خادمِ اعلیٰ پنجاب کی توجہ کے لئے

خادمِ اعلیٰ پنجاب کی توجہ کے لئے

مکرمی! پرانی انار کلی چوک کے نزدیک میری ملکیت رانا چیمبرز کی زیر زمین واٹر سپلائی پائپ لائنیں برسوں پرانی ہونے کی وجہ سے گل سڑ چکی ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ روڈ کٹ کر کے نیا کنکشن ’’واسا‘‘ سے حاصل کیا جائے۔ واسا کے داتا گنج بخش ٹاؤن کے متعلقہ عملہ سے رابطہ کیا گیا تو مجھے کہا گیا کہ آپ پانچ ہزار روپے ہمیں دے دیں۔ آپ کو اس کام کے لئے ’’پرچی‘‘بنا کر دے دی جائے گی۔ آپ روڈ کٹ لگا کر پانی کا نیا کنکشن حاصل کرلیں۔ میں نے واسا اہلکاروں سے کہا کہ پانچ ہزار روپے آپ اپنی جیبوں میں ڈال لیں گے۔ میں آپ کو اس معاملے میں بد عنوانی نہیں کرنے دوں گا۔ اس کی سزا مجھے بد عنوان واسا اہلکاروں نے یہ دی کہ روڈ کٹ کی منظوری کے لئے حیلوں بہانوں سے ایک ہفتے کی تاخیر کر کے پانچ ہزار روپے کی بجائے اکیس ہزار نو سو روپے کا ڈیمانڈ نوٹس دے دیا ہے۔ خادم اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے سوال یہ ہے کہ واسا کے عملے نے اپنی جیبیں گرم کرنے کا جو سلسلہ شروع کررکھا ہے، ان کے خلاف اعلیٰ حکام کی طرف سے کارروائی کیوں نہیں کی جاتی آپ ریکارڈ نکلوا کر دیکھیں، جتنے روڈ کٹس ابتک لگائے گئے ہیں، ان کی فیس قومی خزانے میں جمع نہیں کرائی گئی۔ شہریوں سے واسا کا عملہ رقوم وصول کر کے خود ہڑپ کر لیتا ہے۔ اس معاملے کی فوری انکوائری کی جائے۔ بد عنوان عملے کو سزادے کر ذمہ دار شہریوں کو مزید پریشانی سے بچایا جائے۔

(رانا نذر الرحمن رانا چیمبرز پرانی انار کلی، لاہور)

مزید : اداریہ