خدارا، قومی دن کو متنازعہ نہ بنائیں!

خدارا، قومی دن کو متنازعہ نہ بنائیں!
 خدارا، قومی دن کو متنازعہ نہ بنائیں!

  

14اگست کا دن پاکستانی قوم کا مسلمہ و متفقہ قومی دن ہے، اس دن ہر پاکستانی اپنے جذبات اور مُلک و ملت سے اپنی وابستگی کے اظہار کے لئے اپنی اپنی حیثیت و ظرف کے مطابق، جوش و خروش کا مظاہرہ کرتا ہے۔ غریب سے غریب بھی، اپنے گھروں پر قومی پرچم لہراتا اور معصوم بچے (اپنی جمع پونجی خرچ کر کے) اپنی گلیوں محلوں میں جھنڈیاں لگاتے اور ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے لگاتے پھرتے ہیں۔

ذہنی، سیاسی اور مذہبی طور پر منتشر قوم (جو بدقسمتی اور مُلک دشمنوں کی سازشوں سے کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے) لسانیت اور علاقائیت کی بنیادوں پر بٹی ہوئی قوم کے پاس ’’یوم آزادی‘‘ ہی کی صورت میں ایک دن ہوتا ہے جب وہ ایک ہی جذبے، ایک ہی ترنگ اور ایک ہی رنگ میں رنگی نظر آتی ہے۔ مُلک کے تمام شہر، دیہات اور تمام علاقے و طبقات ایک سے ملی ترانوں اور ایک ہی طرح کے نعروں سے گونجتے اور سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔

مقام شُکر کا ہے کہ ماضی کی طرح، اس سال بھی یوم آزادی کو بھرپور انداز سے منانے کی (سرکاری و غیر سرکاری سطح پر) تیاریاں شروع ہیں، ہر کوئی اپنی سکت سے بڑھ کر جوشیلا بنا ہوا ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ بہتر انداز میں، قومی دن منائے گا، حالانکہ ابھی ’’یوم آزادی‘‘ آنے میں کئی دن باقی ہیں، پھر بھی گلی و بازار میں، سبز پرچموں کی بہار آ چکی ہے، ہر طرف قومی و ملی ترانوں کی آوازیں گونجنے لگی ہیں جوش بڑھانے والے، اس ماحول اور ولولہ تازہ عطا کرنے والی اس فضا میں اوروں کی طرح ہم بھی حب الوطنی کی گرمائش کو اپنے وجود میں لہریں اٹھاتے اور خون کو گرماتے محسوس کرتے ہیں، دیگر گھرانوں کی طرح، میرے اپنے بچے بھی، یوم آزادی کو بھرپور انداز میں منانے اپنے گھر پر(سب سے اونچا) پرچم لہرانے اور گلی میں جھنڈیاں لگانے کے سو سو منصوبے بنائے ہوئے ہیں مگر اس فخر کرنے والے ماحول و فضا میں، مَیں ایک حوالے سے غمگین بھی ہوں اور فکر مند کرنے والی وہ سوچ، تحریک انصاف اور جناب طاہر القادری کی عوامی تحریک کی طرف سے احتجاجی تحریک شروع کر دینے والے اعلان کی وجہ سے ہے مَیں سوچ رہا ہوں کہ ان دونوں پارٹیوں اور دونوں کے قائدین کو تحریک چلانے کے لئے ’’یوم آزادی‘‘ کا مسلمہ اور متفقہ دن ہی کیوں ملتا ہے؟دوسال پہلے بھی انہوں نے ’’یوم آزادی‘‘ کے ’’جشن‘‘ اور ’’خوشی‘‘ والے تہوار کو ’’احتجاج‘‘ کے ’’سیاہ‘‘ رنگوں میں لپیٹ کر رکھ دیا تھا، اس بار پھر انہوں نے ’’یوم آزادی‘‘ کی تیاریوں والے دِنوں کو ’’احتجاج‘‘ کے رنگ میں رنگنے اور ’’یوم آزادی‘‘ کے موقع کو ’’دھواں دار‘‘ کرنے کا پروگرام بنا لیا ہے۔

ان دونوں لیڈروں اور ان کی پارٹیوں کے دیگر قائدین کو پورے سال کے باقی ایام میں احتجاج کرنے(یا توڑ پھوڑ) کا خیال کیوں نہیں آتا؟ آخر یہ ’’بڑے لوگ‘‘ ایک ’’قومی دن‘‘ پر قوم کو مزید انتشار اور منقسم کرنے کے اقدامات سے احتیاط کیوں نہیں کرتے؟۔۔۔

یہ بجا کہ تحریک انصاف کا اپنا ایجنڈا و منشور ہے، ڈاکٹر طاہر القادری کی اپنی سوچ اور اپنے اصول ہیں۔ ان دونوں کی باتیں، دونوں کے نظریات اپنی جگہ ٹھیک بھی ہوں گے(وہ خود اور ان کے ماننے والے، سو سو دلیلیں بھی دے سکتے ہیں) مگر ’’یوم آزادی‘‘ تو تمام پارٹیوں ، تمام جماعتوں اور طبقات کا مشترکہ ہے اس کو متنازعہ کیوں بنایا جائے؟

