مقتول کے ورثاءسے صلح ،کیادہشت گردی کے مجرم کو رعایت مل سکتی ہے? سپریم کورٹ نے قاتل کی پھانسی روک دی

مقتول کے ورثاءسے صلح ،کیادہشت گردی کے مجرم کو رعایت مل سکتی ہے? سپریم کورٹ نے ...
مقتول کے ورثاءسے صلح ،کیادہشت گردی کے مجرم کو رعایت مل سکتی ہے? سپریم کورٹ نے قاتل کی پھانسی روک دی

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی) سپریم کورٹ نے سزائے موت کے قیدی اللہ دتہ کو آج 5اگست کوکوٹ لکھپت جیل میں دی جانے والی پھانسی پر تاحکم ثانی عملدرآمد روکتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگرچہ بظاہردہشت گردی کے جرائم قابل راضی نامہ نہیں ہیںاس کے باوجود عدالت اس بات کا جائزہ لینا چاہتی ہے کہ مقتول کے ورثاءمجرم کو معاف کردیں تو کیا اس کی سزاختم یا اس میں کمی کی جاسکتی ہے ۔

مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار اور مسٹر جسٹس اعجاز احمد چودھری پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اللہ دتہ کی پھانسی کے خلاف عبوری حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے مزید ریمارکس دیئے کہ یہ انسانی جان کا معاملہ ہے اس لئے عدالت مذکورہ قانونی نکتہ کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہتی ہے ۔فاضل بنچ نے اس نکتہ پر معاونت کے لئے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو بھی طلب کرلیا ہے ۔مجرم اللہ دتہ کے بیٹے شہزاد احمد نے درخواست دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اللہ دتہ کو 2003ءمیں دیپالپور میں پولیس مقابلے کے دوران ایک اہلکار حافظ اقبال کو قتل کرنے کے جرم میں انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت موت کی سزا سنائی گئی جس کے خلاف اعلیٰ عدلیہ سے اپیلیں بھی خارج ہو گئیں، اپیلیں خارج ہونے کے بعد فریقین میں قتل کے جرم میں راضی نامہ ہوگیا ، اسی راضی نامے کی بنیاد پر دہشت گردی عدالت میں دہشت گردی قانون کے تحت سنائی گئی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے یا ختم کرنے کی درخواست دائر کی گئی مگر ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ نے ان کی یہ درخواستیں مسترد کر دیں اور اب سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے۔ 

انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ قتل کے جرم میں راضی نامہ ہونے کے بعد دہشت گردی قانون کے تحت سزا بھی متنازع ہو جاتی ہے مگر اب اللہ دتہ کو 5اگست کے لئے کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دینے کے لئے ڈیتھ وارنٹ جاری کئے گئے ہیں، انہوں نے استدعا کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے تک پھانسی پر عملدرآمد روکا جائے اور اس نئے قانونی نکتہ کی وضاحت کی جائے، مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ یہ انسانی جان کا معاملہ ہے، اس لئے عدالت تمام پہلوﺅں پر تسلی بخش دلائل سننا چاہتی ہے ، دو رکنی بنچ نے اللہ دتہ کی پھانسی پرعملدرآمد روکتے ہوئے عدالتی فیصلے سے فوری طور پر کوٹ لکھپت جیل انتظامیہ کو آگاہ کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے پراسکیوٹر جنرل پنجاب احتشام قادرکو 11اگست کو اسلام آباد میں طلب کرتے ہوئے معاونت طلب کی ہے کہ کیا قتل کے جرم میں راضی نامہ ہونے کے بعد دہشت گردی قانون کے تحت سزا بھی متنازع ہو جاتی ہے اور کیا سپریم کورٹ کو قتل کے جرم میں راضی نامہ ہونے کے بعد دہشت گردی قانون کے تحت سزاکو کم کرنے یا ختم کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

مزید : لاہور