لیڈروہ جو قوم بنائے

لیڈروہ جو قوم بنائے

  

آج کل اخبارات اور ٹیلی ویژن پر نظر پڑتے ہی دھیان نام نہاد یا خودساختہ لیڈروں کے رنگ برنگے بیانات پراٹک جاتا ہے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا پر اس بار صرف سیاسی لیڈر ہی اپنی گھن گرج نہیں دکھا رہے ،بلکہ کئی قسموں ، نسلوں ،شعبوں اور اداروں کے سربراہ اور نمائندے ایک دوسرے پر اپنی بالادستی ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس وقت سب سے مشکل معمہ اس شخص کے لئے بنا ہوا ہے جو نہ تو کوئی سیاسی لیڈر ہے اور نہ ہی ماہرانہ تبصرے کرنے والا صحافی یادانشور، بلکہ وہ تو محض اپنے گھر میں بیٹھ کر پورا اخبار پڑھنے والا اور رات کو نشر ہونے والے دھواں دار ٹاک شودیکھ کر خود کو ملکی اور غیرملکی حالات سے باخبر رکھنے والا ایک عام پاکستانی ہے۔ ہم کو بھی کالم نگاری کی ذمہ داری نے باقاعدہ اخبارات کے اےڈیٹوریل پڑھنے اور رات کے ”ٹی وی ملاکھڑے“ دیکھنے کا پابند بنایا ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک عام پڑھے لکھے اور باخبر پاکستانی کے دل ودماغ میں کیسے کیسے ہیجان جنم لیتے ہیں، اس کا خالص تجربہ اب ہورہا ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ راقم کم وبیش بیس سال صرف انگریزی اخباروں اور غیرملکی ٹی وی چینلوں کو ہی حالات حاضرہ کا غیرجانبدار نمائندہ سمجھتا رہا ہے۔ (اس رویے کی دیگر وجوہات اپنی جگہ ،لیکن ”خاں جی“ کا رفیق کار ہونا بذات خود ایک اہم وجہ تھی )۔

 اردو اخبار اور ٹی وی چینل تو گزشتہ چند ماہ سے دیکھنا شروع کئے ہیں اور بقول خاں جی: ”سچی بات ہے میرا بھائی انہوں نے تو برباد کرکے رکھ دیا ہے “.... ایسے ایسے لایعنی موضوعات جو کسی طورپر بھی اس قابل نہیں کہ قومی اخبارات کے ادارتی صفحات ان کو جگہ دیں اور کیبل وڈش ٹی وی کے بڑے چینل اپنے سب سے قیمتی پرائم ٹائم کو بے مقصد سوال جواب میں ضائع کردیں ۔ ہم سب اس وقت یہ بھول بیٹھے ہیں کہ ہماری ہرطاقت اور صلاحیت ملک وقوم کی امانت ہے۔ ہم جیتے جی اپنے ہرعمل کا حساب اپنے لوگوں کو دینے کے پابند ہیں اور مرنے کے بعد روز قیامت تو سب کا حساب بے باق کردینے والا ہے۔یہ دنیا جس کی حیثیت ہمارے آقا جی کے فرمان کے مطابق مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے، اس ایک سانس کی مار زندگی کے لئے ہم کیسی کیسی قلا بازیاں لگارہے ہیں، سچ اور جھوٹ کی اتنی شکلیں اور قسمیں ایجاد کرلی ہیں کہ حقیقت سوپردوں میں جاچھپی ہے ۔

