پاکستان جلد نیو کلیئر سپلائرز گروپ کاممبر بن جائیگا :وزارت خارجہ

پاکستان جلد نیو کلیئر سپلائرز گروپ کاممبر بن جائیگا :وزارت خارجہ

اسلام آباد (آن لائن) قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ ہمسایہ ممالک افغانستان بھارت ایران کیساتھ گزشتہ تین سالوں کے دوران اربوں روپے کی درآمدات اور برآمدات کی گئی ہیں بدھ کے روز قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران تحریری طور پر بتایا گیا کہ مالی سال 2013-14ء کے دوران افغانستان سے36ارب76کروڑ روپے کی اشیاء درآمد کی گئیں جبکہ برآمدات کا حجم176ارب روپے سے زائد ہے جبکہ مالی سال2013-14کے دوران چین سے853ارب روپے کی اشیاء درآمد کی گئیں۔ جس میں برآمدات کی حجم246ارب روپے سے زائد کا تھا۔ جبکہ بھارت سے220ارب سے زائد کی اشیاء درآمد کی گئیں اور بھارت کیساتھ درآمدی حجم47ارب 98کروڑ روپے رہا ہے جبکہ نیوکلیئر سپلائر گروپ میں ش مولیت کے حوالے سے وزارت خارجہ نے تحریری جواب جمع کرا دیا جس میں بتایا گیا کہ پاکستان نے نیو کلیئر سپلائر گروپ میں شمولیت کے لئے تحریری طور پر درخواست دے رکھی ہے اور این ایس جی کی حمایت کے لئے وسیع سفارتی کوششیں جا رہی ہیں۔ ایس این جی میں شامل ممالک کے ہم منصب حضرات کو وزیراعظم نے خطوط بھی لکھ دیئے ہیں ممبران قومی اسمبلی کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ نیوکلیئر گروپ (ایس این جی) کی رکنیت کے لئے رسمی درخوات دینے کے بعد پاکستان نے ایس این جی کے اندر سے حمایت حاصل کر لی ہے اور جس کی مدد سے بھارت کو اس کا ممبر بننے نہیں دیا گیا اور جلد پاکستان اس کا ممبر بن جائیگا اور امریکہ بھارت کو زیادہ اہمیت دیتا ہے اور اس سلسلے میں پالیسیاں واضح کی جا رہی ہیں کہ پاکستان اپنا ایک رول پلے کرے ۔ شیریں مزاری نے کہا کہ ہم صرف چین پر انحصار نہیں کر سکتے۔ ہمیں اپنی پالیسیاں خود واضح کرنی ہونگی اور ایس این جی میں حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے جس پر عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ ایک واضح پالیسی موجود ہے اور ہم اپنا رول ادا کر رہے ہیں۔ محترمہ شائستہ پرویز نے سوال کیا کہ حکوت جعلی کمپنیوں کے خلاف کیا ایکشن لے رہی ہے جو کہ سادہ لوح عوام کو لوٹتے ہیں اور غیر قانونی طور پر لوگوں کو پالیسی بھیجتے ہیں۔ سردار شفقت حیات نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ نادرا کی کولیبریشن کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ آیا مذکورہ شخص کا پروٹیکٹر لگا ہوا ہے یا نہیں ۔ اس کے بعد اسے ٹکٹ جاری کیا جائیگا۔ بیرون ملک بھیجنے کے لئے گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ کوئی خاص معاہدے نہیں ہیں ۔ ماسوائے کہ وہ اپنی ڈیمانڈ بتاتے ہیں اور ہم پھر اس حساب سے اقدامات کر کے لوگوں کو باہر بھیجا جا رہا ہے ۔ عائشہ سید نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جعلی دستاویزات کے ساتھ باہر بھیجنے والے افراد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور لگتا ہے کہ منسٹری سوئی ہوئی ہے جس پر سردار شفقت حیات نے جواب دیا کہ اقدامات کئے جا رہے ہیں اور بہت جلد اس پر قابو پالیا جائیگا۔ صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ اج کے سیشن میں جو سوالات پوچھے گئے ہیں ان میں تقریباً تمام خواتین ممبران کے سوالات شامل ہیں جس سے ہاؤس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں ا ور ہمارے سوالات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے زاہد حامد نے کہا کہ اپکستان نے ابھی تک انفارمیشن ٹیکنالوجی ایگریمنٹ نہیں کیں اس معاہدے میں شامل ہونے سے تامل برتنے کی دو اہم وجوہات ہیں ایف بی آر کے کچھ تحفظات تھے جو کہ جلد حل ہو جائیں گے وزارت تجارت نے2006میں چین کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر دستخط کئے جو 2007ء میں موثر ہوا۔ ایف ٹی اے پر عملدرآمد کے نتیجے میں چین کو پاکستان کی شرح نمو میں اضافہ ہوا ہے اس میں تجارت کا حجم4ارب ڈالر تھا۔ ہم2014-15ء میں تقریباً2.1ارب ڈالر بڑھ گئیں۔ جس کے باعث شرح نمو265فیصد رجسٹرڈ کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ 2010ء آرٹیکل30کے تحت اشیاء کے ٹرانزٹ پر کوئی ڈیوٹی اور ٹیکس قابل قبول نہیں ہے۔ لاہور اسلام آباد چیمبرز سے خواتین کو باہر بھیجا گیا ہے اور کوشش ہے کہ تمام صوبوں میں خواتین کو نمائندگی دی جائے۔برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد کوشش ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان فری ٹریڈ معاہدے کئے جائیں اور پہلے بھی برطانیہ کیس اتھ ٹریڈ تھی لیکن اب اس کے لئے کوئی پلان بنا رہے ہیں تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان ٹریڈ کے حجم کو بھی بڑھایا جائے ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ کچھ لوگوں کو فیورٹ کر کے باہر بھیجا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں زاہد حامد نے جواب دیا کہ کوشش ہوئی ہے کہ سب سے ہلے ملک کی انڈسٹری کو اہمیت دی جائے ۔ رانا محمد حیات نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کاٹن کی فصل تباہی کی جانب گامزن ہے اور 18ترمیم کے بعد ہو گی اور کمپنی کو دی گئی ہے اسے فوڈ سکیورٹی وزارت کے سپرد کیا جائے ۔ زاہد حامد نے جواب دیا کہ کاٹن کی طرف توجہ ہے اور کاٹن کے نرخوں میں تقریباً 20فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ جس میں مزید بہتری کے لئے کوششیں جاری ہیں تاکہ ملک کاٹن میں خود کفیل ہو سکے۔

مزید : کراچی صفحہ اول