رابعہ نے ہوٹل میں خودکشی کی، حساس ادارے کے ’’دوست‘‘ افسر کو مارنے آئی تھی

رابعہ نے ہوٹل میں خودکشی کی، حساس ادارے کے ’’دوست‘‘ افسر کو مارنے آئی تھی
رابعہ نے ہوٹل میں خودکشی کی، حساس ادارے کے ’’دوست‘‘ افسر کو مارنے آئی تھی

  

لاہور (ویب ڈیسک) مال روڈ پر معروف ہوٹل میں کنپٹی پر گولی لگنے سے لڑکی رابعہ نصیر کی ہلاکت کیس میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق لڑکی حساس ادارے کے افسر کی بے رُخی پر اسے قتل کرنے کی نیت سے پسٹل لیکر ہوٹل پہنچی مگر افسر کے ہوٹل آنے سے انکار پر اس نے دلبرداشتہ ہوکر خود کو گولی مارکر خودکشی کرلی۔

روزنامہ نوائے وقت کے مطابق رپورٹ میں بتایا ہے کہ لڑکی رابعہ نصیر کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ رینجرز (ڈی ایس آر) 42 سالہ عامر خٹک کے ساتھ تعلقات تھے۔ عامر خٹک پہلے سے شادی شدہ تھا۔ ان تعلقات کا عامر خٹک کے اہل خانہ کو بھی پتہ چل چکا تھا جس پر عامر خٹک کی بیوی چند روز قبل رابعہ نصیر کے گھر باٹاپور پہنچی اور اس نے وہاں رابعہ نصیر کے گھر والوں سے جھگڑا کیا اور دھمکیاں دیں۔ ذرائع کے مطابق اس موقع پر رابعہ نصیر اور عامر خٹک کی بیوی کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ رابعہ نصیر اس واقعہ پر عامر خٹک کے ساتھ اپنے افیئر کا والدین اور بھائیوں کے علاوہ محلے داروں کو بھی پتہ چلنے پر بدنامی اور شدید پریشانی سے دوچار ہوئی تھی۔ اس واقعہ کے بعد عامر خٹک نے بھی رابعہ نصیر کو نظرانداز کرنا شروع کردیا کیونکہ عامر خٹک کی بیوی سے اس معاملے پر تعلقات کشیدگی اختیار کرچکے تھے۔

رابعہ نصیر نے اپنی بدنامی، عامر خٹک کی بیوی کے بے عزت کرنے اور خود عامر کی طرف سے اسے نظرانداز کرنے پر اس نے عامر خٹک کو قتل کرکے خودکشی کرنے کا پروگرام بنایا اور وہ سخت سکیورٹی کے باوجود پسٹل لیکر مال روڈ کے ہوٹل میں پہنچ گئی مگر اس کے بے حد اصرار کے باوجود عامر خٹک نے ہوٹل آنے سے انکار کردیا جس پر دلبرداشتہ ہوکر رابعہ نصیرنے خود کو باتھ روم میں بند کرکے پہلے موبائل فون پر ویڈیو کال کرکے عامر خٹک کو ڈرانے کیلئے ایک ہوائی فائر کیا جوکہ باتھ روم کی چھت پر لگا جس کے بعد دوسرا فائر اپنی کنپٹی پر کیا۔ ذرائع کے مطابق رابعہ کے پسٹل میں گولیاں بھرا میگزین کے علاوہ ایک اضافی میگزین بھی ملا۔ لگتا ہے کہ رابعہ نصیر اپنے آشنا عامر خٹک کو قتل کرنے کے بعد خود کو بھی گولی مارکر خودکشی کے منصوبے سے ہوٹل آئی تھی مگر یہ بات طے ہے کہ رابعہ نصیر، عامر خٹک کو موت کے گھاٹ اتارنا چاہتی تھی۔

علاوہ ازیں پولیس انویسٹی گیشن اور فرانزک رپورٹ کے مطابق رابعہ نصیر نے جدید برسٹڈ پستول سے خود کو دونوں ہاتھوں سے گولی ماری کیونکہ فرانزک ٹیسٹ کے مطابق متوفیہ کے دونوں ہاتھوں میں بارود لگا ہوا تھا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق ہوٹل کے باتھ روم میں صرف ایک فرد کی گنجائش ہے اور جائے وقوعہ سے کسی بھی دوسرے شخص کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔ پولیس کے مطابق ہوٹل کے ملازمین نے جائے وقوعہ سے نعش کو ہٹایا اور پستول اٹھا کر ڈسٹ بن میں پھینک دی تھی جبکہ سکیورٹی کی غفلت کے باعث ہی رابعہ ہوٹل میں پستول لانے میں کامیاب ہوئی۔ ان تمام ملازمین کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔ دوسری طرف عامر خٹک نے پولیس کے سامنے پیش ہوکر رابعہ نصیر کی موت کے حوالے سے بیان ریکارڈ کرا دیا۔ اس نے کہا کہ اسکی رابعہ سے دوستی تھی، رابعہ نے ہوٹل اسے ملنے کیلئے بلایا مگر اس نے انکار کر دیا جس پر رابعہ نے خود کو گولی مارکر خودکشی کرلی، پولیس مزید تفتیش کررہی ہے۔

مزید :

لاہور -