ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکامی

ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکامی
 ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکامی

  

حال ہی میں ترکی کے عوام نے فوج کے ایک حصے کی جانب سے ہونے والی فوجی بغاوت ناکام بنا دی۔ یہ بظاہر تو بڑی خوشی کی بات ہے کہ ہمارے اِس برادر مسلم مُلک میں جمہوریت اِس قدر پختہ ہو چکی ہے اور عوام جمہوریت کے مثبت اثرات کے اس قدر معترف ہو چکے ہیں کہ انہوں نے ٹینکوں کے آگے لیٹ کر اور اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر اسے بچانے کی کامیاب کوشش کی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ لمحہ فکریہ بھی ہے، کیونکہ کسی فوج کے اندر تقسیم یا دراڑ کا پیدا ہو جانا ایسا معاملہ نہیں کہ اسے آسانی سے نظر انداز کر دیا جائے۔ اسے ایک گھمبیر صورت حال کہا جا سکتا ہے، جو اس وقت ترکی اور اس کے عوام کو درپیش ہے۔ یہ معاملہ اُس وقت مزید تشویشناک نظر آتا ہے جب یہ سوچا جائے کہ داعش جیسی وحشی تحریک ترکی کے دروازے پر دستک دے رہی ہے، ترکی اور پورے یورپ کو شام، عراق اور دوسرے علاقوں سے آنے والے پناہ گزینوں کے سیلاب کا سامنا ہے اور روس کی مداخلت کے باوجود شام کے داخلی حالات میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی۔ اگرچہ ترکی میں ہونے والی حالیہ فوجی بغاوت پوری فوج کی جانب سے نہیں تھی، بلکہ فوج کے ایک حصے نے بغاوت کی تھی اور ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ6000 سے زیادہ فوجیوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں اعلیٰ رینک کے فوجی بھی شامل ہیں، جبکہ104 باغی فوجیوں کی ہلاکت کی خبر ملی،پھر بھی سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟فوج کے ایک حصے کو حکومت کا تختہ الٹنے کا خیال کیوں آیا، ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ ترکی کے فوجیوں کی کل تعداد6لاکھ39ہزار ہے اور گرفتار یا معطل کئے گئے فوجی اہلکاروں و افسروں کی تعداد کو دیکھا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان میں سے محض چند ہزار نے اس بغاوت میں حصہ لیا۔ اس طرح یہ ایک جزوی بغاوت تھی، اِسی لئے یہ کامیاب نہیں ہو سکی۔

ترکی پچھلے تقریباً ایک سو سال میں کئی بار مارشل لاؤں اور آمرانہ حکومتوں کا سامنا کر چکا اور خمیازہ بھگت چکا ہے اور اس حالیہ بغاوت سے محسوس ہوتا ہے اسے شاید آئندہ بھی ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ اندیشہ اس وقت خاص طور پر درست محسوس ہونے لگتا ہے، جب یہ سوچا جائے کہ اس بغاوت کے پیچھے کچھ مغربی طاقتوں کا ہاتھ ہے۔ صدر طیب اردوان نے بغاوت ناکام ہونے کے تین روز بعد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قرار دیا کہ امریکہ ترکی کو توڑنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغاوت ایسی قوتوں کی آشیر باد سے کی گئی، جو ترکی کو متحد نہیں دیکھنا چاہتیں۔ ان کا یہ دعویٰ درست ہو سکتا ہے، لیکن میرے خیال میں برادر مسلم مُلک جن حالات اور جس طرح کے داخلی خلفشار کا شکار ہے، ان کے پیش نظر صدر طیب اردوان کو اس طرح کھل کر امریکہ اور اس کی ہم نوا مغربی طاقتوں کی طرف براہِ راست اشارہ نہیں کرنا چاہئے تھا۔ حالیہ بغاوت کی صورت میں اللہ نے انہیں فوج کی تطہیر کا موقع فراہم کر دیا ہے۔اگر اس موقع سے فائدہ اٹھایا گیا تو ترکی آئندہ کے لئے ایسی بغاوتوں سے نجات حاصل کر لے گا، بصورت دیگر ایسے خطرات آئندہ بھی جمہوریت کے سروں پر منڈلاتے رہیں گے۔ فی الوقت فوج کو متحد اور منظم رکھنا ہی صدر طیب اردوان اور وزیراعظم یلدرم کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ فوج کے اندر پیدا ہونے والی تقسیم ختم ہونی چاہئے۔ اگر یہ تقسیم ختم نہ کی جا سکی تو ترکی فوجی بغاوت ناکام بنانے کے باوجود ہار جائے گا، کیونکہ اس طرح مستقبل میں بھی فوج کے اندر سے باغی گروہ نکلتے رہیں گے۔ ترکی میں جمہوریت بچ گئی، لیکن یہ بغاوت ظاہر کرتی ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے، کیونکہ فوج ہی ترکی کی جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہے۔ یہ ترکی کے عوام کے لئے بھی اچھا نہیں۔

ان حالات میں بالفرض داعش حملہ کر دے یا یورپ کی طرف سے کوئی مُلک آگے بڑھنے کی کوشش کرے،صدر طیب اردوان کے اعلان کے ردعمل میں امریکہ ہی طاقت آزمائی کا فیصلہ کر لے یا پھر روس اپنے گرائے گئے طیارے کا بدلہ اتارنے کے لئے اپنی فوجیں روانہ کر دے تو کیا ہو گا؟ مُلک کو بچانا تو فوج نے ہی ہے، چنانچہ موجودہ صورت حال میں ترک فوج کا تقسیم ہونا نہایت خطرناک ہے۔ ترکی کے رہنماؤں کو اِس مسئلے کے حل پر جلد از جلد توجہ دینا ہو گی۔اگر صدر طیب اردوان کا امریکہ پر لگایا گیا الزام درست ہے تو پھر یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں ابتری پھیلانے اور آگے لگانے کا سلسلہ ابھی ترک نہیں کیا۔ لیبیا، عراق، مصر،یونان، شام، کہاں کہاں تباہیاں نہیں پھیلائی گئیں اور طریقہ یہ اختیار کیا گیا کہ ان ممالک کے حکومت مخالفین کو طاقت فراہم کر دی گئی۔ باقی سب کچھ خودبخود ہوتا چلا گیا۔ اب یہ سلسلہ یورپ کی طرف بڑھتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ترکی میں فوجی بغاوت اس کی ایک مثال ہے۔شام میں پھیلائی گئی ابتری کے اثرات پناہ گزینوں کے سیلاب کی وجہ سے یورپی ممالک پہلے ہی محسوس کر رہے ہیں۔ اب پتہ نہیں یورپی ممالک اِس خطرے کو محسوس کرتے ہیں یا نہیں!

مزید : کالم