چائنہ اکنامک کوریڈور منصوبوں کی راہ میں رکاوٹیں حائل نہیں ہونے دینگے ،شہباز شریف

چائنہ اکنامک کوریڈور منصوبوں کی راہ میں رکاوٹیں حائل نہیں ہونے دینگے ،شہباز ...

لاہور(جنرل رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور منصوبوں کی راہ میں رکاوٹیں حائل نہیں ہونے دینگے،43ارب ڈالر کا تاریخ ساز اقتصادی پیکیج دونوں ممالک میں لازوال دوستی کی شاندار مثال ہے اور پاکستانی عوام چین کے احسان کو نہیں بھولیں گے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی سنٹرل کمیٹی کے رکن اور صوبہ’’ جیلن‘‘ کے پارٹی سیکرٹری’’ بین ژاؤلو‘‘ کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، دو طرفہ تعلقات، پنجاب اور چینی صوبہ جیلن کے مابین معاشی و تجارتی تعاون کے فروغ اور زراعت، صنعت، سائنس و ٹیکنالوجی، آٹو انڈسٹری اور مختلف شعبوں میں اشتراک کار بڑھانے پر تبادلہ خیال کرتے ہوئیمستقبل میں قریبی رابطہ رکھتے ہوئے مختلف شعبوں میں دو طرفرفہ تعاون میں اضافے کیلئے تیز رفتاری سے اقدامات کرنے پر اتفاق کیا گیا ۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی آزمائش کی ہر گھڑی میں پورا اتری ہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف کے دور میں پاکستان اور چین کے درمیان معاشی تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ وزیراعلیٰ نے چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ چین کی جانب سے جو تاریخ ساز اقتصادی پیکیج دیا گیا ہے وہ سرمایہ کاری کے ساتھ پاکستان کیلئے چین کا ایک عظیم تحفہ ہے۔ چین کے صدر کے دورہ پاکستان کے دوران 43 ارب ڈالر کا تاریخ ساز اقتصادی پیکیج دونوں ملکو ں کے درمیان لازوال دوستی کی شاندار مثال ہے اور پاکستان کے عوام چین کے اس احسان کو کبھی بھی نہیں بھلا سکتے۔ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کیلئے خوشحالی لائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت 33 ارب ڈالر کی خطیر رقم توانائی کے منصوبوں کیلئے رکھی گئی ہے۔ پنجاب میں سی پیک کے تحت منصوبوں پر تیز رفتاری سے کام کا آغاز کر دیاگیا ہے، ساہیوال میں 1320 میگاواٹ کے کول پاور پراجیکٹ کے پلانٹ کی تعمیر کا آغاز ہو چکا ہے اور یہ منصوبہ 2017 میں بجلی مہیا کرے گا۔ اسی طرح بہاولپور میں 900 میگاواٹ کا سولر منصوبہ لگایا جا رہا ہے جو 2016 میں مکمل ہوگا۔ ان تمام منصوبوں میں چین کی کمپنیاں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ شبانہ روز محنت کر کے سی پیک کے منصوبوں کو مکمل کریں گے اور چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کے راستے میں کسی رکاوٹ کو حائل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں چین کے تعاون سے اورنج لائن میٹرو ٹرین کے منصوبے کا جلد آغاز کیا جا رہا ہے اور اس منصوبے کو بھی مقررہ مدت کے اندر مکمل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت ، آٹو انڈسٹری، ریلویز، میٹرو ٹرین، کمرشل گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ، ایگرو بیسڈ انڈسٹری، طلبا و طالبات کی تربیت اور دیگر شعبوں میں صوبہ جیلن کے تجربات اور مہارت سے استفادہ کرنے کے خواہاں ہیں، خصوصاً طلبا و طالبات کو انجینئرنگ اور مختلف شعبوں میں تربیت کیلئے صوبہ جیلن بھجوایا جا سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے چینی صوبہ جیلن کے آٹو انڈسٹری سے وابستہ صنعتکاروں کو پنجاب میں مینوفیکچرنگ یونٹ لگانے کی پیشکش کی اور کہا کہ پنجاب حکومت اس ضمن میں ہرممکن تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ایک وفد جلد صوبہ جیلن کا دورہ کرے گا اور اشتراک کار کے حوالے سے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا ۔ انہو ں نے کہا کہ دو طرفہ تعلقات کے فروغ کیلئے دونوں صوبوں کے مابین وفود کے زیادہ سے زیادہ تبادلے ہونے چاہئیں اور ہمیں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی سنٹرل کمیٹی کے رکن اور صوبہ جیلن کے پارٹی سیکرٹری بین ژاؤلو نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف کی قابل لیڈرشپ میں پنجاب میں بہت ترقی دیکھی ہے، بلاشبہ شہبازشریف ایک جذبے کے تحت عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔ پنجاب میں وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کئی اہم سنگ میل عبور کئے ہیں جس پر میں انہیں مبارکباد دیتاہوں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ جیلن اور پنجاب کے مابین معاشی و تجارتی تعاون، زراعت، صنعت، سائنس و ٹیکنالوجی، ایجوکیشن اور دیگر شعبوں میں اشتراک کار بڑھایا جائے گا اور اس ضمن میں وفود کے زیادہ سے زیادہ تبادلے بہت ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان بھی تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے بھی دونوں جماعتوں کے وفود کے زیادہ سے زیادہ تبادلے ہونے چاہئیں۔کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی سنٹرل کمیٹی کے رکن اور صوبہ جیلن(Jilin) کے پارٹی سیکرٹری بین ژاؤلونے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کو صوبہ جیلن کے دورے کی دعوت دی۔ وزیراعلیٰ نے دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل قریب میں آپ کے صوبے کا دورہ کروں گا۔ صوبائی وزیر راجہ اشفاق سرور، چیئرمین لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی خواجہ احمد حسان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری توانائی، چیئرمین پنجاب سرمایہ کاری بورڈ، اعلیٰ حکام، چین کے قونصل جنرل یوبورن (Mr Yu Boren) اور دیگر عہدیداران بھی اس موقع پر موجود تھے۔

