کراچی میں پانی کی تقسیم ،سپریم کورٹ نے حکومت سندھ سے جواب طلب کر لیا

کراچی میں پانی کی تقسیم ،سپریم کورٹ نے حکومت سندھ سے جواب طلب کر لیا

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ حکومت سے کراچی میں پانی کی تقسیم، ہائڈرنٹس اور دیگر پر تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی ہے۔ کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ نے شہر میں غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے حوالے سے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی ہے ۔عدالت عظمیٰ نے پانی کے میٹرز کی عدم تنصیب پر شدید اظہار برہمی کرتے ہوئے چیف انجینئر کو جواب دہی کے لیے فوری طور پر طلب کرلیا ہے ۔بدھ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے شہر میں غیر قانونی ہائیڈرنٹس سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔واٹر بورڈ انتظامیہ نے ہائیڈرنٹس کے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرادی ہے ۔رپورٹ کے مطابق شہر بھر سے غیر قانونی ہائیڈرنٹس ختم کر دئے ہیں۔11ہائیڈرنٹس واٹربورڈ خود چلارہا ہے ۔عدالت نے استفسار کیا کہ واٹربورڈ ہائیڈرنٹس کیوں چلارہا ہے ۔ڈپٹی ایم ڈی واٹربورڈ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جن علاقوں میں جہاں پانی سپلائی نہیں ہوتا وہیں ٹینکر ذریعے پانی فراہم کیا جارہا ہے ۔سپریم کورٹ نے پانی کے میٹرز کی عدم تنصیب پر اظہار برہمی کرتے ہوئے استفسار کیا کہ اب تک شہر میں پانی کے میٹرز لگانے کا کام کیوں شروع نہیں ہوا۔حفیظ الدین ایڈوکیٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 2008 میں 44 کروڑ روپے کے میٹرز منگوائے گئے کچھ معلوم نہیں کہ میٹرز کہاں گئے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ شہر میں بجلی کے 13 لاکھ صارفین ہیں تو پانی کے صرف 3 لاکھ رجسٹرڈ صارفین کیوں ہیں۔اس حوالے سے چیف انجینئر واٹربورڈ کو جواب دہی کے لیے فوری طور پر پیش ہونے کا حکم جاری کیا گیا ۔شہر میں پانی کے تقسیم کار کا بوسیدہ نظام ہونے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیئے کہ کراچی میں والوو مین بادشاہ بنا ہوا ہے۔عدالت نے سندھ حکومت سے کراچی میں پانی کی تقسیم، ہائڈرنٹس اور دیگر پر تفصیلی جواب طلب کرلیا ،جس پر سندھ حکومت نے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کرلی ہے ۔عدالت عظمیٰ نے کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی ہے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول