قذافی کے بیٹے الساعدی پرتشدد کی ویڈیو نے نیا معمہ کھڑا کر دیا

قذافی کے بیٹے الساعدی پرتشدد کی ویڈیو نے نیا معمہ کھڑا کر دیا
قذافی کے بیٹے الساعدی پرتشدد کی ویڈیو نے نیا معمہ کھڑا کر دیا

  

دبئی (اے این ایں)لیبیا کے مقتول لیڈر کرنل معمر القذافی کے بیٹے الساعدی القذافی کو باغیوں کے زیر کنٹرول "الھضبہ" نامی جیل میں بہیمانہ تشدد کا نشانے کی ویڈیو نے نیا معمہ کھڑا کر دیا ، 27 مارچ 2014 کو بیس دن تک جیل میں رہنے کے بعد الساعدی القذافی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ دوران حراست اس کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کیا گیا، اپنی اور مقتول والد معمر قذافی کے ہاتھوں عوام کو پہنچنے والے دکھوں پر معذرت کی تھی۔

سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہونے والی فوٹیج میں الساعدی القذافی کو ایک جیل میں قید دکھایا گیا ہے جہاں کچھ اہلکار اسے تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ فوٹیج میں الساعدی کو نیلے رنگ کے کپڑے پہنائے گئے ہیں۔ اگرچہ ویڈیو میں دکھائے گئے مناظر مکمل نہیں ہیں تاہم دکھائے گئے مناظر سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ دوران حراست انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ 2014 میں نیجر کی جانب سے الساعدی کی لیبیا کے حکام کو حوالگی کے بعد انہیں الھضبہ نامی جیل میں رکھا گیا۔

ان پروحشیانہ تشدد کی تازہ ویڈیو کے بعد اس وقت کے وزیراعظم علی زیدان سے بات کی گئی تو پہلے تو انہوں نے تشدد کی تردید کی تاہم بعد میں خود ہی اپنی بات واپس لے لی اور کہا کہ جب الساعدی کو الھضبہ جیل میں رکھا گیا تھا تو اس وقت جیل کا سپرنٹنڈنٹ خالد الشریف نامی ایک عہدیدار تھا جس کے مبینہ طورپر عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ بھی تعلقات قائم تھے۔ انہوں نے الساعدی پر مبینہ تشدد پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر الساعدی پر واقعی تشدد کیا گیا ہے تو اس کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ دوسری جانب لیبیا کے پراسیکیوٹر جنرل نے فوٹیج کی تحقیقات شروع کردی ہیں اور اس میں تشدد کے مرتکب نامعلوم سیکیورٹی اہلکاروں کی شناخت کی جا رہی ہے۔

مزید : بین الاقوامی