عمران خان نے جسٹس وجیہہ الدین اور حامد خان کو جھنڈی کرا دی

عمران خان نے جسٹس وجیہہ الدین اور حامد خان کو جھنڈی کرا دی

تجزیہ:چودھری خادم حسین

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اسلام آباد میں پارٹی کی نیشنل کونسل کے اجلاس سے خطاب کیا اور اس میں جسٹس (ر) وجیہہ الدین سمیت حامد خان اینڈ کمپنی کو فارغ کر دیا اگر عمران خان کے اتنے واضح اعلان کے بعد کہ یہ فیصلہ وہ خود کریں گے کہ پارٹی کے لئے کس نے کیا اور زیادہ کام کیا؟ اب جسٹس وجیہہ الدین اور حامد خان کا یہ کہنا کہ جہانگیر ترین، عبدالعلیم خان اور پرویز خٹک پارٹی کا بوجھ ہیں بے معنی ہو کر رہ گیا کہ عمران خان نے ان کو سامنے بٹھا کر یہ سب کہا۔ حالانکہ جسٹس وجیہہ الدین کی اس سے پہلے عمران خان سے ملاقات ہوئی اور دونوں نے جماعتی انتخاب پر اتفاق کیا جسٹس (ر) کا کہنا تھا کہ عمران نے مان لیا اب ایڈہاک عہدیدار نہیں رہے، لیکن ایسا نہیں ہوا اور عملی طور پر عمران خان نے جواب معترض حضرات کو دیا ہے۔ جسٹس وجیہہ اور حامد خان باقاعدہ طور پر جہانگیر ترین عبدالعلیم خان اور پرویز خٹک پر الزام لگا رہے ہیں۔ ان کے نشانے پر شاہ محمود قریشی بھی ہیں۔

اس صورت حال سے تحریک انصاف کے مخالف اور تنقید کرنے والے پارٹی کے اندر اختلافات کا ذکر کر رہے ہیں اور کئی طرح کی کہانیاں بھی بیان کرتے ہیں، اختلافات تو برملا اور ظاہر ہیں لیکن سوال تو یہ ہے کہ جس شخصیت کے گرد پارٹی گھومتی ہے اور جس کے نام پر تحریک انصاف چل رہی ہے۔ اگر وہی فیصلہ صادر کر دے تو معترض حضرات کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے اور اب ان کے سامنے یہ راستہ کھلا ہے کہ وہ خود پارٹی کو چھوڑ دیں کہ ان کے لئے جسٹس (ر) افتخار چوہدری نے پارٹی کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ درست کہ ان سب بڑے لوگوں کے خلاف تمام الزامات کے باوجود ان کا کچھ نہیں بگڑا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تبدیلی کے چیمپئن اپنے ساتھ ’’سٹیٹس کو‘‘ والوں ہی کو لے کر آگے چلنا چاہتے ہیں۔ حامد خان اور جسٹس وجیہہ الدین بھولے بادشاہ ہیں کہ وہ حالیہ ریکارڈ بھول گئے۔ حامد خان کو جوڈیشل کمشن میں پیروی کے لئے نہیں کہا گیا۔ جسٹس وجیہہ الدین کی رپورٹ کو نہیں مانا گیا اور ناک ہاتھ الٹا کر کے پکڑ لی گئی۔ تنظیم ختم کی لیکن جہاز والوں کو ایڈہاک کے طور پر عہدے دے دیئے اس لئے سب کو یہ سوچ لینا چاہئے کہ تحریک انصاف نام ہے عمران خان کا اور جو ان کے کہے سے سرتابی کرے گا اس کی گنجائش کا حساب لگا لیں اس لئے تحریک انصاف کے معاملات کو دوسرے پہلو سے دیکھیں کہ کیا اب بھی امپائر کی انگلی والا مسئلہ ہے وہ تو اب یہ کہتے ہیں کہ میں تو کسی کا نہیں ہوں، ڈاکٹر طاہر القادری کے پیچھے کون ہے میں نہیں بتا سکتا۔

اس وقت تو محترم کپتان صاحب کے لئے قومی اسمبلی کی نشستیں اہم ہو گئی ہیں، ایک دور تھا جب انہوں نے اس پارلیمینٹ کے بارے میں کیا کیا نہیں کہا اور ایوان میں جانے سے انکار کیا۔ اب چاہتے ہیں کہ ایوان تحریک انصاف والوں کو قبول کرے، دوسری صورت میں دھمکی دیتے ہیں اگر فارغ کیا گیا تو ضمنی انتخاب میں جیت کر آ جائیں گے۔ سبحان اللہ! اتنی پیاری ہو گئی، اب جعلی پارلیمنٹ اور جعلی اسمبلی۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی تحریک انصاف کی نشستوں کی بحالی کے حق میں ہیں اس لئے مولانا فضل الرحمن اور ایم۔ کیو۔ ایم کی بات کو چھیڑ خوباں سے ہی موسوم کیا جائے امکانی طور پر یا تو قراردادیں واپس لیں گے یا پھر غیر حاضر ہو کر غیر موثر کر دیں گے جس کے بعد ایوان اعتماد کا ووٹ دے دے گا بحالی تو پہلے ہی ہو چکی ہے کہ اسمبلی سیکریٹریٹ نے تنخواہیں بھی ادا کر دی ہیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ تجربہ کار سیاست دان ہیں بات کہنے کا ڈھنگ جانتے ہیں انہوں نے کیسے ڈپلومیٹک انداز میں کہا۔ کالا باغ کا نام ہی کیوں لیا جاتا ہے اور بھی تو بہت سے ڈیم بن سکتے ہیں۔ ہم بھی سندھ میں ڈیم بنانا چاہتے ہیں کہ سیلاب کا پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ تجویز کرتے ہیں۔ حکومت کالا باغ ڈیم اور خارجہ پالیسی پر کل جماعتی کانفرنس بلائے اور قومی فیصلہ کرے، ادھر ہمارے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ کالا باغ ڈیم ضروری ہے لیکن اس کے لئے قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے وزیر اعظم تو چاہتے ہیں لیکن چاروں صوبوں کا متفق ہونا ضروری ہے۔ خیبرپختون خوا کی حکومت معترضین کو سمجھائے۔

بات سب پتے کی کرتے ہیں۔ عملی طور پر معلوم نہیں کیوں ایسا نہیں ہوتا۔ یہ سب قومی سیاست دان ہیں۔ ان کو قومی سطح پر سوچنا ہوگا۔ وزیر اعظم قائدحزب اختلاف کی بات مان لیں۔ قومی کانفرنس کالا باغ ڈیم کے بھی حق میں ہو سکتی ہے؟

مزید : تجزیہ