مردوں کو دراصل مردانہ طاقت کی دوائیوں کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ۔۔۔ ماہرین نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

مردوں کو دراصل مردانہ طاقت کی دوائیوں کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ۔۔۔ ماہرین نے ...
مردوں کو دراصل مردانہ طاقت کی دوائیوں کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ۔۔۔ ماہرین نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ مردوں میں جنسی رغبت کم ہوتی چلی جاتی ہے اور 60سال کی عمر کے بعد اس میں نمایاں کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ اس حوالے سے دنیا بھر میں ایک تاثر عموماً پایا جاتا ہے کہ ویاگرا یا ایسی ہی دوسری قوت بخش ادویات مردوں میں جنسی رغبت پیدا کرتی ہیں لیکن ایک تحقیق میں اس تاثر کی نفی کی گئی ہے۔ برطانوی ڈاکٹروں پروفیسر میلکم کیرتھر اور پروفیسر ہیکٹ کا کہنا ہے کہ مرد میں موجود ٹیسٹاسٹرون (Testosterone)اس کی جنسی رغبت کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور اس ہارمون کی پیداوار عمر کے ساتھ ساتھ کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ برطانوی اخبار کے مطاطق تحقیق کاروں نے کئی مردوں پر اس کے تجربات کیے جن میں69سالہ رونڈے ہلٹن بھی شامل تھا۔ ہلٹن جب 60سال کا ہواتو اس نے محسوس کیا کہ اس میں جنسی رغبت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے لیے اس نے بھی دیگر مردوں کی طرف قوت بخش ادویات کا سہارا لیا۔ بعد ازاں اس نے اس کی اصل وجہ جاننے کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کیا جہاں اس کے خون کے ٹیسٹ کیے گئے اور ڈاکٹروں نے اسے بتایا کہ اس میں ٹیسٹاسٹرون نامی ہارمون کی پیداوار بہت کم ہو رہی ہے۔ ڈاکٹروں نے اسے ٹیسٹاسٹرون کے انجکشن دیئے جس سے قوت بخش ادویات کی ضرورت نہ رہی۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے کلک کریں

آئی فون ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے کلک کریں

ہلٹن کا کہنا تھا کہ ٹیسٹاسٹرون کے انجکشن لگنے سے اس کی شخصیت میں بھی نمایاں تبدیلیاں آئیں۔اس کا چڑچڑا پن پہلے سے بہت کم ہو گیا تھا اور اسے اب غصہ بھی نہیں آتا تھا۔ ڈاکٹروں نے اسے بتایا کہ یہی ہارمون انسان کے چڑچڑے پن اور غصیلے مزاج کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ جس مرد میں ٹیسٹاسٹرون کی کمی ہو وہ بہت چڑچڑا اور غصیلا ہو جاتا ہے۔ دونوں ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ جن مردوں کو اس قسم کے مسائل کا سامنا ہو ضروری ہے کہ ان کا ٹیسٹاسٹرون لیول بھی چیک کرلیا جائے ممکن ہے کہ ان کے مسائل کی وجہ اس کی کمی ہو۔

مزید : ڈیلی بائیٹس