ریپبلکن ہائی کمان ڈونلڈ ٹرمپ سے سخت ناراض ،صدارتی نامزدگی واپس لینے پر غور

ریپبلکن ہائی کمان ڈونلڈ ٹرمپ سے سخت ناراض ،صدارتی نامزدگی واپس لینے پر غور

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) ’’اے بی سی نیوز‘‘ کے اینکر جوناتھن کارل نے بدھ کے روز یہ سنسنی خیز خبر نشر کی ہے کہ ری پبلکن پارٹی ڈونلڈ ٹرمپ سے سخت ناراض ہے اور وہ اس کی صدارتی نامزدگی واپس لینے پر غور کر رہی ہے۔ امریکی انتخابی تاریخ میں آج تک کبھی صدارتی ٹکٹ جاری کرنے کے بعد کسی پارٹی نے نظر ثانی نہیں کی۔ صرف نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کرنا ہی ایک انوکھا واقعہ ہوگا۔ ’’گڈ مارننگ امریکہ‘‘ میں آج یہ اطلاع دیتے ہوئے اینکر نے کہا ہے کہ ’’یہ ایک ایسا واقعہ ہوگا جس کی پہلے مثال نہیں ملتی۔ پہلی بات یہ ہے کہ ری پبلکن پارٹی کی نیشنل کمیٹی کے چیئرمین رینس پریبس سخت غصے میں ہیں اور اپنے صدارتی امیدوار سے سخت ناراض ہیں۔ انہوں نے متعدد بار ٹرمپ سے بات کرکے ایسے وارننگ دی ہے کہ اسے اپنا طریق کار یکسر بدلنا ہوگا۔‘‘اینکر کا کہنا ہے کہ اصل خبر یہ ہے کہ پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اس مرحلے پر اگر ڈونلڈ ٹرمپ کی نامزدگی ختم کی جاتی ہے تو پھر انتخابی بیلٹ پیپر پر اس کی جگہ کسی دوسرے کا نام کیسے شامل کیا جائے گا۔ اینکر کا کہنا ہے کہ عملی صورت یہ ہے کہ نیشنل کمیٹی اسے زبردستی نہیں نکال سکتی۔ اس پر اتنا دباؤ ڈالا جائے گا کہ وہ رضاکارانہ طور پر خود ہی دستبردار ہو جائے۔ اس کے بعد ری پبلکن پارٹی کی 168 ارکان پر مشتمل نیشنل کمیٹی ایک پیچیدہ نظام سے گزر کر نیا متبادل امیدوار چنے گی۔ یہ سب کام ستمبر کے آغاز تک مکمل ہو جانا چاہئے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جس غیر ذمہ داری کے ساتھ امیگرینٹس اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیان بازی کی ہے، وہ اگرچہ اس کے ذاتی خیالات ہیں، لیکن اس سے پارٹی کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ خضر خان فیملی پر اس نے جو تنقید کی ہے اس کی پارٹی سطح سے بالاتر ہوکر پورے ملک میں مذمت کی گئی ہے۔ جلتی پر تیل کا کام صدر اوبامہ کا تازہ تبصرہ ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو سیاسی اور بین الاقوامی معاملات کا نہ ہی علم ہے اور نہ ہی تجربہ۔ وہ صدارتی ذمہ داریاں سنبھالنے کیلئے بالکل نااہل ہے۔

مزید : صفحہ اول