مَیں اس موقع پر تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی احتجاجی سیاست پر بحث نہیں کرنا چاہتا، نہ اس احتجاجی سیاست کی ’’حقیقت‘‘ پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں، نہ ہی اِس اندازِ احتجاج اور اندازِ سیاست کے پس منظر میں کار فرما مقاصد پر کوئی بات کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے تو صرف ’’قومی دن‘‘ اور ’’یوم آزادی‘‘ پر ’’بے مثال قومی یکجہتی‘‘ کو سبوتاژ کرنے والے ہر اقدام اور ہر سوچ نے فکر مند کر رکھا ہے، مَیں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ ’’قومی دن‘‘ کو ایک قوم بن کر ہی منایا جائے، ’’یوم آزادی‘‘ پر پاکستان کا ’’قومی ہلالی پرچم‘‘ ہی لہرایا جائے ہر طرف قومی و ملی ترانے ہی گونجیں اور سننے والوں کے لہو کو گرماتے اور ’’حب الوطنی‘‘ کے جذبات کو تازہ کرتے رہیں۔۔۔

کوئی ضروری ہے کہ اس عظیم دن پر قومی یکجہتی اور اتفاق و اتحاد کے مظاہرے کی بجائے ایک دوسرے کے لتّے ہی لیتے رہیں، اپنی زبان درازیوں اور تندو تلخ بیانات سے دوسروں کی دھجیاں اُڑاتے رہیں اور ایسے اقدامات کریں یا ایسا انداز اختیار کریں کہ مُلک میں ایک انتشار، ایک تشدد کی لہر دوڑ جائے۔

کیا ضروری ہے کہ اس بے مثال، متفقہ و مسلمہ ’’قومی دن‘‘ پر بھی قومی پرچم کی بجائے، ہم اپنا جھنڈا اونچا کرنے کے جتن کریں اور اپنی مدح و ستائش سے بھرپور شاعری والے نغموں کو ’’قومی و ملی ترانوں‘‘ سے زیادہ بلند آواز میں سنوانے کا بندو بست کریں اور اپنی دھوم مچانے کا سامان کریں؟

ان کاموں کے لئے بہت وقت پڑا ہے، سال کے باقی ایام انہی کاموں پر خرچ کئے جا سکتے ہیں پہلے بھی ہمارے ہاں کون سے مُلک و ملت کے مفادات کے امور ہی پر توجہ دی جاتی ہے، ہم تو اپنی سیاست کا سکہ چلانے اور اپنی قیادت کا لوہا منوانے کے لئے غیر اخلاقی و غیر دستوری حرکات و اقدامات تک چلے جاتے ہیں اپنی بات منوانے اور عوام کو اپنی طرف راغب کرنے کی خاطر، اپنے پاس سے اعداد و شمار اور ’’حقائق‘‘ تراشتے رہتے ہیں۔ ہماری زبان درازیاں، طعنہ زنی اور طوفانی بیان بازی، اخلاقیات سے مبرا ہی ہوتی ہیں جب عام دِنوں میں ہم اپنے مفادات کی خاطر ہر سطح پر جانے کو تیار ہی رہتے ہیں تو خدا کے لئے، اس ایک دن کو تو معاف کر دیں۔ اس ایک روز ’’یوم آزادی‘‘ نہیں، ’’یوم تعطیل‘‘ سمجھ کر قومی یکجہتی کا بھرم رہنے دیں۔

دُنیا ہماری تقسیم در تقسیم کو دیکھ چکی، وہ ہمارے ذہنی انتشار سے بھی واقف ہے اور ہماری سیاسی و مذہبی فرقہ واریت سے بھی آگاہ ہے اُسے اچھی طرح علم ہے کہ ہم مذہب و سیاست کے نام پر ایک دوسرے کے گلے کاٹتے رہتے ہیں وہ یہ بھی جانتی ہے کہ ہمارے لیڈران ملک و قوم کے نام پر اپنے اپنے مفادات کے بندے بنے ہوئے ہیں وہ اچھی طرح سمجھتی ہے کہ ’’ہماری سیاسی قیادتیں عوام کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے بے وقوف بناتی اور انگلیوں پر نچاتی ہیں خدارا، اس دُنیا کو اپنے ’’یوم آزادی‘‘ کے روز قہقہے بار نہ کریں اس قومی دن کو متنازعہ نہ بنائیں، احتجاج کو ختم نہ کریں، چند دن اور موخر کر دیں۔ (’’یوم آزادی‘‘ سے بعد تک ) چھ یا سات اگست سے آغاز کر کے ’’یوم آزادی‘‘ کی روشنیوں کو، سیاہی میں نہ چھپنے دیں دو سال پہلے کی طرح اس سال ’’یوم آزادی‘‘ کا سورج احتجاج اور نفرت انگیز نعروں کے گرہن میں نہ چھپایا جائے!

مزید : کالم