 ایک طرف حکمران سیاسی لیڈر ہیں تو دوسری طرف جلسہ کار جوشیلی اپوزیشن ،تیسری طرف اصلی طاقت دیکھی یا ان دیکھی چالیں جیسے چاہے چلتی جائے، چوتھی طرف پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا بدمست ہاتھی ،پانچویں طرف آزاد، متحد ، قانون اور آئین کی رکھوالی اعلیٰ عدلیہ، چھٹی طرف دہشت گرد تنظیمیں اور غیرریاستی عناصر جو ہردم ہمارے عسکری اداروں کے ساتھ برسرپیکار رہنے پر قائم اور بضد ہیں۔ یہ سب اپنی پنی طرز کے لیڈر ہیں، جن کی شکل اجتماعی اور ادارہ جاتی ہے ۔ان سب اداروں کے اندر درجہ بدرجہ لیڈر ہی لیڈر ہیں۔ راقم اپنے علاقے میں ایک ایسے صاحب سے سلام دعا کا تعلق رکھتا ہے جنہوں نے حال ہی میں ایم پی اے کا آزاد حیثیت سے الیکشن ہارا ہے۔ موصوف جنرل پرویز مشرف دور کی ضلعی حکومتوں میں”نظامت “ کا لطف اٹھاچکے ہیں۔ ان سے ملنے کے بعد پتہ چلا کہ اقتدار کا نشہ دوسرے سارے نشوں کا لیڈر ہے، دوسرے نشوں کا تریاق تو کچھ ٹوٹکوں سے بھی ہوجاتا ہے، لیکن اقتدار کا نشہ اگلے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر اور بڑھتا ہے۔ ٹوٹتا ہرگز نہیں !انہوں نے اپنے سیاسی تجربے اور برادری کے زور کو بروئے کار لاتے ہوئے بڑی سیاسی جماعتوں سے ٹکٹ حاصل کرنے کی کوشش کی ،لیکن جب بات کسی طوربنتی نظر نہ آئی تو آزادالیکشن لڑنے کا اعلان کردیا۔ دوران الیکشن بوجوہ ”لیڈرصاحب“ (راقم ایسے تمام عوامی نمائندوں کو لیڈر صاحب کے نام سے ہی پکارتا ہے) سے ذرا ایک ہاتھ دور ہی رہنا مناسب سمجھا ۔

 الیکشن گزرنے کے چند ہفتے بعد جب ماحول دوبارہ معمول پر آگیا تو ان سے ملاقات ہوئی۔ تبادلہ خیال کے دوران پتہ چلا کہ لیڈر صاحب اپنے علاقے کے ووٹروں سے خاصے نالاں ہیں۔ الیکشن سے پہلے آخری ملاقات میں ان کے ہر اندازے ، تجزیے اور تبصرے کی تان اس بات پر ٹوٹتی تھی کہ مَیں نے ٹیکنیکل تیاری کررکھی ہے۔ حمایتی اور سابقہ کونسلر کی یقین دھانیوں اور ووٹروں سے لئے گئے تحریری وعدے اور مخالف جماعتوں کی اندرونی محاذ آرائی کا سبب سے زیادہ فائدہ مجھے ہوگا، کیونکہ میرا نعرہ ہے، آپ کا اپنا مقامی لیڈر آپ کے ووٹ کا اصل حق دار ہے ۔ آپ کو اپنے مسائل کے حل کے لئے گلبرگ یا ماڈل ٹاﺅن نہیں جانا پڑے گا، بلکہ آپ کے حلقے میں میرے گھر کے دروازے آپ کے لئے چوبیس گھنٹے کھلے ہیں۔ وقت نے ثابت کیا کہ عوام مقبول سیاسی پارٹی کے گمنام امیدوار کو بھی اپنے اردگرد پائے جانے والے خوبرو لیڈر سے کہیں زیادہ پذیرائی بخشتے ہیں اور بڑی پارٹی کے امیدوار کو اپنے ووٹوں سے لاددیتے ہیں۔

 لیڈر موصوف نے اپنی ہار اور الیکشن پر اٹھنے والے سارے اخراجات کا بدلہ اپنے اس جملے کی کاٹ سے لے لیا: ” یہ لوگ اسی قابل ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا ہو،جیسا کہ ہوتا رہا ہے، انہیں اپنے فائدے اور نقصان کا شعور ہی نہیں ہے“.... لیڈر صاحب تو اپنی بھڑاس نکال کر ٹھنڈے ہوکر بیٹھ گئے ،مگر راقم اس جملے کو اپنے اور اپنے کروڑوں عوام کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ سے کم نہیں سمجھتا.... (یادرہے کہ یہ گفتگو تقریباً ایک سال پہلے کی ہے جب عام انتخابات مکمل ہوئے تھے).... لیکن صرف ایک سال بعد ہی ملک کے سیاسی حالات اور حکومت کے اندرونی خلفشار نے ہردردمند پاکستانی کو سوالات کے سمندر میں دھکیل دیا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ دوتہائی اکثریت کا مقابلہ دوایسی جماعتیں اپنے غیرجمہوری اور غیرآئینی اقدامات سے کرنا چاہتی ہیں، جن کی حمایت کمزور ترین محب وطن بھی موجودہ حالات میں کسی طورپر نہیں کرسکتا۔ پی ٹی آئی کی قیادت کا کپتان یہ کیوں بھول رہا ہے کہ الیکشن کروانا نگران حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور یہ نگران حکومت تمام سیاسی جماعتوں کی وسیع تر مشاورت کے نتیجے میں چند ہفتوں کے لئے تشکیل پاتی ہے۔ الیکشن کمیشن کا سربراہ بھی اسی طریقے سے مقرر کیا جاتا ہے، جو مطالبات آج کارکنوں کا خون پسینہ ایک کرکے اور کروڑوں کے پارٹی فنڈ خرچ کرکے دھمکی آمیز لہجے میں پیش کئے جارہے ہیں، الیکشن کمیشن کے سربراہ کے تعین کے وقت سب کے سامنے رکھے جانے چاہئے تھے۔ ان مطالبات میں سب کی آواز شامل ہوجاتی جس کا فائدہ یا نقصان ہرایک کو برابر ہوتا۔

