حقوق کی پامالی تو نہ کریں

حقوق کی پامالی تو نہ کریں
 حقوق کی پامالی تو نہ کریں

  

قومی عوامی تحریک نے یکم اگست کو اپنے دس روزہ دھرنے ختم کئے ۔اور دو روز کے لئے کراچی میں دھرنے دینے کا اعلان کیا۔ یہ دھرنے کرپشن اور دہشت گردی کے خلاف لگاے گئے تھے۔ ان علامتی دھرنوں کے ذریعہ تحریک رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ صوبہ سندھ میں سرکاری سطح پر جو کرپشن پائی جاتی ہے۔ اس کے خلاف کارروائی ہو اور ذمہ دار لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ تحریک طویل عرصے سے صوبے میں رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے مختلف شہروں میں جلوس نکال چکی ہے اور لوگوں کو بیدار کرنے میں مصروف ہے۔ حیدرآباد کے دھرنوں میں تحریک کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے کئی ایسے سیاسی رہنماؤں نے بھی شرکت کی جو پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ سے سیاسی اختلاف رکھتے ہیں۔ سیاسی اختلاف کسی بھی جمہوری معاشرے کے لئے خوش آئند علامت ہوا کرتی ہے، لیکن جب یہ اختلاف اخلاقی حدود کو عبور کرے تو بدمزگی پیدا ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا پیپلز پارٹی کے اس لحاظ سے اہم رہنما تصور کئے جاتے تھے کہ وہ پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے نہایت با اعتماد دوست ہوا کرتے تھے۔ انہیں 2008 کے انتخابات کے بعد صوبہ میں وزیر داخلہ مقرر کیا گیا تھا۔ وہ بااختیار وزیر تھے۔ وہ حکومت کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی طاقت رکھتے تھے۔ اچانک آصف زرداری کے ساتھ ان کے تعلقات ختم ہو گئے ۔ انہوں نے ٹی وی پر لگا تار انٹر ویو دینا شروع کئے ۔ ایک روز آصف زرداری ان کے گھر پہنچ گئے ۔ اس ملاقات کے بعد ان کے حملے بند ہو گئے۔ مرزا کی اہلیہ ڈاکٹر فہمیدہ پیپلز پارٹی کی قومی اسمبلی اور صاحبزادے حسنین مرزا صوبائی اسمبلی کے رکن ہیں۔ جب سندھ میں مرزا وزیر داخلہ تھے تو بیگم صاحبہ قومی اسمبلی کی اسپیکر تھیں۔ مرزا کی خاموشی مستقل ثابت نہ ہوئی ۔ اچانک وہ پھر بھڑک اٹھے ۔ اس بار پہلے سے زیادہ مشتعل تھے۔ یہ اشتعال کا نتیجہ ہی ہے کہ وہ سیاست میں ایسی زبان کو استعمال کررہے ہیں جو سب ہی کے لئے نا پسندیدہ تصور کی جاتی ہے۔

اس بار وہ اتنے برہم تھے کہ انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ایسے جملے کہے جو نقل کرنے کا بھی حوصلہ نہیں، اسی طرح کی قابل اعتراض معیوب زبان انہوں نے حیدرآباد کے جلسے میں بھی استعمال کی۔ آج کے کسی وزیر کا والد اگر مرزاؤں کا غلام تھا تو اس میں بیٹے کا کیا قصور؟ اور بیٹا بھی وہ جسے کل تک مرزا کی قربت حاصل تھی۔ اگر کسی اور رہنماء کا والد چور تھا تو بیٹا کیوں اس کا ذمہ دار ٹہرا۔ (میں دانستہ لوگوں کے نام نہیں لکھ رہا ہوں ورنہ مرزا نے تو بھرے جلسہ میں ان لوگوں کے نام لئے تھے) مرزا اگر ٹھنڈے دل سے غور کریں تو انہیں خود محسوس ہوگا کہ وہ اپنے کل کے دوستوں اور آج کے سیاسی مخالفین کے ساتھ بہتر سلوک اختیار نہیں کر رہے ہیں۔

