بچوں کی بازیابی میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ،کیاریاست سوئی ہوئی ہے ؟سپریم کورٹ

بچوں کی بازیابی میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ،کیاریاست سوئی ہوئی ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار اور مسٹر جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل بنچ نے پنجاب میں بچوں کے اغوا ء کے معاملہ پر ازخود نوٹس کیس میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمن خان کی سربراہی میں 6رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے حکم جاری کیا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل آفس میں ہاٹ لائن قائم کی جائے جبکہ مغوی ،لاپتہ اور گمشدہ بچوں کے والدین کو ہدایت کی ہے کہ وہ شکایات کے لئے اس ہاٹ لائن پر رابطہ کریں ۔عدالت نے بچوں کے اغواء کے تدارک اورتحفظ کے حوالے سے چائلڈ پروٹیکشن بیورو سے بھی سفارشات طلب کرلی ہیں۔گزشتہ روز سماعت کے دوران سینئر سول جج راولاکوٹ خواجہ یوسف ہارون اپنے 8سالہ بیٹے کے اغواء کا ذکر کرتے ہوئے بھری عدالت میں دھاڑیں مار کر رو پڑے جس پرجسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ بچوں کے اغواء پر ہم بھی دکھی ہیں ،پنجاب میں بیگار کیمپوں کے خاتمہ کے لئے کوئی سنجیدہ نظر نہیں آرہا ۔ عدالت کی نظر میں تمام بچے برابر ہیں اور کی بازیابی میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔عدالت نے بچوں کے اغواء کے زیرنظرکیسوں کی دوبارہ تحقیقات کر نے کا حکم دیتے ہوئے مزیدریمارکس دیئے کہ بچوں کو بازیاب کروانا عدالت کی اولین ترجیح ہے،ہم بچوں کے اعضا کی منتقلی،بیگار لینے،بداخلاقی اور بیرون ملک منتقل کرنے جیسے مسائل کا مستقل بنیادوں پر حل چاہتے ہیں۔بنچ نے قرار دیا کہ ایسے بچوں کو بے یارومددگار نہیں چھوڑا جاسکتا اگر وہ دہشت گردوں یا منشیات فروشوں کے ہاتھ لگ گئے تو وہ ان کی برین واشنگ کرکے ان کا غلط استعمال کرسکتے ہیں۔تین لاپتہ بچوں کے والدین عدالت میں پیش ہوئے۔ مغوی بچوں کے والدین نے عدالت کو پولیس کے عدم تعاون اور تفتیش میں پیش رفت نہ ہونے کی شکایت کی جس پر سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کیا ریاست سوئی ہوئی ہے ۔ ریاست کو معلوم نہیں کہ بچے کیوں اغوا ہوتے ہیں، بچوں کو اغوا کرنے والے گینگ ایک دن میں نہیں بن جاتے، پتہ چلایا جائے ان گینگز کو کون چلا رہاہے۔ عدالتیں آئین میں دئیے گئے بنیادی انسانی حقوق کی محافظ ہیں،لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے،ہم شاپنگ کے دوران اغوا ہونیوالے بچے کی ماں کے آنسو ضرور پونچیں گے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے پولیس کی ناقص تفتیش کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کے اغواء کے کیسوں میں درست تفتیش نہیں کی جارہی۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمن نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ عدالتی حکم پر پورے صوبے سے بچوں کے اغواء کے 10 کیس منتخب کئے گئے ہیں جن میں پولیس کی تحقیقات تسلی بخش نہیں ہیں، متعلقہ پولیس حکام کو تفتیش کے عمل کو بہتر بنانے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے قرار دیا کہ سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ اغواء ہونیوالے بچے بازیاب نہیں ہورہے،جب بچہ اغوا ہوتا توسب سے پہلی زیادہ ذمہ داری پولیس کی ہے کہ اسے بازیاب کرائے۔سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے بنچ کو بتایا کہ غریب والدین بچوں کی ضمانت کراتے ہیں لیکن مچلکے گینگسٹرز دے دیتے ہیں اور بچے پھر انہی کے ہاتھ آجاتے ہیں۔انہوں نے استدعا کی کہ اس حوالے سے کمیٹی تشکیل دی جائے،جو بچوں کے والدین سے ملاقات اور تحقیقات کی تفصیلات حاصل کر کے تجاویز سمیت اپنی رپورٹ پیش کرے۔سماعت کے دوران راولپنڈی سے 2 سال قبل اغواء ہونیوالے 8 سالہ بچے سعد یوسف کے والد سینئر سول جج راولا کوٹ خواجہ یوسف ہارون نے روتے ہوئے بتایا کہ بیٹے کے اغواء کی ایف آئی آر شریف اللہ کے خلاف درج کرائی جو پولیس کی حراست سے فرار ہوکرصوابی چلا گیا اور تاوان مانگا ،فوج نے ملزم شریف اللہ کو افغانستان فرار ہوتے ہوئے پکڑ لیا لیکن پولیس افسران نے بے گناہ قراردے کر چھوڑ دیا ،قائداعظم ہسپتال میں ملازم سہولت کار ذاکر اللہ نے اغواء کار کو فرار کے لئے گاڑی دی ،لیکن ہسپتال کے مالک کے دوست آئی جی پولیس طارق مسعود کے کہنے پر سہولت کار ذاکراللہ کو پولیس نے چھوڑ دیا،پولیس پر اعتماد نہیں میرے بیٹے کو فوج کے ذریعے بازیاب کرایا جائے۔ ایک بچی کی ماں وزیراں مائی نے بتایا کہ پولیس دو سال قبل مسجد میں قرآن پڑھنے کے لئے جانیوالی اس کی 5سالہ بچی کو بازیا ب نہیں کرارہی۔ رمضان نے بتایا کہ ملزمان کے ساتھ کام پر جانیوالے اس کے 14 سالہ بھائی رضوان کو بازیاب کرانے کی بجائے پولیس نے مقدمہ خارج کردیا اور ملزمان کو معاف کرنے کے لئے دباؤ ڈالا۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک اخبار کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ منڈی بہاؤالدین سے ایک بچہ بازیاب ہوا ہے اور جس نے بتایا ہے کہ وہاں پر اور بھی بچے موجود ہیں جن سے کیٹرنگ والے برتن صاف کروانے کا کام لے رہے ہیں،فاضل جج نے کہا کہ کیا ریاست سوئی ہوئی ہے ایسے گینگ ایک دن میں نہیں بن جاتے اور پتہ نہیں کتنے گینگ کام کررہے ہیں۔ فاضل بنچ نے بچوں کے اغوا اور گمشدگی از خود نوٹس میں سفارشات مرتب کرنے کے لئے ایڈووکیٹ جنرل کی سربراہی میں 6 رکنی کمیٹی قائم کرکے تین ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے،قرار دیا کہ کسی کو الزام نہیں دینا چاہتے مگر اس مسئلہ کو حل کروانا اولین ترجیح ہے۔چیئرمین چائلڈپروٹیکشن بیورو صبا صادق نے بنچ کو بتایا کہ وہ بیورو کی جانب سے بچوں کی بایابی کے حوالے سے کئے گئے اقدامات کے حوالے سے عدالت کو بریفنگ دینا چاہتی ہیں جس پر فاضل بنچ نے انہیں ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ دیں۔ فاضل بنچ کے حکم پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی سربراہی میں قائم کی جانیوالی ہائی پاور کمیٹی لاپتہ بچوں کے والدین کو معلومات فراہم کرے گی اور انہیں بچوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی دعوت دے گی ،یہ کمیٹی پولیس کی جانب سے کی جانیوالی تفتیش سے آگاہی حاصل کرے گی اور والدین کی مدد کرے گی۔پنجاب میں اغواء یا گمشدہ بچوں کا ڈیٹابھی مختلف محکموں سے اکٹھا کرکے پولیس کے اقدامات کی رپورٹ عدالت میں پیش کرے گی۔کمیٹی کے دیگر ممبران میں چیئرمین چائلڈپروٹیکشن بیورو، دو ممبران لاہور ہائیکورٹ بار اور دو ممبران سپریم کورٹ بار شامل ہوں گے ۔دوران سماعت عدالتی معاون عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ بچوں کے اغوا کی بازیابی کیلئے الگ سے فورم ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ منشیات کے مقدمات میں گرفتار بچوں کی ضمانت ان کے والدین کی بجائے دوسرے لوگ کرارہے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پنجاب میں بیگار کیمپوں کے خاتمے کیلئے کوئی سنجیدہ دکھائی نہیں دیتا۔ پارکوں میں جانے والے بچے اغوا ہوجاتے ہیں۔ بچوں کے اغوا پر ہم بھی دکھی ہیں۔فاضل بنچ نے عدالت میں پیش ہونے والے والدین کے مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے آئی جی پنجاب کو اچھی شہرت کے حامل پولیس افسر مقررکرنے کی ہدایت کرتے ہوئے 3 ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی ۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی سربراہی میں قائم کی جانے والی کمیٹی کو بچوں کی بازیابی کے لئے سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت بھی کی ہے ،یہ کمیٹی اپنی سفارشات اور بچوں کی بازیابی کے لئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ 3ہفتوں میں پیش کرے گی ۔عدالت نے کہا کہ مغوی بچوں کے والدین شکایت کی صورت میں ایڈووکیٹ جنرل سے ہاٹ لائن پر بلا جھجک ابطہ قائم کرسکتے ہیں، عدالت نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئرپرسن صبا صادق کوبھی بچوں کی نگہداشت اور مغوی بچوں کی بازیابی کے حوالے سے سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔مغوی بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ پولیس نے بچوں کو بازیاب کرانے کے بجائے ٹائم ضائع کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ عدالت نے کیس پر مزید سماعت 25 اگست تک ملتوی کردی ہے ۔عدالتی معاون عاصمہ جہانگیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ازخود نوٹس بہت سے متاثرہ والدین کے آنسو پونچھے گا۔ انہوں نے کہ سپریم کورٹ کے بنیادی انسانی حقوق کے اس طرح کے مسائل پر از خود نوٹس لینے چاہئیں۔ والدین کو چاہئے کہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں تاکہ ان کی داد رسی کی جاسکے دوسری جانب مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے باہر مغوی بچوں کے والدین نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ انہوں نے پولیس کی ناقص کارکردگی اور عدم تعاون کے خلاف نعرے بازی کی اور حکومت سے بچوں کی بازیابی کا بھی مطالبہ کیاہے۔

مزید : صفحہ اول