لاہور(جنرل رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ صوبے میں تعلیم، صحت، معیاری ہنر مند افرادی قوت کی تیاری ا ور دیگر سماجی شعبوں کی بہتری کیلئے عالمی بینک کے تعاون سے کامیابی سے پروگرام چل رہے ہیں اور اس ضمن میں عالمی بینک کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہی وجہ ہے کہ پنجاب حکومت ووکیشنل و ٹیکنیکل ٹریننگ کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانے پر خصوصی توجہ د ے رہی ہے۔ عالمی بینک گروپ کی منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف آپریٹنگ آفیسر سری ملیانی اندرا وتی کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، تعلیم، صحت،توانائی، معیاری ہنر مند افرادی قوت ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔اس موقع پرعالمی بینک کی نائب صدر برائے جنوبی ایشیا ریجن انیٹے ڈیکسن(بھی اس موقع پر موجود تھیں۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے عالمی بینک کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ۔2017-18تک صوبے کے20لاکھ نوجوانوں کو ٹیکنیکل و ووکیشنل تربیت فراہم کر کے معیاری ہنرمند افرادی قوت کی تیاری کا ہدف مقرر کیا گیاہے اور اس ضمن میں عالمی بینک کے تعاون کا خیر مقدم کریں گے کیونکہ معیاری ہنرمند افرادی قوت کی نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی بہت زیادہ مانگ ہے۔ پنجاب حکومت نے مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مارکیٹ کی کھپت کے مطابق ہنرمند افرادی قوت کی تیاری کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے تعلیم کے شعبہ میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2018 تک پنجاب کے سکولوں میں بچوں کے سوفیصد داخلے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ معیاری تعلیم کے فروغ کیلئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ہائیرایجوکیشن میں اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں جبکہ پنجاب میں زیادہ سے زیادہ وسائل عوام پر صرف کرنے کیلئے ٹیکس وصول کرنے والے اداروں کی استعدادکار میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور اس ضمن میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے استفادہ کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے رجوعہ چنیوٹ کے معدنی ذخائر کے حوالے سے عالمی بینک کے وفد کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے سے خام لوہے اور تانبے کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں اور رواں برس کے اختتام تک اس ضمن میں بزنس ماڈل تیار کر لیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عالمی بینک پنجاب میں زیر زمین چھپے ہوئے معدنی ذخائر کا درست اندازہ لگانے کیلئے سروے کے حوالے سے معاونت فراہم کر سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب حکومت توانائی کے شعبہ میں اپنے وسائل سے منصوبے لگا رہی ہے۔ قائداعظم سولر پارک بہاولپور میں 100 میگاواٹ کے منصوبے کو ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا ہے اور بجلی کی فراہمی شروع ہو چکی ہے جبکہ چین کے تعاون سے 900 میگاواٹ کا سولر منصوبہ 2016 تک مکمل ہوگا۔ اسی طرح پنجاب میں 4 ارب ڈالر کی لاگت سے گیس سے3600 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر تیز رفتاری سے کام کیا جا رہا ہے اور یہ منصوبے 2017تک بجلی کی پیداوار شروع کردیں گے۔ ساہیوال میں چین کی سرمایہ کاری سے 1320 میگاواٹ کا کول پاور پراجیکٹ بھی لگایا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ بھی 2017 میں مکمل ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں سمال ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے عالمی بینک معاونت فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں بڑے آبی ذخائر داسو ڈیم اور دیامیر بھاشا ڈیم پر کام کا آغاز کر دیا گیا ہے اور دونوں ڈیموں کیلئے اربوں روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے داسو ڈیم کے حوالے سے عالمی بینک کی مالی معاونت کی فراہمی پر وفد کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبہ میں گزشتہ 2 برس کے دوران دن رات کام کیا گیا ہے اور وزیراعظم محمد نواز شریف کی حکومت نے اس قلیل عرصے میں جتنی سنجیدہ اور مخلصانہ کاوشیں کی ہیں اس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ وزیراعلیٰ نے پنجاب میں جاری اہم ترقیاتی منصوبوں اور مستقبل کے اہداف کے حوالے سے بھی عالمی بینک کے وفد کو آگاہ کیا۔ عالمی بینک گروپ کی منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف آپریٹنگ آفیسر سری ملیانی اندرا وتی نے وزیراعلیٰ کو یقین دہانی کرائی کہ عالمی بینک صوبہ پنجاب میں 2017-18 تک 20 لاکھ نوجوانوں کو با اختیار بنانے کیلئے معیاری ہنر مندافرادی قوت کی تیاری میں ہر ممکن تعاون کا سنجیدگی سے جائزہ لے گا۔عالمی بینک کی نائب صدر برائے جنوبی ایشیا ریجن انیٹے ڈیکسن پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر راشد بن مسعود ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ناصر محمود کھوسہ اور دیگر اعلیٰ عہدیداران بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ صوبائی وزراء راجہ اشفاق سرور،ذکیہ شاہنواز ، عائشہ غوث پاشا، مشیران خواجہ سلمان رفیق، ڈاکٹر اعجاز نبی، چیف سیکرٹری خضر حیات گوندل، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، ایڈیشنل چیف سیکرٹری توانائی اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

مزید : صفحہ اول