یمن سعودی اتحادیوں کا زمینی حملہ، سینکڑوں فوجی عدن داخل، حوثی مشروط مذاکرات کیلئے تیار

یمن سعودی اتحادیوں کا زمینی حملہ، سینکڑوں فوجی عدن داخل، حوثی مشروط مذاکرات ...
یمن سعودی اتحادیوں کا زمینی حملہ، سینکڑوں فوجی عدن داخل، حوثی مشروط مذاکرات کیلئے تیار

  

صنعاء(ویب ڈیسک) سعودی اتحادی فوج نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کیخلاف زمینی کاروائی شروع کردی ہے اور سینکڑوں فوجی عدن میں داخل ہوگئے ہیں دوسری طرف حوثی رہنما نے مشروط مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق سعودی اتحادی فوج یمن کے دورے بڑے شہر عدن کی جنوبی بندرگاہ میں ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں سمیت داخل ہوگئی ہے۔ سعودی عرب کے ایک اخبار الحیات نے لکھا ہے کہ عدن میں 1500فوجی داخل ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر تعداد متحدہ عرب امارات کے اہلکاروں کی ہے۔ یاد رہے متحدہ عرب بھی حوثی باغیوں کیخلاف جنگ میں سعودی عرب کا اتحادی ہے اور 4ماہ سے جاری باغیوں کے خلاف فضائی حملوں میں حصہ لے رہا ہے۔ دوسری طرف حوثیوں کے رہنما عبدالمالک مشروط طور پر مذاکرات کی پھر پیشکش کی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ وہ تمام معاملات سیاسی طور پر حل کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنیوا میں امن مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں وہ کسی تیسرے فریق کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ مذاکرات کی پہلی شرط کے طور انہوںنے کہا کہ بات چیت ٹی وی چینل پر براہ راست دکھائی جائے تاکہ سب کو معلوم ہو سکے ہیں کہ مذاکرات ناکامی کا کون ذمہ دار ہے۔ ہم مذاکرات کیلئے کسی بھی غیر جانبدار ملک کو خوش آمدید کہتے ہیں علاوہ ازیں عبدالمالک الحوثی نے اپنے ایک ٹی وی خطاب میں اپنے جنگجوں سے کہا ہے کہ وہ لڑائی جاری رکھیں۔ انہوں نے عدن سے حوثیوں کی پسپائی کو محدود اور ماہ رمضان کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حوثی جنگجو رمضان کے اختتام پر عدن سے نکلے تاکہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ عید مناسکیں اور اس کا فائدہ دشمن نے اٹھایا۔

مزید : بین الاقوامی