحمان شامی صاحب ، الطاف حسن قریشی صاحب ،نذیر ناجی صاحب وغیرہ۔ کہیں دیر نہ ہو جائے کیونکہ بحیثیت قوم ہم ہر اہم کام میں دیر کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔

جیسے ہمارے وزیر اعلیٰ نے دیر سے ایکشن لیا گجرات میں بچے کے بازو کٹنے پر یہاں میرے پڑھنے والے کہیں گے کہ میری یادداشت خراب ہو گئی ہے کیونکہ وزیر اعلیٰ نے تو فوری نوٹس لے لیا تھا اور احکامات جاری کر دئیے تھے، پھر وہ خود بھی گئے اور وہاں انہوں نے بہت سی معطلیاں بھی کیں مگر میری گزارش ہے کہ جب حافظ آباد میں چھوٹے معصوم بچے پر ٹریکٹر چڑھا دیا جاتا ہے جس سے اس کے پاو¿ں کی انگلیاں ضائع ہوجاتی ہیں اگر اس پر بروقت ایکشن لیا جاتا اوروزیر اعلیٰ صاحب اسی طرح اس وقت دلچسبی لیتے تو شاید گجرات والا واقعہ نہ ہوتا کیونکہ حافظ آباد میں بھی تو جھگڑا ایک زمیندار اور ایک عام آدمی کے درمیان تھا وہاں غصہ کس بات کا تھا۔ جس بچے کو ٹریکٹر تلے کچلنے کی کوشش کی گئی اس کے گھر کے سامنے مچھلی فارم بنایا گیا جس پر گھر والوں نے احتجاج کیا اور کہا کہ یہ فارم کسی حادثے کا سبب بنے گا اس کو ختم کیا جائے جبکہ زمیندار اس کو ختم کروانے پر راضی نہیں تھا، جبکہ اسی دوران اس فارم میں دو بچے بھی گر کر جان بحق ہو چکے تھے مگر نہ وہ فارم ہاو¿س ختم ہونا تھا نہ ہوا اور یہ حادثہ رونما ہوگیا۔ اسی واقعہ پر پولیس کے ایکشن کیساتھ ساتھ اگر وزیراعلیٰ بھی حرکت میں آتے اور وہاں پر اس زمیندار کا فارم بند کروا دیا جاتا اور اس زمیندار کی سرزنش کی جاتی اور اس کو کچھ مال معاوضہ بھی اد کرنے کیلئے کہا جاتا یا پھر جتنی انگلیاں اس بچے کی ضائع ہوئیں اتنی انگلیاں اس زمیندار کی بھی کاٹ دی جاتیں تو شاید یہ گجرات والا واقعہ نہ ہوتا۔

زمیندار کی کبھی اس بچے کے بازو کاٹنے کی ہمت نہ ہوتی اس کو اس بات کا ادراک ہوتا اور قانون کی عملداری کا ایسا خوف ہوتا کہ اگر میں ایسا کرونگا تو میرے ساتھ بھی قانون یہ سلوک کرے گا، مگر ہوا کیا پرویز الٰہی صاحب جن کا حلقہ ہے انہوں نے تو جانے تک کی زحمت نہیں کی بلکہ ان کا بیان بھی تین دن کے بعد آیا ہے اور وزیر اعلیٰ شاید وہاں اس لئے گئے کہ وہاں سے پرویز الٰہی صاحب منتخب ہوئے ہیں اور گجرات چوہدری برادران کا حلقہ ہے۔ یعنی عوام کے ساتھ پھر سیاست دان دھوکہ کر گئے وزیر اعلیٰ وہاں جا کر روتے ہیں میں ان کے رونے کو جھوٹا نہیں کہہ رہا کیونکہ اس 10 سالہ گھر کے بڑے بیٹے کی حالت ہی اسی طرح کی تھی کہ جو شخص دل رکھتا ہے وہ روئے بغیر نہیں رہے گا اس کا غریب باپ اسے ہر روز دیکھ کر روتا نہیں بلکہ مرتا ہو گا وزیر اعلیٰ کو چاہئے کہ سزا کے طور پر اس زمیندار کی تمام زمین اس بچے کے نام پر کر دی جائے جو کہ تقریبا 10 ایکڑ کے قریب ہے اوراس کے بازو بھی وہیں سر عام قطع کئے جائیں۔مگر وزیر اعلیٰ صاحب کے جو سامنے آیا معطل کرتے چلے گئے۔

