جماعتہ الدعوۃ کے زیر اہتمام بھارتی وزیر داخلہ کی پاکستان آمد کیخلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے

جماعتہ الدعوۃ کے زیر اہتمام بھارتی وزیر داخلہ کی پاکستان آمد کیخلاف ملک بھر ...

  

لاہور(اے این این )جماعۃالدعوۃ پاکستان کی اپیل پر بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی پاکستان آمد کیخلاف ملک بھر میں زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں۔لاہور میں مسجد شہداء مال روڈ پربڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔اسلام آباد، ملتان، کراچی، حیدر آباد،کوئٹہ اورپشاورسمیت دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں بھی ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کربھارت کیخلاف شدید نعرے بازی کی اور راجناتھ سنگھ کے پتلے اور ہندوستانی ترنگا نذر آتش کیاگیا ۔حافظ محمد سعید، عبدالرحمن مکی، علامہ ابتسام الہٰی ظہیر، غلام محمد صفی، مولانا امیر حمزہ،حافظ عبدالغفارروپڑی، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، قاری یعقوب شیخ و دیگر نے کہا ہے کہ کشمیر میں غذائی قلت پر قابو پانے کیلئے فریڈم فوٹیلا طرز پر امدادی قافلہ بھجوایا جائے۔ چکوٹھی میں روکے گئے فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے ٹرک مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دی جائے۔ اگرایسا نہ کیا گیا تو پھر پاکستانی قوم آلو پیاز کے ٹرک بھی نہیں جانے دے گی۔ اب انڈیا سے کوئی معاہدہ نہیں چلے گا۔ کشمیر پالیسی از سر نو تشکیل دی جائے۔ راجناتھ سنگھ کے الزامات پر پاکستانی وزیر داخلہ اسے منہ توڑ جواب دیں۔ بھارتی وزیر داخلہ کی آمد کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ نہتے کشمیریوں پر ظلم میں انڈیا اور امریکہ ایک ہیں۔ جماعۃالدعوۃ کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کے دوران زبردست جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ مظاہرین کی جانب سے بھارت سرکار کیخلاف اور کشمیریوں کے حق میں نعرے بازی کی جاتی رہی۔ مسجد شہداء مال روڈ پر احتجاجی مظاہرہ سے امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید، حافظ عبدالرحمن مکی، علامہ ابتسام الہٰی ظہیر، مولانا امیر حمزہ،حافظ عبدالغفارروپڑی، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، قاری یعقوب شیخ،سردار محمد خاں لغاری، مولانا سیف اللہ خالد، شیخ نعیم بادشاہ، معظم علی خاں، جمال شاہ، ابوالہاشم ربانی، مولانا ادریس فاروقی و دیگر نے خطاب کیا۔ مظاہر ہ میں شریک طلباء، وکلاء، تاجروں، سول سوسائٹی اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افرادنے ہاتھوں میں بھارت مخالف اور کشمیریوں کے حق میں تحریروں والے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ جماعۃالدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید نے اپنے خطاب میں کہاکہ جب راجناتھ سنگھ کے پاکستان آنے کا اعلان ہوا تو حریت پسندقیادت نے ہم سے رابطہ کیا اور کہا کہ کشمیری پاکستان کو اپنا سب سے بڑا وکیل سمجھتے ہیں اور پاکستان کشمیریوں کے قاتل کا استقبال کرنے کی تیاریاں کر رہاہے تو ہم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بھارتی وزیر داخلہ کا دورہ منسوخ کیا جائے مگر افسو س کہ حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔چند دن قبل راجناتھ نے کشمیر کا دورہ کیا توکشمیری جماعتوں نے ملنے سے انکار کر دیا۔آج کشمیریوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت کی طرف سے فریڈم فوٹیلا طرز پر کشمیریوں کی مدد کیلئے قافلہ بھجوایا جاتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ پاکستانی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کو اس کے الزامات کامنہ توڑ جواب دیں اگر وہ یہاں سے روتا ہو ا جاتا ہے تو سمجھ لیں کہ آپ کامیاب ہیں ۔ پاکستان کشمیریوں کی مددکرتا ہے تو انصاف پسند دنیا آپ کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نواز شریف کے مظفر آباد میں کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرہ لگانے سے ایک امید پیدا ہوئی تھی کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا کردار اد ا کرے گالیکن اس کے بعد جرأتمندا نہ کردا ر دیکھنے میں نہیں آرہا۔دفاع پاکستان کونسل اور جماعۃالدعوۃ کے مرکزی رہنما پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہاکہ بھارتی وزیر داخلہ کا استقبال کرکے اسے کشمیریوں کے قتل کا لائسنس دیا جارہا ہے۔ کشمیر میں بے پناہ ظلم کے باوجود بھارت ڈھٹائی کا مظاہرہ کر رہا ہے جبکہ پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کی مدد کے سلسلہ میں سردمہری دکھائی جارہی ہے۔ کشمیری عوام پاکستان کے حق میں نعرے لگارہے ہیں حکومت پاکستان کو بھی ان کا کھل کر ساتھ دینا چاہیے اور انڈیا کی ریاستی دہشت گردی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا چاہیے۔ جمعیت اہلحدیث کے ناظم اعلیٰ علامہ ابتسام الہٰی ظہیر نے کہاکہ راجناتھ سنگھ کی پاکستان آمد سے کشمیریوں اور بنگلہ دیش کے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکا گیا۔بھارتی وزیر داخلہ ایسے موقع پر پاکستان آئے ہیں جب کشمیر اور بنگلہ دیش دونوں مقامات پر ظلم کی انتہا ہے۔ تحریک حرمت رسول ﷺ کے کنوینر مولانا امیر حمزہ نے کہاکہ اسرائیل کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کچلنے کیلئے انڈیا کی مدد کر رہا ہے۔ پیلٹ گن بھی اسرائیل کی جانب سے انڈیا کو دی گئی۔ امیر جماعت اہلحدیث حافظ عبدالغفار روپڑی نے کہاکہ راجناتھ سنگھ ہزاروں کشمیری مسلمانوں کا قاتل ہے‘ اسے پاکستان میں پروٹوکول دینا کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے ۔

مزید :

صفحہ اول -