ایف سی کو صوبائی حکومت کی مرضی و منشاء کے مطابق کام کرنا چاہیے ،بلیغ الرحمن

ایف سی کو صوبائی حکومت کی مرضی و منشاء کے مطابق کام کرنا چاہیے ،بلیغ الرحمن

اسلام آباد (آئی این پی) وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمن نے کہا ہے کہ ضلع ہرنائی میں ایف سی کی جانب سے کوئلے کی کانوں کے مالکان سے سیکیورٹی چارجز وصول کرنے پر حکومت بلوچستان کی شکایت موصول نہیں ہوئی تاہم ایف سی کو صوبائی حکومت کی مرضی و منشاء کے مطابق کام کرنا چاہیے، چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت کو کوئی شکایت ہو تو وفاقی وزارت داخلہ کے ساتھ براہ راست معاملہ اٹھا سکتی ہے یا پھر مشترکہ مفادات کونسل میں بھی لے جا سکتی ہے۔ وہ پیر کو یہاں سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر محمد عثمان کی تحریک پر رولنگ دے رہے تھے۔ قبل اس کے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر محمد عثمان کاکڑ نے کہا کہ جمہوریت کیلئے کام سیاسی جماعتوں نے طویل جدوجہد کی جبکہ 18 ویں ترمیم اس جدوجہد کا حق تھی، مگر یہاں پر وفاقی اداروں کی جانب سے صوبائی خود مختاری میں مداخلت کی جا رہی ہے، بلوچستان کے ضلع ہر نائی جہاں تیل و گیس اور کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں، یہاں سے 5000 ٹن کوئلہ 200کانوں سے ماہوار نکلتا ہے، تمام کانوں کے مالکان صوبائی حکومت کو رائلٹی اور ٹیکس ادا کر رہے ہیں لیکن کچھ عرصہ قبل کچھ باہر کے لوگوں نے ایف سی سے معاہدہ کیا اور ایف سی کی جانب سے220روپے فی ٹن کوئلے پر غیر قانونی ٹیکس لگا دیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ تو کراچی کی بات کرتے ہیں مگر بلوچستان میں ایک سرکار یادارہ سرعام بھتہ وصول کر رہا ہے،14جنوری 2015 کو وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک جبکہ 10فروری کو صوبائی کابینہ نے فیصلہ کیا کہ مذکورہ معاہدہ غیر قانونی ہے اور ایف سی اس معاملے سے پیچھے ہٹ جائے، لیکن آج تک انہوں نے اس معاملے کو نہیں چھوڑا اور کان مالکان سے 220روپے فی ٹن کے حساب سے ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ پی پی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ بلوچستان میں موجود فرنٹیئر کور کے افسران و اہلکاران نہ صرف صوبائی حکومت کے حکامات کو نہیں مانتے بلکہ وہ آئین و قانون کو بھی نہیں مانتے، گزشتہ دنوں سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے بلوچستان کا دورہ کیا تو ایک اور معاملہ سامنے آیا کہ بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک پولیس آفیسر نے بیان دیا کہ وہ ایک ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کیلئے لا رہا تھا جبکہ ایف سی کے اہلکار اسے چھین کر لے گئے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر جنرل(ر) عبدالقیوم نے کہا کہ بلوچستان میں حالات بہت خراب ہیں، ایف سی کی بنیادی ذمہ داری سرحد کی نگرانی کرنا اور سمگلنگ کو روکنا ہے، ہرنائی اور اس کے قریبی علاقے ماضی میں نوگو ایریا بنے ہوئے تھے جنہیں ایف سی نے واگزار کرایا اور وہاں پر سرمایہ کاری لائی جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو روزگار ملا۔ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنماء سعید غنی نے کہا کہ یہ کافی اہم معاملہ ہے، اگر کسی کان مالک کو سیکیورٹی کا مسئلہ ہے تو اسے صوبائی حکومت سے رابطہ کرنا چاہیے یہ کسی طور پر مناسب نہیں کہ کوئی ایف سی براہ راست رابطہ کر کے معاہدہ کرلے اور ایف سی وہاں سے فی ٹن کے حساب سے کوئلے پر ٹیکس لینا شروع کر دے۔ اے این پی کے سینیٹر باز محمد خان نے کہا کہ بلوچستان ایک حساس علاقہ ہے، لہٰذا ایف سی کو کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے کہ معاملے کی حساسیت اور زیادہ بڑھ جائے ۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ مسئلہ بلوچستان کو ہو یا کراچی کا تمام مسائل کا حل آئین و قانون کی بالادستی میں موجود ہے، آج بلوحستان کے حوالے سے انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں ہمارے اوپر انگلیاں اٹھاتی ہیں۔

مزید : علاقائی