جشن آزادی ضرور منائیے ، مگر کیا یہ قائد کاہی پاکستان ہے؟

جشن آزادی ضرور منائیے ، مگر کیا یہ قائد کاہی پاکستان ہے؟
جشن آزادی ضرور منائیے ، مگر کیا یہ قائد کاہی پاکستان ہے؟

  

14اگست کی آمد آمدہے اور لوگوں کا جوش دیدنی ہے۔ بچے ، جوان، بوڑھے سبھی اس آزادی کا دن منانے کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ٹی وی چینلز، اخبارات ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوششوں میں لگے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دو چار اشتہارات چلا کر ٹی وی اور دیگر اداروں کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے؟اگر تو ان چیزوں سے ان کی ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے تو، بالکل درست ....ہونا چاہیے یہ سب کچھ ۔

آزادی کا دن جوش و خروش سے ہی منایاجانا چاہیے۔ لیکن ذرا ٹھہریئے تھوڑا موازنہ تو کر لیں کہ کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کا خواب علامہ اقبال ؒ نے دیکھا تھا اور قائداعظم نے اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تگ و دو کی تھی اور پھر ان گنت قربانیاں دے کر یہ وطن حاصل کیاتھا؟ کیاہم وہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس کی خاطر لاکھوں مسلمان اپنی جان سے گئے؟

15نومبر1942کو آل انڈیا مسلم فیڈریشن کے اجلاس میں ایک سوال کے جواب میںقائد اعظم نے کہا تھا ©© : ’ مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیاہوگا؟ پاکستان کاطرز حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن کریم نے وضاحت کے ساتھ بیان کردیا تھا۔ الحمدللہ قرآن مجید ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا‘۔

تو کیا پاکستان میں وہی طرز حکومت ہے؟ جمہوریت کے منہ پرتو یہ طمانچہ ہے کہ حکمرانوں کا حال یہ ہے کہ وہ پاکستا ن کولوٹنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ قانون نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا حساب ہوا ہوا ہے۔ جس کے پاس پیسہ قانون بھی اسی کا ہے وہ کیا خوب کسی نے کہا ہے کہ

ماڑے دی مرگئی ماں تے لیندا کوئی نئیں نال

تگڑے دا مرگیا کتا سارا پنڈ نئی راتی سُتا

یہی حال ہمارے پاکستان کا ہے قائد اعظم کے نظریات کے تو ہم پاس سے بھی نہیں گزرے غریب کا تو یہاں کوئی پرسان حال ہی نہیں۔

پھر 6ستمبر1943 کو کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے 31ویں اجلاس میں قائداعظم نے فرمایا ’ وہ کون سا رشتہ ہے جس سے منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں وہ کون سی چٹان ہے جس پر ان کی ملت کی عمات استوار ہے وہ کون سا لنگر ہے جس پر امت کی کشتی محفوظ کردی گئی ؟وہ رشتہ، وہ چٹان ، وہ لنگراللہ کی کتاب قرآن کریم ہے۔مجھے امید ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھتے گئے قرآن مجید کی برکت سے ہم میں زیادہ سے زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گا۔ ایک خدا،ایک رسولﷺ ایک کتاب، ایک امت‘۔

آج نظر دوڑائیں کہیں اتحاد نظرآرہاہے؟ کیا ہم جسدواحد کی طرح ہیں؟ کیا ہم قرآن کریم پر عمل پیرا ہیں؟بلکہ یہاں توکشتی کے سوار ہی کشتی کوڈبونے میں لگے ہوئے ہیں۔ کسی کوکسی کا احساس نہیں مسلم امہ کا آج شیرازہ بکھر کر رہ گیا ہے۔ دوسروں کے ساتھ نہ دینے کا کیا گلہ شکوہ ہمارا تو اپنا وطن پاکستان بکھرا ہوا نظرآرہاہے۔ کوئی جائیداد کی خاطرلڑمررہاہے کوئی مسلک کی بنیاد پر لڑرہے ہیں ، اتحاد ، یہ لفظ تو اب بالکل کتابوں تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ اہل کفار نے یہ عہد کیا ہوا ہے کہ وہ ہمیں کبھی اکٹھا نہیں ہونے دیں گے اور وہ اس میں کامیاب ہیں اور اس میں ان کا ساتھ ہمارے اپنے ہی میر جعفر اور میر صادق دے رہے ہیں ہماری اپنی صفوں میں دشمن کے سپاہی کھڑے ہیں ۔

