مقبوضہ کشمیر ،بھارتی قابض فورسز کی ظالمانہ کارروائیاں جاری ،فائرنگ سے مزید 3کشمیری شہید

مقبوضہ کشمیر ،بھارتی قابض فورسز کی ظالمانہ کارروائیاں جاری ،فائرنگ سے مزید ...

سری نگر ( اے این این )مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فورسز کی ظالمانہ کارروائیاں جاری ٗفائرنگ سے مزید 3 کشمیری شہید ٗ وادی میں 27 ویں روز بھی کشیدگی برقرار ٗشہید ہونے والے کشمیریوں کی مجموعی تعداد 77 ہوگئی ٗ 2 ہزار سے زائد زخمی ٗ تین نوجوانوں کی شہادت کے بعد مشتعل ہجوم نے ایڈیشنل ڈی سی رام بن کی گاڑی کو نذر آتش کردیا ٗ بدھ کو بھی وادی میں کرفیو نافذ رہا ٗ سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد بڑھا دی گئی ٗ تعلیمی ادارے ،کاروبار اور ٹرانسپورٹ بدستور بند ٗحریت رہنماؤں کی اپیل پر 5 اگست تک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان ٗ جمعہ کو بھارتی ظلم وستم کے خلاف احتجاجی مارچ بھی ہوگا ٗ کرفیو کے باوجود احتجاجی مظاہرے ٗ ریلیاں ٗ کشمیر کے حق میں نعرے بازی ٗ نوجوانوں نے سبزہلالی پرچم لہرادیئے ۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مجاہد کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے 27 روز بھی حالات کشیدہ ہیں بھارتی فورسز کی تازہ ظالمانہ کارروائیوں میں مزید تین کشمیری شہید ہوگئے جس کے بعد شہداء کی تعداد بڑھ کر 77 تک جا پہنچی ہے ۔ گزشتہ روز لیتہ پورہ کراسنگ کے نزدیک نوجوان پتھراؤ کررہے تھے اور اس دوران وہاں سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر رام بن بابو رام کا قافلہ گزرا۔پتھرا کی زد میں جب ان کی سکارپیو گاڑی آگئی تو اس کے ذاتی محافظ ستیش کمار منہاس نے نوجوانوں پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں فاروق احمد کوچھے ولد غلام نبی نامی نوجوان موقعہ پر ہی جاں بحق ہوگیا ۔اس موقعہ پر لوگ مشتعل ہوئے اور انہوں نے ایڈیشنل ڈی سی رام بن کی گاڑی نذر آتش کردی لیکن ان کی حفاظت پر مامور سی آر پی ایف اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کرکے انہیں بچالیا۔ فائرنگ میں سہیل احمد نامی نوجوان بری طرح زخمی ہوا جو کچھ دیر بعد دم توڑ گیا جبکہ ایک اور نوجوان جس کی شناخت نہ ہوسکی فائرنگ کی زد میں آکر شہید ہوگیا اونتی پورہ پولیس کی ایک ٹکڑی لیتہ پورہ کی طرف آرہی تھی تو سی آ ر پی ایف اہلکاروں نے انہیں واقعہ کے بارے میں اطلاع دی جس کے فورا بعد ایس پی اونتی پورہ وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے رام بن پولیس سے وابستہ فائرنگ کے واقعہ میں ملوث کانسٹیبل ستیش کمار منہاس بیلٹ نمبر704کو گرفتار کرلیا۔لیتہ پورہ میں واقعہ کے بعد زبر دست احتجاجی مظاہرے رات گئے تک جاری رہے ۔ادھر مزاحمتی قیادت کی کال پر کپوارہ سے قاضی گنڈ تک خواتین نے بندشوں اور کرفیوکے بیچ احتجاج بلند کرتے ہوئے جلوس برآمد کئے۔ کئی علاقوں میں صنف نازک نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی جبکہ ان جلوسوں میں سبز ہلالی پرچم بھی لہرائے گئے۔اس دوران کولگام میں ہزاروں چھوٹی بڑی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر مشتمل ریلی برآمد کی گئی جبکہ شوپیاں میں احتجاجی مظاہرین کومنتشر کرنے کیلئے فورسز نے پیلٹ بندوق کا استعمال کیا جس میں9افراد زخمی ہوئے جبکہ کپوارہ میں بھی مختلف واقعات میں ایک درجن کے قریب نوجوان زخمی ہوئے۔ سرینگر سمیت وادی کے دیگر علاقوں میں نماز عصر اور مغرب سڑکوں پر ادا کی گئی۔ادھر25ویں روز بھی جنوب و شمال احتجاجی مظاہروں ،بندشوں اور ٹیر گیس شلنگ کی گونج سنائی دی جبکہ مظاہروں کے دوران مجموعی طور پر30کے قریب لوگ زخمی ہوئے جن میں سے ایک درجن پیلٹ زخمیوں کو سرینگر کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔پولیس ترجمان کے مطابق شوپیاں،کولگام،اونتی پورہ،سوپور اور بانڈی پورہ میں سنگ اندازی کے واقعات رونام ہوئے۔ ترجمان کے مطابق کسی بھی جگہ سے کوئی نا خوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا اور نہ کوئی زخمی ہوا۔ احتیاط کے طور پر شمالی سرینگر کے علاوہ اننت ناگ قصبہ میں احتیاتی طور پر کرفیو اور بندشیں عائد کی گئی تھی۔ مزاحمتی خیمے کی طرف سے دی گئی ہڑتال کے پیش نظر شہر کے آبی گزر میں درجنوں خواتین نے احتجاجی مظاہرہ برآمد کیا جس کے دوران اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی۔خواتین نے جب لالچوک کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس کی ایک جمعیت وہاں پہلے سے ہی موجود تھی جنہوں نے خواتین کو لالچوک کی طرف پیش قدمی کرنے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد احتجاجی جلوس پرامن طور پر منتشر ہوا۔

مزید : صفحہ اول