 کپتان لیڈر کو یہ کون سمجھائے کہ دوتہائی اکثریت ووٹوں سے ملتی ہے، ہونٹوں سے نہیں !چند ہزار لوگوں کا جلسہ اور جلوس کرنے والی سیاسی اور غیرسیاسی پارٹیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہوسکتی ہے، لیکن اکثریت کا ووٹ حاصل کرنے کی اہلیت والی جماعتیں ایک انگلی کی تین لکیروں سے باہر نہیں ہیں۔ عمران خان اپنی ساری انتخابی مہم کے دوران دوسرے ممالک کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے تھے۔ جن ملکوں کے نام لے لے کر وہ نیا پاکستان بنانے کا عزم دہراتے تھے۔ ان میں ایک بھی ملک ایسا نہےں ہے، جس میں عوام کے ووٹ سے اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کے خلاف ہارنے والے کسی جماعت نے ”کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے“ کا نعرہ مستانہ بلند کیا ہو۔ راقم آئینی اور قانونی طریقے سے منتخب حکومت کو ”عوام کے ووٹ کی حکومت “ سمجھتا ہے، اس کے نزدیک سب سے زیادہ عزت اس عام ووٹر کی ہے جس نے انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ کسی سیاسی جماعت کے لیڈر یا کسی سیاسی جماعت کی اپنی حیثیت اس ووٹر سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری کے اپنے رنگ اور اپنے ڈھنگ ہیں۔سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر ہردل دکھی ہے ، کاش ایسا نہ ہوا ہوتا، لیکن علامہ موصوف کی ”آنیاں جانیاں“ سیاسی منظر نامے میں چاہے جس کا مرضی فائدہ کریں، لیکن آج کے پاکستان کا فائدہ کسی طورنہیں کرتیں۔ ڈاکٹر صاحب دینی اور دنیاوی علوم پر دسترس رکھتے ہیں اور روحانیت ان کے نام کی تکمیل کرتی ہے۔ راقم کی عرض صرف اتنی ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو ،قوم ان میں اس ذات کا عکس نمایاں دیکھنا چاہتی ہے ، جس کی وجہ سے آج اتنے لوگ ان سے اظہار عقیدت رکھتے ہیں اور یہ وجہ کسی طوران کی سیاسی حکمت اور بصیرت نہیں ہے۔ ان سے زیادہ اس حقیقت سے کون واقف ہوگا کہ سچ کتنا سادہ اور شفاف ہوتا ہے۔ سچ اور حق کی حقیقت وہ چودھری برادران یا شیخ رشید سے سیکھنا چاہیں گے، تو وہ انہی کی صف میں شمار کئے جائیں گے ! آج کے پاکستان کو اگر چین، بھارت، کوریا ، ملائشیا اور ترکی جیسی تیزرفتار ترقی کرنی ہے تو ہمارے سیاسی رہنماﺅں کو یہ بات اپنے دل ودماغ میںواضح کرنا ہوگی کہ عزت، وقار اور ترقی کا راستہ صرف ان کو راہ دیتا ہے، جو خود کو اپنے عوام کے لئے قربان کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں ، لیڈر وہ ہوتا ہے جو انسانوں کے ہجوم کو ایک قوم کے روپ میں ڈھال دے۔ قومیں لیڈر نہیں بناتیں، بلکہ لیڈر قومیں بناتے ہیں۔ ٭

مزید :

کالم -