ترک وزیر خارجہ کو گولن تحریک کے سکول بند کرانے کیلئے خود پاکستان کیوں آنا پڑا ؟

ترک وزیر خارجہ کو گولن تحریک کے سکول بند کرانے کیلئے خود پاکستان کیوں آنا پڑا ...

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ فتح اللہ گولن کی این جی او کے تحت کام کرنے والے ترک سکولوں کو بند کیا جائے، ترکی کے اندر یہ سکول پہلے ہی بند کئے جا چکے ہیں۔ فتح اللہ گولن سکالر ہیں اور امریکہ میں مقیم ہیں، ان کی این جی او ’’خدمت‘‘ کے نام پر دنیا بھر میں فلاحی اقدامات کرتی ہے، پاکستان میں سکولوں کے علاوہ بھی اس تنظیم کے فلاحی اقدامات کا سلسلہ پھیلا ہوا ہے۔ اس کے تحت کئی تھنک ٹینک بھی کام کرتے ہیں، جن کے ذریعے فتح اللہ گولن کا پیغام لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ وہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی اے کی پارٹی کی ابتدائی کامیابیوں میں متحرک کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ جب اردوان پہلی مرتبہ وزیراعظم بنے تو ان کی کامیابی میں اردوان کے کردار کا بھی عمل دخل تھا لیکن گزشتہ چند برسوں سے گولن اور اردوان کے اختلافات بہت بڑھ گئے۔ صدر اردوان اس سے پہلے بھی گولن پر یہ الزام لگا چکے ہیں کہ وہ ترکی میں پرتشدد مظاہرے کرواتے رہے ہیں، ان مظاہروں کو قوت کے ذریعے دبا دیا گیا۔ تاہم گولن تحریک کے حامیوں نے مظاہرین پر پولیس تشدد کی ویڈیوز دنیا بھر میں پھیلا دیں اور ان کے ذریعے پروپیگنڈہ کیا گیا کہ پر امن مظاہروں کو وحشیانہ تشدد کے ذریعے کچلا جا رہا ہے اب صدر اردوان کھل کر کہہ رہے ہیں کہ 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت میں ان لوگوں کا ہاتھ تھا جو گولن کی تعلیمات سے متاثر تھے۔ ترک حکومت امریکہ سے گولن کی حوالگی کا باقاعدہ مطالبہ بھی کرچکی ہے اور امریکہ کے بعض جرنیلوں کا بغاوت میں کردار بھی سامنے لاچکی ہے۔ اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ اس تحریک کے اثرات ترکی معاشرے میں بڑے گہرے ہیں اور تحریک کے ساتھ ترکوں کی ہمدردیاں بھی ہیں۔ ان ہمدردیوں کا اظہار مختلف زاویوں سے ہوتا رہتا ہے۔ تحریک کے حامی دل کھول کر مالی وسائل بھی فراہم کرتے ہیں جن کی بنیاد پر یہ تحریک دنیا بھر میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، پاکستان میں بھی پاک ترک سکول اس تنظیم کے زیر اہتمام کام کر رہے ہیں، اگرچہ چند برس سے ’’خدمت‘‘ کی سرگرمیوں پر ترک حکومت نے نظر رکھی ہوئی تھی لیکن ان کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا گیا تھا، اب ترکی کے اندر گولن کے حامیوں کی گرفتاریاں شروع ہوئی ہیں اور فوج، عدلیہ، تعلیمی اداروں وغیرہ میں ان کے حامیوں کو ملازمتوں سے نکالا جا رہا ہے تو ترک وزیر خارجہ خود چل کر پاکستان آئے ہیں، ان کی آمد کا بنیادی مقصد ترک سکول بند کرانا ہے۔ پاکستان نے اس سلسلے میں ترک حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے مثبت جواب دیا ہے تاہم ابھی تک یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ ان ترک سکولوں کا کیا کیا جائیگا۔ جہاں ایک اطلاع کے مطابق گیارہ ہزار طلباء زیر تعلیم ہیں۔ اب تک یہ طے نہیں ہے کہ ان سکولوں کو چلانے کے لئے کوئی نئی انتظامیہ ذمہ داریاں سنبھالے گی یا پھر کوئی اور انتظام کیا جائیگا لیکن یہ امر تو واضح ہے کہ اب یہ سکول موجودہ انتظامیہ اور گولن تحریک کے تحت نہیں چل سکتے۔

اردوان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے سلسلے میں گولن تحریک کے پیروکار کس حد تک ملوث تھے اس کا ایک اندازہ تو ان گرفتاریوں، پکڑ دھکڑ اور برطرفیوں سے ہو جاتا ہے جو ترکی میں جاری ہیں، اگرچہ خود فتح اللہ گولن ایک سے زیادہ بار اس امر کی تردید کرچکے ہیں کہ وہ ترک حکومت کا تختہ الٹنے کی کسی سازش میں ملوث ہیں۔ امریکہ بھی کہہ چکا ہے کہ اگر ترکی کی حکومت کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو امریکہ کے حوالے کئے جائیں۔ اس کے بغیر گولن کے خلاف کوئی اقدام نہیں اٹھایا جاسکتا۔ لیکن اب ایک چونکا دینے والی خبر موصول ہوئی ہے جو اگر درست ہے تو اس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ فتح اللہ گولن کے خلاف اردوان کے الزامات میں بڑی حد تک حقیقت کا عنصر پایا جاتا ہے اور ایسا نہیں کہ حکومت نے گرفتاریاں کسی ثبوت اور وجہ کے بغیر ہی شروع کر دی ہوں۔ فتح اللہ گولن نہ صرف معاشرے میں ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے سرگرم عمل تھے بلکہ اردوان حکومت کے خلاف لوگوں کے جذبات ابھارنے کے سائنٹیفک طریقے بھی اپنا رہے تھے۔ اس مقصد کے لئے جدید دور کی ایجاد ’’ڈس انفارمیشن‘‘ کا سہارا بھی لے رہے تھے۔ برطانیہ کے معتبر اخبار ’’دی ٹائمز‘‘ میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق فتح اللہ گولن نے برطانوی پارلیمنٹ کے رکن ایڈورڈ گارنیئر کو ترکی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متعلق بوگس رپورٹ تیار کرنے کے لئے ایک لاکھ 53 ہزار ڈالر ادا کئے تھے۔ اس رپورٹ میں جعل سازی پر مبنی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نمایاں کرنا تھا۔ گولن تحریک کے تحت جو تھنک ٹینک دنیا بھر میں قائم کئے گئے ہیں، وہ پولیس تشدد پر مبنی رپورٹیں میڈیا کے نمائندوں کو دکھاتے رہے ہیں۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی جعلی رپورٹ تیار کرنے کا مقصد یہی تھا کہ بغاوت سے پہلے اردوان کے خلاف فضا ہموار کی جاسکے۔ برطانوی اخبار کی رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ناکام بغاوت میں مغربی ملکوں کے لوگوں کے ملوث ہونے کا جو الزام ترک صدر کھل کر لگا رہے ہیں وہ بے بنیاد نہیں ہے۔ اس خبر سے گولن کے اس دعوے کا بھی بطلان ہو جاتا ہے کہ ان کا ناکام بغاوت میں کوئی کردار نہیں۔

مزید : تجزیہ