اپوزیشن کا ’’مضبوط اتحاد‘‘ اور مختلف آپشنز

اپوزیشن کا ’’مضبوط اتحاد‘‘ اور مختلف آپشنز
 اپوزیشن کا ’’مضبوط اتحاد‘‘ اور مختلف آپشنز

  

قتل کے مقدمے کا فیصلہ ہونا تھا۔ ملزم اور مدعی پارٹی اپنے وکلاء اور ساتھیوں سمیت کمرۂ عدالت کے باہر موجود تھے۔ مدعی پارٹی کے حامی بار بار کہہ رہے تھے کہ ہمارا کیس بہت مضبوط ہے۔ گواہوں کے بیانات ہمارے حق میں ریکارڈ ہوئے، وکیل نے بھی بہت زور دار دلائل دیئے۔ ملزم کو سزائے موت ضرور سنائی جائے گی۔ مگر حیرت تو اس بات پر ہے کہ ملزم کے چہرے پر کوئی گھبراہٹ اور پریشانی نہیں۔ وہ پرسکون دکھائی دے رہا ہے۔ پہلی پیشی سے آج فیصلے کی تاریخ تک وہ مطمئن ہے جبکہ اُسے فیصلے کا تصور کر کے ادھ موا ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے جب ملزم سے پوچھا گیا کہ تمہیں کوئی فکر نہیں؟ آخر کیوں؟ اس نے اسی اطمینان بھرے لہجے میں جواب دیاکہ مجھے مخالفین نے جھوٹے مقدمے میں پھنسایا۔ میں نے کوئی قتل نہیں کیا۔ پھر بھی میں نے اپنے وسائل کے مطابق مقدمہ لڑا۔ اب اگر مجھے پھانسی کی سزا ہونی ہے تو کیا کیا جاسکتا ہے۔ اللہ مالک ہے، وہ انصاف کرے گا۔ میرے پریشان ہونے سیکچھ تبدیل نہیں ہوگا۔ پھانسی کی سزا سنائے جانے کے تصور سے میں نڈھال ہو جاؤں تو کیا سزا تبدیل ہو جائے گی؟ میں نے شروع ہی سے اپنے عصاب کو مضبوط رکھا ہے، تاکہ میری پریشانی اور گھبراہٹ سے مخالفین خوش نہ ہوں‘‘۔

