رابعہ نصیر ہلاکت کیس،رینجرز نے عامر خٹک کے خلاف انکوائری شروع کر د ی

رابعہ نصیر ہلاکت کیس،رینجرز نے عامر خٹک کے خلاف انکوائری شروع کر د ی
رابعہ نصیر ہلاکت کیس،رینجرز نے عامر خٹک کے خلاف انکوائری شروع کر د ی

  

لاہور(آن لائن) پاکستان رینجرز کے اعلیٰ افسران نے مال روڈ پر فائیو سٹار ہوٹل میں خودکشی کرنے والی لڑکی رابعہ نصیرکو آخری کال کرنے والے ان کے آفیسر عامر خٹک کے خلاف انکوائری شروع کر دی ہے۔

مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان رینجرز کے ترجمان کے مطابق ادارے کے قواعد وضوابط کے مطابق کسی بھی افسر اور جوان کو یہ اجازت نہیں ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو۔ ڈیپارٹمنٹل انکوائری کے بعد اسے سزا کا فیصلہ ہوگا،اگر وہ پولیس کو مطلوب ہوا تو پھر پولیس بھی اس کے خلاف کارروائی کر سکے گی۔جبکہ اعلیٰ پولیس افسر کے مطابق رابعہ کی خودکشی کے وقت عامر خٹک جائے وقوعہ پہ موجود نہ تھا، طویل عرصہ سے اس کے لڑکی کے ساتھ تعلقات کے شواہد سامنے آئے ہیں لیکن قانون طور پر اس کے خلاف کارروائی کرنا مشکل ہوگی، تاہم ابھی تک پسٹل کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل سکا کہ اس نے کہاں سے لیا۔

عامر خٹک نے رابعہ سے جنسی تعلقات سے بھی انکار کیا ہے لیکن میڈیکل رپورٹ ابھی آنا ہے جس کے بعد یہ واضح ہو گا کہ اصل صورتحال کیا ہے۔ عامر خٹک پولیس کے پاس صرف بیان دینے آیا تھا پھر پولیس نے اسے جانے دیا۔ رابعہ کے بارے میں مزید پتہ چلا ہے کہ وہ گھر والوں کو کالج کا کہہ کر ہی آئی تھی لیکن وہ کالج نہیں جاتی تھی کیونکہ وہ کالج کی طالبہ ہی نہ تھی اور نہ ہی گھر والوں نے زحمت گوارہ کی کہ وہ کالج سے معلومات حاصل کریں۔ پولیس ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں میڈیکل اور فرانزک رپورٹ آ جائیگی جس کے بعد یہ کیس داخل دفتر ہو جائیگا۔

آن لائن کے مطابق رابعہ نصیر کی پراسرار ہلاکت کی تفتیش کرنے والی پولیس ٹیم نے شامل تفتیش چار افراد کے پولی گرافک ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان افراد کے پولی گرافک ٹیسٹ کا مقصد ان کی جانب سے دئیے گئے بیانات کے بارے میں سچ ا ور جھوٹ کی تصدیق کرنا ہے۔

مزید : لاہور