اندھیرنگری چوپٹ راج والا حساب ہے ۔جس کی جو ذمہ داری ہے اسے خبر ہی نہیںکہ ذمہ داری ہوتی کیا ہے۔ جہاں حکومت محض میڈیا پر فوٹو سیشن کرواتی نظر آتی ہے وہیں ہماری فوج کا حساب لگا لیں ۔فوج کاکام سرحدوں کی حفاظت کرناہوتا ہے لیکن یہاں حساب ہی الٹا ہے فوج کو سرحدوں کی فکر کم اور حکومت کی فکر زیادہ ہے۔ قائداعظم فوج کے سیاست میں ملوث ہونے کے اس درجہ مخالف تھے کہ جب سبھاش چندربوس نے جاپان کی مدد سے انڈین نیشنل آرمی قائم کی تو قائداعظم نے یہ کہہ کر اس کی مذمت کی کہ فوج کو سویلین اتھارٹی کی حکم عدولی کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

قیام پاکستان کے بعد جون 1948 کو خطاب کرتے ہوئے محمد علی جناح نے کہا فوج پر لازم ہے کہ وہ دستور کا احترام کرے۔ جس پاکستان کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا اس میں عوام مقتدر اعلیٰ کی حیثیت رکھتے تھے۔لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان میں حکومت ہی فوج کرتی ہے اور سویلین قیادت چند دیگر امور میں مگن ہے۔

ارباب اقتدار کا یہ مشن ہو چکا ہے کہ کھا ﺅ ،پیو موجیں اُڑاﺅ اور چلتے بنو کیا پتہ کب کس کی باری آ جائے ان کو اپنی جائیدادیں بنانے کا غم کھائے جاتا ہے۔ عوام کا غم تو ان کو نظر ہی نہیں آتا بے روزگاری،لوڈ شیڈنگ،مہنگائی ،ڈاکہ زنی،وہ نوجوان جن کو قائد نے مستقبل کی کامیابی کا زینہ کہا تھا وہ بے روزگار سڑکوں پر دھکے کھا رہے ہیں، انصاف کا قتل عام ہو رہا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ۔

بہر حال عرضداشت یہ ہے کہ ہم آزاد نہیں ہیں ہم جسمانی طورپر آزاد ضرور ہیں لیکن ذہنی غلامی وہیں برقرار ہے۔ ہندوانہ رسوم، ہندوانہ طرز زندگی ، ہر چیز میں ان کی مشابہت اختیار کی ہوئی ہے۔ جن نظریات کے نام پر ہم نے یہ وطن حاصل کیاتھا، اگر ہم ان کو ہی بھول بیٹھے ہیں توکہاں کی آزادی اور کہاں کا پاکستان؟اس پرآزادی کا نعرہ لگانے والوں کے نعرے بھی کھوکھلے ہیں۔سارا سال غلامی میں گزارنے کے بعد ایک دن کے لیے اپنے دل کو تسلی دینے کے لیے یہ آزادی والا ڈھونگ رچاتے ہیں ۔ معذرت مگر آزادقوموں کا یہ طرز زندگی نہیں ہوتا۔ آزادی کے حصول کے بعد ستر سال ہونے کو آئے ہیںاور ابھی بھی جشن آزادی صرف میڈیا اور خالی نعروں تک ہی محدود ہے جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ قائد و اقبال کے خواب کی تعبیر کر کے حقیقی جشن آزادی منایا جائے۔

مزید : بلاگ