اندر کے لوگوں کو علم ہے کہ مرزا کا دل بہت جلا ہوا ہے کیوں کہ ان کے سابق دوست آصف علی نے جب یہ طے کرلیا کہ مرزا کے ساتھ تعلق نہیں رکھنا تو انہوں نے مرزا کو ان ملکیتوں سے محروم کرنا شروع کر دیا جو بظاہر مرزا کی نگرانی میں تھیں۔ آصف علی زرداری کی بے انتہا جائیدادیں اور ملکیتوں ان کے با اعتماد لوگوں کے نام پر ہیں۔ ان ہی لوگوں میں سے ایک انور مجید بھی ہیں جو ان تمام شوگر ملوں کی نگرانی کرتے ہیں جو براہ راست اور بالواسطہ آصف علی زرداری کی ملکیت کہی جاتی ہیں۔ انور مجید نے ہی آصف زرداری کے کہنے پر پنگریو شوگر مل پر بھی قبضہ کیا جو نئے تنازعہ کا سبب بنا۔مرزا نے انور مجید کو بھی اپنا دشمن تصور کر لیا حالانکہ وہ تو ’’ صاحب ‘‘ کے حکم کا غلام ہے۔ جب اختلاف کر تے کرتے کوئی کسی کے گھر میں داخل ہو جائے ، اسے بڑا ہی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ کسی کی بیوی خوبصورت ہو یا بد صورت ، اس کا کھلے بندوں تذکرہ اخلاقی قدروں کو پامال کرنا ہوتا ہے۔ لوگ اسے معیوب سمجھتے ہیں کہ کسی کی بیوی، بہن یا بیٹی کا تذکرہ اس طرح کیا جائے جو ان کی تضحیک کا باعث بنتا ہو۔ وہ خواہ، مخالف ہی کیوں نہ ہو۔ جب جلسہ میں خواتین بھی موجود ہوں تو کسی کی خوبصورت بیوی کا تذکرہ ایسے الفاظ میں جو اس خاتون پر کھلے بندوں آگ پھینکنے کا سبب بنے ، اس کی بے عزتی کرنا نہیں، بلکہ اسے قتل کرنے کے برابر ہے۔ دنیا کے ہر معاشرے میں بہو، بیٹی کا احترام ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے اور رکھا جانا چاہئے۔

مرزا تعلیم یافتہ شخص ہی نہیں ،بلکہ بہت ہی تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے خاندان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔ انہیں اپنی تقاریر میں الفاظ کا چناؤ بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے۔ یہ درست ہے کہ انہیں غصہ جلدی آتا ہے اور وہ اس پر قابو پانے میں ناکام رہتے ہیں۔ یہ ہی وقت تو انسان کے اپنے دائرہ اختیار میں لانا ہوتا ہے جو غصہ آئے اور وہ اس پر قابو پا لے ، اسے ہی تو انسان کی اعلیٰ صفت تصور کیا جاتا ہے۔ یہ تو عدالت ہی فیصلہ کر سکتی ہے کہ مرزا کے حقوق کی پامالی کہاں تک ہوئی ہے، لیکن مرزا کو تو دوسروں کے حقوق کی پامالی کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ انہیں کسی کو عوام میں کھڑے ہو کر گالیاں دینے کا حق حاصل نہیں ہے۔ سیاست میں احترام اور اخلاق کو ملحوظ خاطر رکھنا نہایت اہم ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس کی وجہ سے تصادم کا احتمال نہیں رہتا ۔ اگر تصادم ہی مقصد ہے تو دور غلامی ختم نہیں ہوا۔ تلواریں تھما کر مخالفین کو میدان میں اتار دیا جاتا اور انہیں اس وقت تک میدان میں ہی رہنا ہوتا ہے جب تک ایک دوسرے کو زیر نہیں کرلیتے۔ اسی دور سے تو تائب ہو کر دنیا نے جمہوریت کو بہتر جانا۔

قومی عوامی تحریک کرپشن اور دہشت گردی کے خلاف رائے عامہ ہموار کر رہی ہے، نیک کام ہے، بہتر کام ہے، وقت کی ضرورت بھی ہے کیوں کہ کوئی بھی معاشرہ کرپشن، دہشت گردی کا بوجھ اٹھا کر نہیں چل سکتا ، لیکن معاشرے ناانصافی، بد اخلاقی اور لوگوں کی سر عام بے عزتی کی وجہ سے بھی پر سکوں نہیں رہا کرتے ہیں۔ قومی عوامی تحریک کو پاکستان میں عوام کے ساتھ روا ناانصافی کے خلاف بھی آواز بلند کرنا چاہئے۔ وہ تمام لوگ جنہیں عوامی تحریک کرپشن کا ذمہ دار قرار دیتی ہے، اور واقعی جس طرح عوام کے لئے مختص رقوم پر ڈاکے ڈالے گئے ہیں، ترقیاتی کاموں کے لئے مختص رقوم کو لوٹا گیا ہے ، اس کی وجہ سے عوام کو حاصل ہونے والی سہولتوں کو چھینا گیا ہے، اس کا تو تقاضہ ہے کہ لوگ میدان عمل میں آئیں اور ایسے لوگوں کے خلاف احتجاج کریں، اور انہیں اپنے ووٹ سے محروم رکھیں ، لیکن اس سے زیادہ آسان راستہ عدالتوں کی طرف جاتا ہے۔ اگر انصاف کی فراہمی آسان ہو، سستی ہو تو لوگ خود بھی ایسے عناصر کے خلاف عدالتوں سے رجوع کر کے اپنے حقوق اور اپنی رقومات کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ اس تماش گاہ میں ایک ہی وقت میں کئی معاملات کو بہتر کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ کرپشن، دہشت گردی، ناخواندگی، ناانصافی، غیر اخلاقی زبان کا استعمال وغیرہ ان میں شامل ہیں۔

مزید : کالم