اُف یہ ون ویلر، ایک تجزیہ اور تجویز!

اُف یہ ون ویلر، ایک تجزیہ اور تجویز!
 اُف یہ ون ویلر، ایک تجزیہ اور تجویز!

  

آئے روز ایسی خبریں شائع اور نشر ہوتی ہیں کہ فلاں علاقے میں موٹرسائیکل سوار ون ویلنگ کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہو گیا اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، اس کے باوجود ہمارے یہ بچے سمجھتے نہیں اور موٹرسائیکلوں پر کرتب دکھانے کا سلسلہ جاری ہے، اس سلسلے میں جاں بحق ہو جانے والے بچوں کے گھر والوں پر کیا گزرتی ہے اس کا اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے۔یوں بھی ہمارے معاشرے میں اولادِ نرینہ نعمت سمجھی جاتی ہے کہ اب گھر بار کی ذمہ داری مرد ہی نبھاتے ہیں، اگرچہ خواتین بھی اب ملازمت کے لئے گھر سے باہر نکل کر اپنا اور اپنے والدین کا مالی بوجھ کسی حد تک کم کرتی ہیں، لیکن بنیادی طور پر یہ ذمہ داری مرد پر ہی عائد ہوتی ہے۔ ایسے میں جب کوئی ایسی خبر نظر سے گزرے کہ ون ویلنگ کرتے ہوئے حادثے کا شکارہو کر جاں بحق ہونے والا نوجوان تین یا پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا تو سینے سے ہوک اٹھتی ہے کہ نادان اپنی جان سے تو گیا۔ گھر والوں کو بھی بے سہارا کر گیا۔

ہمارے سٹاف رپورٹر نے خبر دی ہے کہ پولیس ون ویلنگ کا کھیل ختم کرانے میں ناکام ہو گئی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی اطلاع ہے کہ سی سی پی او لاہور کے دفتر میں اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا اس میں جشن آزادی کے حوالے سے انتظامات کا جائزہ لیا گیا، ان میں موٹر سائیکل والوں کے کرتب روکنے کا پروگرام بھی بنایا گیا ہے۔ایک تجویز بھی زیر غور آئی کہ موٹرسائیکل پر خطرناک کرتب دکھانے کے الزام میں پکڑے جانے والے کو کم از کم پانچ ہزار روپے جرمانہ کیا جائے۔

یہ اجلاس اور تجاویز اپنی جگہ ، سی سی پی او لاہور میں جرائم کی روک تھام اور حفاظتی انتظامات کے ذمہ دار ہیں اور یہ سب ان کے فرائض میں داخل ہے، لیکن یہ سب ایک سعی عمل ہے۔ مستقل حل نہیں۔ ان مسائل کا تو ٹھوس حل تلاش کرکے اس پر عمل کی ضرورت ہے ذرا غور کریں تو اس سلسلے میں والدین کو بہت زیادہ قصور وار پائیں گے جو مائیں بچے کی موت پر بین کرتی ہیں،یہی ضد کرکے اپنے شوہر سے بچے کو موٹرسائیکل لے کر دیتی ہیں اور پھر اپنے نابالغ بچے کے ساتھ بیٹھ کر اپنے کسی رشتہ دار کے گھر جاتی اور فخر سے کہتی ہیں، ’’ میرا بیٹا تو بہت اچھی موٹرسائیکل چلاتا ہے‘‘ اور یہی بیٹا گھر سے موٹرسائیکل لے کر نکلتا اور سڑکوں پر کرتب دکھاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوتا ہے تو یہی ماں حواس باختہ اور دیوانی ہو کر بین کرتی نظر آتی ہے۔

یہ ایک سماجی اور معاشرتی المیہ ہے، اس پر صرف قانون کے ذریعے قابو پانا مشکل ہے۔ اس کے لئے وسیع تناظر میں غور کی ضرورت ہے لیکن ہمارے ملک میں اس کا رواج یا دستور ہی نہیں ہے۔ ہم سطحی سوچ اور سطحی باتوں اور عمل کے عادی ہو چکے ہیں۔ اگر ذرا غور کیا جائے تو اندازہ ہو گا کہ ہم اپنی اس نئی نسل کے لئے کیا کر رہے ہیں، کیا ان کے لئے کھیلوں کے میدان ہیں اور کیا ہم صحت مند سرگرمیوں کے لئے ان کو مواقع مہیا کر رہے ہیں۔ یہ نوجوان ون ویلنگ کو کھیل سمجھتے ہیں۔ تو کیا ہم ان کے لئے شہروں میں ایسے جمنیزیم بنا کر نہیں دے سکتے جہاں پورے حفاظتی انتظامات کے ساتھ یہ کھیل بھی کھیلا جا سکے۔ پھر ان کے لئے فٹ بال، ہاکی، کرکٹ، کبڈی اور کشتی جیسے صحت مند کھیلوں کے لئے گراؤنڈ بھی تو مہیا کئے جائیں، ان ڈور گیمز کا بھی اہتمام ہو۔

جب ہم طالب علم تھے تو اس لاہور میں قریباً ہر ہائی سکول کے اپنے گراؤنڈ ہوا کرتے تھے اور پھر سکول کی سطح پر ٹورنامنٹ بھی ہوتے تھے۔ سرکلر گارڈن، اقبال پارک (منٹو پارک) اور دیگر باغات الگ تھے۔ آبادی کم تھی مقبرہ جہانگیر، مقبرہ نورجہاں اور شالیمار باغ میں پکنک کی اجازت تھی اور وہاں ٹینس بھی کھیل لیا کرتے تھے۔ اب اس شہر کی آبادی ایک کروڑ سے زائد ہے، یہاں سینکڑوں نہیں ہزاروں سکول ہیں، اگر نہیں تو کھیل کے میدان اور جیمینزیم نہیں ہیں، بلکہ سرکلر گارڈن سے لے کر ایسے باغات ختم ہو چکے، کچھ ترقیاتی کاموں کی زد میں آئے تو کچھ قبضہ گروپوں کے قبضے میں چلے گئے، آج شہری ترستے ہیں، اب اگر ان بچوں کو صحت مند سرگرمیوں کے لئے مواقع نہیں ہوں گے تو پھر یہ اسی طرح کریں گے۔ کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ ہر شعبہ، ہر محکمہ اپنی اپنی ذمہ داری نبھائے اور ان نوجوانوں کے لئے صحت مند سرگرمیوں کا انتظام کرے، اسے ہی گڈ گورننس کہا جا سکتا ہے۔

چلیں یہ تو حکومت کے کرنے کے کام ہیں، جو اسے کرنا چاہئیں، وہ یہ ہیں کہ والدین نابالغ بچوں کو موٹرسائیکل نہ تو لے کر دیں اور نہ ہی چلانے دیں۔ پولیس ون وہیلر کو پکڑے تو ان کو موٹرسائیکل سمیت تھانے بند کیا جائے اور تب تک نہ چھوڑا جائے، جب تک والدین نہ آئیں اور پھر بھاری جرمانہ کرکے والدین کو نصیحت کی جائے۔ آج کل جشن آزادی منایا جا رہا ہے تو یہ نوجوان بھی گھروں سے سڑکوں پر آ گئے ہیں، ان پر ابھی سے سخت ہاتھ ڈالا جائے،تاکہ آخری دو تین دن بھی آرام سے گزر جائیں۔ والدین کو چاہیے خود وہ اپنے بچوں کا ابھی سے خیال رکھیں کہ کسی صدمے سے دوچار نہ ہونا پڑے۔

مزید : کالم