حج پر روانگی کی رات

حج پر روانگی کی رات
 حج پر روانگی کی رات

  

صُبح گیارہ بجے کی فلائٹ ہے سات بجے تک ائیر پورٹ پہنچنے کا حکم ہے۔رات گیارہ بجے آفس سے گھر واپس آیا ہوں۔اخباری دنیا تو ویسے ہی مصروفیت کی دنیا ہے ۔اس میں صبح وشام اور دن یا رات کی کو ئی تمیز نہیں ہوتی آندھی ہویا طوفان ‘بارش ہویا سیلاب‘غم ہویا خوشی‘اخبار نے تیار ہو کر پریس جانا ہے اور پھر لوگوں کے نیند سے بیدارہونے سے پہلے مارکیٹ اور پھر وہاں سے گھروں تک ہر صورت جانا ہوتا ہے۔

دو دن تک تو حاجی کیمپ میں آنا جانا ہوا۔تربیت بھی ہوئی،طریقہ کار سے آگاہی بھی ،کہاں کب تک جانا ہے وہاں قیام کب تک ہوگا اور پھر وہاں سے واپسی کیسے ہوگی۔اگلا قیام اور مقام کہا ں ہوگا آداب کا خیال کیسے رکھنا ہوگا۔اگر چہ یہ سب کچھ کتابوں اور کتابچوں میں موجود ہے۔دعائیں اور مناسک حج کے مدارج بھی ہیں۔وہاں سے فارغ ہو کر دفتری اُمور پر توجہ ذمہ داریوں کا تعین‘سب کچھ ہو چکا تھا۔خیال تو یہی تھا کہ اب آرام ہوگا اور صبح فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد روانگی اور تیاری رب ذوالجلال کے سامنے حاضری! دفتر سے واپسی پر تھکاوٹ سے جسم چور چور تھا۔پلکیں نیند سے بوجھل تھیں۔مگر ذہن میں نیند کا دور دور تک کہیں شائبہ بھی نہیں تھا۔جسم میں کروٹیں تو تھیں مگر ذہن کبھی خانہ کعبہ کے ارد گرد طواف کرتا تو کبھی روضہ رسولﷺ کے سامنے التجاوٗں اور دعاوں کے جم غفیر کے سا تھ پہنچ جاتا او ر کہتا ’’تیری خیر ہووے پہرے دارا۔روضے دی جالی چُم لین دے‘‘۔خوشیوں کا ایک سمندر ہے جو رگ رگ میں موجزن ہے لہریں ساحل سے ٹکرا رہی ہیں ۔آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں اور پھر یہ خیال بھی ذہن میں اجاگر ہواکہ

’یہ سب تمہارا کرم ہے آقا‘ واقعتا ایسا ہی تو تھا۔یہ کرم نہ ہوتا تو بلاوا ہی کیو ں آتا۔ہزاروں نہیں لاکھوں ایسے افراد ہیں مجھ سے کہیں بہتر مسلمان اورحضور نبی کریم ﷺ کے چاہنے والے ہیں جن کی دیرینہ خواہش ہے لیکن ان کی حضوری منظور نہیں ہوئی۔وہ تڑپ رہے ہیں سسک رہے ہیں ۔انہیں یہ اعزاز حاصل نہیں ہوا۔

یہ وہ رشتہ ہے جو شاہوں کو ملا کرتا ہے بے اختیاری میں سر فخر سے بلند ہو گیا اور پھر خود ہی اس کرم کی عطا پر جھک گیا سجدہ شکر میں مجھ جیسے گنہگار کو اپنے خاندان سمیت یہ سعادت حاصل ہو رہی ہے۔

’یہ سب تمہارا کر م ہے آقا‘رات ڈھل رہی ہے آنکھوں میں تو نہیں مگر جسم میں ایک سر شاری ہے ذہن روضہ اقدس کی روشنیوں سے منور ہے درخواستیں،التجائیں اور دعائیں ذہن کی تاریکی میں کرنیں بنی ہوئی ہیں۔الفاظ کی کوئی صورت نہیں بن رہی بس اتنا کچھ ہی باقی رہا کہ یہ بھی کہنا ہے وہ بھی کہنا ہے۔یہ درخواست بھی کرنی ہے وہ گذارش بھی ۔جو بھی ہے وہ سب کچھ کہہ دونگا بیٹیوں کے لئے، بیٹے کے لئے،عزیزو اقارب کے لئے،دوستوں کے لئے‘اپنے پاکستان کے لئے۔لیکن پھر یہ خیال اچانک بجلی کی طرح کوند گیا کہ،اگر کچھ روضہ رُسول ﷺ کے سامنے یاد رہا تو پھر والد مرحوم کی وہ بات یاد آئی جو انہوں نے کہی تھی۔روضہ رسولﷺکے سامنے کچھ بھی یاد نہیں رہتا بس اُسے دیکھتے چلے جانے کو ہی جی چاہتا ہے۔جس میں نبی آخری زماںﷺ،دو جہانوں کے سرتاج اپنے رفیق غار ابو بکر صدیقؓ اور عزیز ترین دوست عمر فاروقؓ کے ساتھ آرام فر ما رہے ہیں۔

خیالات کی یہ کشاکش جاری تھی کہ فضاؤں میں اللہ اکبر ،اللہ اکبر کی آواز یں گو نجنے لگیں۔سب کچھ پیچھے رہ گیا ،نہ نیند رہی نہ تھکاوٹ۔وضو کیا اور خدائے بزرگ وبرتر کے حضور سر کو جھکا دیا۔یہ نماز فجر تھی جس میں سجدہ شکر بھی تھا۔اس ادائیگی میں وہ مستی وسر شاری تھی جو پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔اسی سر شاری میں قلم اٹھایااور اس رات کی روداد قلمبند کرنا شر وع کر دی۔یہ وہ وقت تھا جب بچے بھی جاگ اٹھے تھے اور انہوں نے ائیر پورٹ کی تیاری شر وع کر دی تھی ۔میں نے جو کچھ محسوس کیااُسے لکھا اور اپنے بیٹے کے حوالے کیا جو میرے جانے کے بعد آپ کی نظر سے گذرے گا۔سب پڑھنے والوں سے گذارش ہے کہ وہ میرے اور میرے خاندان والوں کے لئے دعا کریں کہ یہ سعادت قبول بھی ہو اور نجات کا ذریعہ بھی بنے۔

مزید :

کالم -