بھارت سے دوستی،امریکہ نے معصوم کشمیریوں کی شہادت پر مذمت کرنا بھی گوارا نہ کیا

بھارت سے دوستی،امریکہ نے معصوم کشمیریوں کی شہادت پر مذمت کرنا بھی گوارا نہ ...
بھارت سے دوستی،امریکہ نے معصوم کشمیریوں کی شہادت پر مذمت کرنا بھی گوارا نہ کیا

  



واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک طرف کشمیر میں غاصب بھارتی فوجیں معصوم کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیل رہی ہیں تو دوسری جانب انسانی حقوق کے چیمپیئن ہونے کے دعویداروں نے طوطاچشمی اختیار کرلی۔بات بات پر انسانی حقوق کی بات کرنے والے امریکہ نے کشمیر میں مظالم کی روک تھام کیلئے آواز اٹھانا تودرکنا ر معصوم کشمیریوں پر ہونے والے انسانیت سوز سلوک کی مذمت کرنا بھی گوارا نہ کیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق واشنگٹن میں ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان امریکہ کا اہم اتحادی ہے، پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات امریکہ کے مفاد میں ہیں جب کہ کانگریس کمیٹی کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی فوجی امداد روکے جانے پر اتفاق نہیں کرتے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی سے بہت زیادہ نقصان اٹھا چکا اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دہشت گردی کے خلاف اقدامات قابل ستائش ہیں لیکن پاکستان کو تمام شدت پسندوں کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کرنا ہو گی۔

مارک ٹونر نے کہا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے 6 جولائی کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں تاہم ان کی مدت ملازمت کی توسیع پر بات نہیں کر سکتا۔ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے کہنا تھا کہ امریکہ نے کشمیر کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل نہیں کی، کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور بھارت دونوں کو مل کر حل کرنا ہے تاہم مارک ٹونر نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کی ہلاکت کی مذمت سے گریز کرتے ہوئے بھارت سے اپنی دوستی کا پورا حق ادا کیا۔

روزنامہ پاکستان کی خبریں اپنے ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 6 روز قبل تحریک آزادی کے نوجوان رہنما برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں میں بھارتی فوج کے ہاتھوں اب تک 35 کشمیری شہید اور 1500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی