حلب کا محاصرہ توڑنے کیلئے بدترین جھڑپیں، باغیوں کی شیلنگ، 40ہلاک

حلب کا محاصرہ توڑنے کیلئے بدترین جھڑپیں، باغیوں کی شیلنگ، 40ہلاک

حلب(این این آئی)شامی صوبہ حلب میں خونریز جھڑپوں اورشہر کا محاصرہ توڑنے کے لیے باغیوں کی جانب سے کی گئی شیلنگ کے نتیجے میں 11بچوں سمیت 40شہری ہلاک ہوگئے ،میڈیارپورٹس کے مطابق لندن میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ عبدرلرحمن رامی نے ایک بیان میں بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سات خواتین بھی شامل ہیں۔ شام کے حالات پر نظر رکھنے والی اس تنظیم کے سربراہ رامی عبدالرحمان کے مطابق الحمدانیہ اور راموسے کے علاقوں میں 11 بچے بھی ان حملوں کی نذر ہو گئے۔ شامی صدر بشارالاسد کی فورسز نے اپوزیشن کے زیر قبضہ حلب کے علاقے میں پر قبضہ کر لیا تھا جس کی وجہ سے باغیوں کا سپلائی روٹ منقطع ہو گیا تھا۔باغیوں کی طرف سے اب کوشش کی جا رہی ہے کہ حکومتی فورسز کے زیر قبضہ علاقوں پر دوبارہ قبضہ حاصل کیا جائے اور یہ دونوں علاقے باغیوں کے حملوں کا خاص طور پر نشانہ ہیں۔سیریئن آبزرویٹری کے مطابق حکومتی فورسز نے گزشتہ شب جوابی حملہ کر کے کچھ علاقوں پر قبضہ حاصل کر لیا تھا، جس کے بعد باغیوں کی طرف سے بھاری شیلنگ کا سلسلہ مسلسل جاری رہا۔سیریئن آبزرویٹری کے مطابق حکومتی فورسز کے جہازوں نے حلب کے علاقوں شیخ سعید اور السْکاری کے علاقوں میں کئی علاقوں پر حملے کیے جن کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے،شامی سرکاری میڈیا کے مطابق ملکی فورسز نے ’دہشت گردوں‘ کے زیر قبضہ علاقوں میں متعدد فضائی حملے کیے۔ تاہم اپوزیشن کی طرف سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ حلب پر جلد قبضہ کر لیں گے۔ اپوزیشن سٹی کونسل کے سربراہ بیریتا الحاج حسن کی طرف سے خبر رساں ادارے کو ایک فیس بْک پیغام میں بتایا گیاکہ اگر باغیوں نے حلب کے جنوب مغربی حصے میں حکومتی قبضے میں موجود علاقوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا تو پورے حلب کو ایک ہفتے میں آزاد کرا لیا جائے گا۔گذشتہ ماہ جب سرکاری افواج نے باغیوں کا راستہ مسدود کر دیا تو اس کے بعد سے ڈھائی لاکھ کے قریب افراد باغیوں کے علاقے میں گھر کر رہ گئے ہیں۔ایک باغی کمانڈر نے خبررساں ادارے کو بتایا کہ ہماری نظریں رموسہ پر ہیں لیکن روسی طیارے شدید بمباری کر رہے ہیں، جس سے ہمیں تیزی سے پیش رفت میں مشکل ہو رہی ہے۔ایک زمانے میں حلب شام کا تجارتی دارالحکومت تھا اور وہاں بیش بہا تاریخی آثار موجود ہیں۔ لیکن اس خزانے کا بڑا حصہ پانچ سال سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ کے دوران تباہ ہو چکا ہے۔

روس اور شام نے اعلان کیا ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کے تحت شہریوں اور ہتھیار ڈالنے والے باغیوں کے لیے گزرگاہیں کھول رہے ہیں۔ تاہم اب تک بہت کم لوگوں نے ان کا استعمال کیا ہے۔

مزید : عالمی منظر