کچھ ایسا ہی جواب مسلم لیگ(ن) کے ایک رہنما نے دیا۔ یار لوگوں نے ان سے پوچھا کہ پہلے صرف عمران خان اور شیخ رشید ہی حکومت کے خلاف تحریک چلانے اور دھرنا دینے کی بات کرتے تھے۔ اب تو بلاول بھٹو زرداری اور ڈاکٹر طاہر القادری ہی نہیں تمام اپوزیشن پارٹیاں احتجاج اور تحریک چلانے کی تیاریاں کررہی ہیں۔ طاہر القادری نے اپنے ہاں 23جماعتوں کو اکٹھا کر کے متحدہ اپوزیشن کے احتجاجی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ اگست میں ہر ہفتے احتجاج ہوگا۔ ستمبر میں پیپلز پارٹی بھی بھرپور انداز میں میدان میں آنے کا کہہ رہی ہے۔ اس پر وزیر اعظم نواز شریف کو کوئیپریشانی اور گھبراہٹ کیوں نہیں؟ آخر وہ اتنے مطمئن کیوں ہیں؟۔ لیگی رہنما نے کہا کہ بظاہر اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد ہے لیکن سب کو ان کے اپنے اپنے مطلبوں نے یکجا کیا ہے۔ آگے چل کر دیکھئے گا کہ وہ کس طرح ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے پچھلے دو ماہ کے دوران اچھی طرح جائزہ لے لیا ہے کہ عمران خان سے لے کر پیپلز پارٹی تک اور ق لیگ سے شیخ رشید تک حکومت مخالف جماعتوں نے اگر کوئی احتجاج یا تحریک وغیرہ کاشوق پورا کرنے کی کوشش بھی کی تو اس سے حکومت پر کیا اثر پڑے گا۔ چنانچہ وزیر اعظم نواز شریف کو درپیش صورت حال سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ بازو ان کے( وزیر اعظم نواز شریف) آزمائے ہوئے ہیں۔ اسی لئے وہ پریشان دکھائی نہیں دے رہے بلکہ مطمئن ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عوامی مسلم لیگ والے سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے مسلسل کوششیں کر کے حکومت مخالفین کو ایک بار تو اکٹھا کرلیا اور سب لوگ 31جولائی کو پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹریٹ ہال میں پہنچ گئے، جہاں متحدہ اپوزیشن اور مشترکہ احتجاج کا پروگرام بھی بنالیا گیا۔ہر جماعت اپنے اپنے داؤ پر ہے۔ سب کو اپنا جماعتی مفاد عزیز ہے۔ حکمرانوں کو خطرہ محسوس نہیں ہو رہا۔ پچھلے دنوں یہ بحث ہوتی رہی کہ عمران خان کے کنٹینر پر بلاول بھٹو زرداری کو خوش آمدید کہنے کے کیا امکانات ہیں۔ کیا یہ دونوں پارٹیاں ایک ساتھ تحریک چلائیں گی؟ ہماری رائے یہ ہے کہ پہلے پیپلز پارٹی کو سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کہا جاتا تھا۔ اس پر میاں نواز شریف سے مک مکا کے الزام کے ساتھ’’ فرینڈلی اپوزیشن‘‘ کا لیبل بھی لگا ہوا تھا۔ اسی دوران عمران خان نے 2012ء سے 2014ء تک ایک دم عوامی پذیرائی حاصل کی اور ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ تاریخی دھرنا دیا تو اسے سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کہا جانے لگا۔لیکن جب دھرنا سیاسی طور پر ناکام ہوا اور اس کے بعد عمران خان کی حکمت عملی مسلسل ناکام ثابت ہوتی رہی تو اس کی نمبرون والی پوزیشن بالکل ختم ہوگئی۔ پھر یہ بھی ہوا کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے بلاول بھٹو زرداری کو سیاست میں باقاعدہ’’ اِن‘‘ کیا تو پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے سیاست میں ایک دوسرے سے آگے رہنے کی حکمت عملی اختیار کی ۔ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ دونوں سیاسی جماعتیں وزیر اعظم نواز شریف کو دباؤ میں لانے کے لئے ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی باتیں ضرور کرتی ہیں، لیکن وہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے سے بھی باز نہیں آتی ہیں۔

شیخ رشید نے عمران خان اور بلاول بھٹو زرداری کو ذہنی طور پر تیار کیا ہے کہ حکومت کے خلاف احتجاج اور تحریک کے لئے حکومت مخالف جماعتوں کا تعاون حاصل کیا جائے اور انہیں اپنے ساتھ رکھا جائے۔ اس حوالے سے پاکستان عوامی تحریک سب سے بڑی اور مضبوط جماعت ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے پیرو کاروں اور عقیدت مندوں کی حاضری ہر جگہ اور ہر موقع پر یقینی ہوگی۔اس کے بعد جماعت اسلامی کا نمبر آتا ہے۔ باقی جماعتوں سے اتنی زیادہ تعداد میں توقع نہیں کی جاسکتی۔ چنانچہ ڈاکٹر طاہر القادری کو واپس لندن اور کینڈا جانے سے روکا گیا ۔ ڈاکٹر طاہر القادری اگرچہ وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف تحریک چلانے اور احتجاج کر نے کے لئے پیش پیش ہیں، لیکن وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے چودہ شہدأ اور تقریباً ایک سو زخمیوں کے لئے انصاف میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ حکومت کے خلاف کوئی تحریک چلی تو اس میں ڈاکٹر طاہر القادری کو نمایاں مقام حاصل ہوگا۔ طے یہ ہوا ہے کہ حکومت کے خلاف ڈاکٹر طاہر القادری اپنے کارکنوں اور وسائل کو متحدہ اپوزیشن کے احتجاج اور تحریک کے لئے شامل کر تے رہیں گے اور اس کے صلے میں متحدہ اپوزیشن کی طرف سے شہدأ ماڈل ٹاؤن کے قصاص کی تحریک میں ساتھ دیا جائے گا۔ اس حوالے سے ڈاکٹر طاہر القادری اپنی جماعت کی برتری منوانے میں کامیاب رہے ہیں جبکہ آگے چل کر وہ وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے خلاف اپنے مطالبات منوانے کے لئے سولو فلائٹ پر مجبور نہیں ہوں گے۔ انہیں دیگر پارٹیوں کا تعاون اور حمایت حاصل ہوگی۔تو ان کی پوزیشن مزید مستحکم ہوگی۔