 حیران کن بات یہ ہے کہ اب جس وقت میں لکھ رہا ہوں اس وقت تک سب لوگ اپنی اپنی جگہ پر کام کر رہے ہیں جیسے ایم ایس صاحب وغیرہ کیونکہ ان کا موقف ہے کہ ان کو ابھی تک تحریری حکم نامے موصول نہیں ہوئے ساتھ ایک اور بات بھی نذر کرتا چلوں کہ ڈی پی او گجرات رائے اعجاز جنہیں وزیر اعلیٰ صاحب نے معطل کیا تھا انہیں کیمروں کے دائیں بائیں ہوتے ہی یہ بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ صاحب یہ رائے ضمیر ڈی پی او مظفر گڑھ کے بیٹے ہیں تو وزیر اعلیٰ صاحب نے ان کی معطلی واپس لے لی۔ خیر وہ 10 سالہ بچہ بھی اسی دھوکے کا نشانہ بنا ہے جس کا اس ملک کے عوام برسوں سے بنتے چلے آرہے ہیں۔ اگر جاں کی امان پاو¿ں تو عرض کروں وزیر اعلیٰ صاحب دائیں ہاتھ سے اور دائیں جانب سے کسی بھی چیز کا نوٹس لیتے ہیں اور پھر ٹیبل کی بائیں جانب بائیں ہاتھ سے رکھ دیتے ہیں اور یہ نوٹسز کا وہ ڈھیر بنتا جارہا ہے جو شاید طاہرالقادری صاحب کے انقلاب اور عمران خان کے 14 اگست کے آزادی مارچ کی راہ ہموار کرے گا۔

عمران خان کا آزادی مارچ بھی بہت سے شکوک شبہات کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ خان صاحب اور طاہرالقادری صاحب ملیں گے یا نہیں ملیں گے اکٹھے آزادی مارچ میں جائیں گے یا الگ الگ کیا ہو گا یہ باتیں وہ ہیں جو سب کے ذہنوں میں گردش کر رہی ہیں آخر خان صاحب اور طاہر القادری صاحب اکٹھے کیوں نہیں ہوتے۔اس کا تو ایک سادہ سا جواب ہے کہ خان صاحب اس سسٹم پر یقین رکھتے ہیں اور اس سسٹم میں آکر اس کی خامیوں کو دور کرنا چاہتے ہیں جو کہ وہ اس سسٹم میں خود بھی ہیں۔ مگر قادری صاحب اس سسٹم کو ہی نہیں مانتے ان کے نزدیک آئین میں مکمل طور پر نافذ العمل نہیں ہے کیونکہ قادری صاحب کے بقول آئین میں جو عوام کے حقوق کی باتیں ہیں وہ نافذ العمل ہونے کو ہی نہیں آرہیں اس لئے وہ اس سسٹم کو ہی لپیٹ دینے کی بات کر رہے ہیں۔ مگر تحریک انصاف کہیں یا عمران خان صاحب کا کہیں وہ ان کا ساتھ نہیں دے رہے ابھی تک۔ طاہر القادری صاحب جب پاکستان تشریف لائے تو انہوں نے اسلام آباد لینڈ کرنا تھا مگر نہ کر سکے اس کے بعد بہت دنوں تک قادری صاحب اکٹھے بیٹھ کر متفقہ تاریخ کا اعلان کرنے کا کہتے رہے جو کہ اچانک ختم ہو گیا جس کے پیچھے بات یہ معلوم پڑی ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ بات چیت میں 14 اگست کی تاریخ قادری صاحب کی جانب سے کہی گئی تھی۔ مگر یہ اعلان ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ہونا تھا مگر اس سے پہلے ہی عمران خان نے اپنے آخری جلسے (بہاولپور) میں 14 اگست کا اعلان کر دیا جو کہ قادری صاحب کیلئے ایک سیاسی دھچکا تھا۔ اس لئے اب قادری صاحب اپنے اگلے پلان کو ظاہر نہیں کر رہے لیکن ایک قوی امکان یہ ہے کہ قادری صاحب عمران خان صاحب سے چوبیس یا اڑتالیس گھنٹے پہلے جا کر اسلام آباد میں ڈیرے جمائیں گے اور عمران خان صاحب ان کے ساتھ بھی شامل ہونگے۔

دوسری باتیں یہ سننے میں آرہی تھی کہ چوہدری نثارصاحب نے ناراضگی ختم کرنے کے بعد شہباز شریف صاحب کے ساتھ مل کر عمران خان سے ملاقاتیں کی ہیں اور انہیں آزادی مارچ نہ کرنے پر راضی کرنے کی کوشش کی مگر اس پر خان صاحب بالکل راضی نہیں ہوئے ہاں اتنی رضا مندی ضرور ظاہر کی گئی کہ تمام نہیں چار حلقوں کو انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے کھول دیا جائے گا اور الیکشن کمیشن اور الیکشن ترامیم میں تحریک انصاف کو مرکزی حیثیت دی جائے گی خان صاحب آئیں اپنے پارٹی ورکرز کو بھی لائیں جلسہ کریں جیسے وہ روایتََ کرتے ہیں اور چلے جائیں چند مصدقہ اطلاعات کے مطابق خان صاحب اس بات پر مان بھی گئے تھے مگر کیا کہا جائے اس میڈیا کا کہ یہ درمیان میں کود پڑا اور اب خان صاحب کو اپنا ٹی ٹوئنٹی میچ ٹیسٹ میں بدلنا پڑا۔ خان صاحب کہتے ہیں کہ اس وقت تک نہیں اٹھیں گے جب تک مطالبات نہیں مانے جائیں گے مگر جب بات چیت ہوتی ہے تو کچھ باتیں مانی جاتی ہیں اور کچھ منوائی جاتی ہیں نہ آپ تمام باتیں مانتے ہیں اور نہ آپ منوا سکتے ہیں۔ میرا تخیل یہ کہتا ہے اس بات کا ادراک ن لیگ کو تو ہے جو انہوں نے بات چیت کا سلسلہ بظاہر بند کر دیا ہے اور وفاق میں 245 کا اطلاق کر دیا ہے، جبکہ آپریشن کے بعد دہشت گردوں کی کاروائیوں کا خطرہ کراچی، کوئٹہ، پشاور کو وفاق سے کہیں زیادہ ہے تو پھر صرف اسلام آباد میں ہی 245 کا اطلاق کیوں۔ اور پنجاب حکومت نے تو تمام ماہ ہی تقریبات کرانے کا سوچ لیا ہے اس کے ساتھ ہی روایتی طریقے بھی استعمال کرنے شروع کر دئیے ہیں یعنی کارکنان کی لسٹیں اور اِن کو پکڑنا وغیرہ۔ جو کہ شاید کسی تصادم کی صورت اختیار کر جائے جس کا خدشہ ماڈل ٹاو¿ن والے واقعے کے بعد تو نہیں ہے مگر بالکل خارج ازامکان بھی نہیں۔

خیر اب ن لیگ کے لئے مشکل یہ ہے کہ قادری صاحب اور عمران صاحب دونوں سے الگ الگ معاہدے کیسے کرے کیونکہ خان صاحب ٹیسٹ میچ کے بعد وہی دو باتیں مان کر اور منوا کر واپس آجائیں گے جو میں نے پہلے بیان کی ہیں مگر قادری صاحب سے ڈیل کیسے ہو گی کیونکہ وہ پیپلز پارٹی کے دور کا معاہدہ بھولے نہیں۔ اور اگر عمران خاں صاحب ٹیسٹ میچ میں بھی کوئی فیصلہ کئے بغیر اٹھ گئے تو بقول شیخ رشید صاحب کے خان صاحب کی اور شیخ صاحب کی سیاست ہمیشہ کے لئے دفن ہو جائے گی۔ کیونکہ شیخ صاحب نے کہا کہ سیاسی قبر ایک ہے 14 اگست کو یا اس میں نواز شریف کی سیاست جائے گی یا عمران خان کی۔

عمران خان صاحب کی ابھی تک کی چال ڈھال سے لگ رہا ہے کہ وہ اپنے راستے میں آنے والی ہر شے کو اپنی سیاسی ساکھ کو بڑھانے اور بچانے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ جیسے انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ کیا وہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مگر کیا وہ اس کو برقرار رکھ پائیں گے کیا وہ عوام کے جذبات جو ان کے ساتھ ہیں ان کی لاج رکھ پائیں گے یا کوئی ناعاقبت اندیش فیصلہ انہیں عرش سے فرش پر لے آئے گا کیونکہ میرے اب تک کے حساب کے مطابق قادری صاحب سیاسی منظر نامے تک اس نظام کے بدلنے یا پلٹنے تک ہونگے اس کے بعد وہ اس منظر نامے پر نظر نہیں آئیں گے یہ بات خان صاحب کی سمجھ میں نہیں آرہی مگر ساتھ ہی یہ بھی ہے قادری صاحب جب انقلاب کی بات کرتے ہین تو انقلاب خون کے بغیر تو ممکن نہیں اور خون دینے کیلئے ابھی کوئی تیار نہیں۔ تو ابھی انقلاب نہیں آئے گا صرف تبدیلی آئے گی۔

ویسے آپ اور میں اپنے کوائف منہاج القرآن کے سیکرٹریٹ میں جمع کروا دیتے ہیں شاید انقلاب آ ہی جائے۔

مزید :

کالم -