ضیااور جیلانی کے پیروکار ہمیں جمہوریت کا درس نہ دیں :عمران خان

ضیااور جیلانی کے پیروکار ہمیں جمہوریت کا درس نہ دیں :عمران خان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ احتساب کا عمل مجھ سے شروع کیا جائے۔ہماری تحریک کا اختتام لاہور میں ہوگا۔ وزیراعظم اور ان کا خاندان بیرون ملک پیسہ رکھنے کے الزام تلے دبے ہوئے ہیں۔سب کچھ جاننے کے باوجود ٹی او آر کمیٹی کے اجلاس میں جا کرحکومت کو ایک موقع اور دے رہے ہیں۔اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں عمران خان نے کہا کہ جمہوریت میں وزیراعظم پارلیمنٹ اور عوام کو جوابدہ ہیں لیکن وہ اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ ان کو فارغ کر دینا چاہئے۔کبھی وہ کچھ کہتے ہیں اور کبھی کچھ کہتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم نے فلیٹ 1996میں نہیں خریدے اگر ایسا نہیں تو اس کی رجسٹریاں ہم نے کیسے حاصل کر لیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی او آرز کمیٹی میں جا کر ہم حکومت کو ایک اور موقع دے رہے ہیں لیکن ساتھ ہی عوام کو تیار بھی کر رہے ہیں۔ہم سات اگست سے بیداری تحریک شروع کر رہے ہیں وہ ابھی ہماری تیاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ بھی جا سکتے ہیں۔اب ہم رکیں گے نہیں یہ تحریک حکمرانوں کے خاتمے تک جاری رہے گی۔پہلا مرحلہ پشاور سے پنڈی دوسرا مرحلہ13سے27اگست تک پنڈی سے اسلام آباد تک ہوگا۔ اسلام آباد میں بتاونگا کہ اب کیا کرنا ہے لیکن ہمارا فوکس لاہور پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن کمیشن کو نیب سے بھی رابطے کر رہے ہیں تاکہ حکومت یہ نہ کہہ سکے کہ ہم متعلقہ فورمز پر نہیں جاتے لیکن افسوس ہے کہ نیب نے کسی بڑے کو نہیں پکڑا۔ یہ تو خود لوٹ مار میں ملوث ہے جہاں ماہانہ اربوں روپے کی لوٹ مار کی جاتی ہے۔ایف بی آر والے بتائیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ یہ ادارہ بھی ن لیگ کا ذیلی ادارہ بن چکا ہے۔جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم جمہوریت کیخلاف سازش کر رہے ہیں ان کو جمہوریت کا ہی پتہ نہیں۔ یہ وہ لوگ کہہ رہے ہیں جنہوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا۔ جو جیلانی اور ضیا کی پیداوار ہیں جنہوں نے مہران بنک سے پیسہ لیا۔جب ہم اپنے حق کیلئے احتجاج کی بات کرتے ہیں یہ کہتے ہیں کہ جمہوریت خطرے میں ہے۔ کہتے ہیں کہ ہم فوج کو بلا رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ کشمیر میں جو مظالم ہو رہے ہیں ان پر بھارت کے اندر بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔یہ ایک انسانی حقوق کا ایشو ہے

مزید : کراچی صفحہ اول