کل جماعتی حریت کانفرنس بھارتی حکومت کے منصوبے کے خلاف رائے عامہ منظم کرے گی

کل جماعتی حریت کانفرنس بھارتی حکومت کے منصوبے کے خلاف رائے عامہ منظم کرے گی

سری نگر (کے پی آئی) کل جماعتی حریت کانفرنس نے ریٹائرڈ فوجیوں اور ان کے بچوں کو جموں کشمیر میں مستقل طور بسانے کے بھارتی حکومت کے منصوبے کے خلاف رائے عامہ منظم کرنے کی مہم شروع کر دی ہے ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس ( گ )کے ترجمان نے کہا ہے کہ حریت کانفرنس نے اس اہم ایشو پر جملہ آزادی پسند قیادت کے ساتھ ساتھ ماہرین قانون اور سماج کے ہر طبقے کے ساتھ مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور رائے عامہ کو اس کے خلاف منظم کرنے کے لیے ہر ممکن طریقے سے مہم چلائے جانے پر اتفاق کیا ہے۔ حریت نے عالمی اداروں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بھارت کو اس طرح کی خطرناک مہم جوئی سے باز رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے اور کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے میں کشمیری عوام کا ساتھ دیں۔ ترجمان نے ریٹائیرڈ فوجیوں اور ان کے بچوں کو جموں کشمیر میں مستقل طور بسانے کے بھارتی حکومت کے منصوبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں کشمیر بین الاقوامی سطح کا ایک تسلیم شدہ متنازعہ خطہ ہے اور اس کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے، لہٰذا سابق فوجیوں کو کشمیر میں زمین الاٹ کرنا اور یہاں بسانا بین الاقواقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اس کا کوئی آئینی یا اخلاقی جواز نہیں ہے۔ جموں کشمیر بھارت کی یو پی، ایم پی یا بہار طرز کی کوئی ریاست نہیں ہے، بلکہ اس کا اسٹیٹس(Status)بالکل الگ اور مختلف ہے۔ حریت نے کہا کہ سابق فوجیوں کو کشمیر میں زمین فراہم کرنا خود ریاستی آئین کی بھی خلاف ورزی ہے اور ریاستی آئین میں بھارت کی حکومت کوئی ترمیم کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ اخبارات کے لیے جاری بیان میں حریت ترجمان نے کہا کہ آزادی پسند جماعتوں کے فورم نے اس سنگین اور اہم ایشو پر 22؍جولائی کو مجلس شوریٰ کا ایک اہم اجلاس طلب کیا تھا ۔

جس میں حکومت کو خبردار کیا گیا کہ اس منصوبے کو عملانے کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں دی جائے گی اور سابق فوجیوں کو یہاں زمین الاٹ کی گئی تو اس کے خلاف ایک عوامی تحریک شروع کی جائے گی۔ حریت کانفرنس نے اس اہم اور سنجیدہ ایشو پر مفتی حکومت کے روئیے کو مبہم اور مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے راجیہ سبھا میں کہا ہے کہ انہوں نے سابق فوجیوں کو زمین الاٹ کرنے کے حوالے سے 16جولائی کو ریاستی حکومت کو ہدایت جاری کردی ہے، البتہ مفتی سعید حکومت نے ابھی تک اس آرڈر کے بارے میں کوئی لب کُشائی نہیں کی ہے اور نہ اس کی طرف سے تردید یا تائید کی گئی ہے۔ حریت کانفرنس نے مفتی محمد سعید کو مخاطب کیا کہ انہیں اس اہم ایشو پر ریاستی حکومت کا موقف عوام کے سامنے لانا چاہئے کہ وہ بھارتی وزیر دفاع کے غیر آئینی حکمنامے کو قبول کرتی ہے یا ریاستی آئین کی پاسداری کرتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ سابق فوجیوں کو یہاں مستقل طور بسانے کا منصوبہ جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن اور متنازعہ حیثیت کو براہِ راست طور چوٹ پہنچانے کی ایک کوشش ہے اور ریاستی عوام اس طرح کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

مزید : عالمی منظر