ڈاکٹر طاہر القادری کی طرح دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی اپنی حیثیت کے مطابق حکومت کے خلاف احتجاج اور تحریک میں شامل ہونے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ موج ہے دریا میں، بیرون دریا کچھ نہیں۔ یہ بات بھی پیش نظر رکھی جا رہی ہے کہ پیوستہ رہ شجر سے، اُمید بہار رکھ! یہ بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ عمران خان یا آصف علی زرداری امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کے حلقوں میں خود کو حکومت مخالف تحریک کے معاملے میں حتمی طور پر ریس جیتنے والے گھوڑے کی پوزیشن کا اہل ثابت نہیں کر پائے ہیں، صرف ایک حد تک خود کو مناسب امیدوار کے طور پر پیش کر نے میں کامیاب ہوئے ہیں اور بس۔ حالت یہ ہے کہ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لئے بھی کوشاں ہیں۔ اس سلسلے میں عمران خان کے علاوہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں مضبوطی لانے کے لئے اقدامات شروعکئے ہیں تاکہ حکومت کے خلاف احتجاج یا تحریک میں ان کے کارکن زیادہ تعداد میں ہوں اور اس حوالے سے انہیں دوسری چھوٹی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہو۔ جہاں تک عمران یا بلاول میں سے کسی کے لئے امپائر کے اشارے کی بات ہے تو فی الحال دونوں میں سے کوئی بھی دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ آگے چل کر دیکھئے کس کے لئے واضح اشارے کا ’’انکشاف‘‘ ہوتا ہے۔ یہاں بھی ڈاکٹر طاہر القادری کو یہ آس لگانے کی سہولت حاصل ہے کہ ان کا موقف ہے، شہدأ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر چونکہ آرمی چیف کی مداخلت سے درج ہوئی تھی، اب آگے انصاف بھی آرمی چیف ہی دلوائیں گے۔ یعنی ڈاکٹر طاہر القادری اس حوالے سے فوج کی مدد اور مداخلت کے’’اصولی‘‘ امیدوار ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج اور تحریک جو بھی رخ اختیار کرے، عمران خان، بلاول بھٹو زرداری اور شیخ رشید سپریم کورٹ سے رجوع کریںیا کچھ اور جمع کریں،ہر پہلو سے وزیر اعظم نواز شریف مطمئن ہیں کہ اپوزیشن کی قابل ذکر جماعتیں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لئے فاؤل کھیلیں گی اوروہ محفوظ رہیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ میاں نواز شریف اور ان کے بعض رفقأ کے یہ اندازے کس حد تک درست ثابت ہوں گے۔ عمران خان، شیخ رشید اور بلاول بھٹو زرداری کوئی موثر تحریک یا احتجاج کو یقینی بنا سکیں گے؟ اور یہ کہ ڈاکٹر طاہر القادری اپنے چودہ شہیدکارکنوں کا انصاف آرمی چیف کے ذریعے حاصل کرسکیں گے؟سیاست میں کسی بھی وقت کچھ بھی ممکن ہوتا ہے۔ موجودہ حالات میں ایسے امکانات کیا منظر دکھاتے ہیں، اس کے لئے کچھ انتظار کرنا ہوگا۔

مزید :

کالم -