حُسنِ فطرت (جنگلی حیات) کے نگہبان

حُسنِ فطرت (جنگلی حیات) کے نگہبان
 حُسنِ فطرت (جنگلی حیات) کے نگہبان

  

کائنات کی ہر شے خدائے عزوجل کی تخلیق ہے اور وہی زندگی،موت اور رزق پر قادر ہے۔اللہ کا نائب اور اشرف المخلوقات ہونے کی بدولت انسان کو دیگر تخلیقات کی پرورش ونگہداشت کے ضمن میں بھی قدرت کی طرف سے ایک انتہائی اہم کردار سونپاگیا ہے۔جس کی بجا آوری ہی سے تصویر کائنات کے رنگوں کو بقا اور دوام حاصل ہے۔قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ، ترجمہ:

’’اوراُس نے آسمان کو بلند کیا اور توازن پیدا کیا تم اس توازن میں بگاڑپیدا نہ کرو‘‘ اگرچہ اللہ کی تخلیق ’’جو ذرہ ہے وہیں پہ آفتاب ہے ‘‘کہ مصداق دلکش ودلرُباہے مگر حسن فطرت کے شاہکار جنگلی چرند،پرند اور خزندکی حیرت انگیزصناعی قدرت کاوہ انمول عطیہ ہے جس کے بغیر یہ جہانِ رنگ وبو اُداس وبے کیف نظر آئے۔

پاکستان حسنِ فطرت کی دولت سے خوب مالا مال ہے۔ اس کے دریا ،ندی نالے،نہریں،آبگاہیں،آبگینے اور آبشاریں،اس کے فلک بوس ،برف پوش پہاڑاوراُن کی سنگلاخ چٹانیں،اس کے سر سبز وشاداب کھیت وکھلیان ،میدان اور وسیع وعریض چرا گا ہیں،اس کے گھنے،خاردار ،میدانی،پہاڑی اورنیم پہاڑی جنگلات،اس کے طویل تھل و صحرا ، اس کے دلکش ،دلفریب اور خوشگوار معتدل موسم جنگلی حیات کی بقا کیلئے انتہائی موزوں وسازگا ر ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہر سال موسم سرما میں دنیا کے دیگر سرد خطوں،روس،وسط ایشیائی ریاستوں اور سا ئبریا سے لاکھوں کی تعداد میں جنگلی پرندے خصوصََاآبی پرندے جن میں مختلف اقسام کی مرغابیا ں ،مگھ ، قاز ،کونجیں ،سارس، سوان، حواصل ، لم ڈھینگ ، بگلے جبکہ دیگر جنگلی پرندوں میں تلور اور باز شامل ہیں، ہجرت کرکے یہا ں آتے ہیں اور پانچ ،چھ ماہ قیام کے بعد واپس اپنے آبائی مسکن لوٹ جاتے ہیں ۔

پاکستان میں جنگلی حیات کی نگہبانی اور دیکھ بھال پر مامورمختلف سرکاری ونیم سرکاری ادارے اور تنظیمیں قومی،علاقائی اورصوبائی سطح پر قائم ہیں جو جنگلی حیات کی بقا اور تحفظ کیلئے بھرپور انداز میں کام کر رہے ہیں تاہم صوبہ پنجاب میں محکمہ تحفظِ جنگلی حیات وپارکس پنجاب اپنے انتہائی زیرک، معاملہ فہم ،مدبّراوراصلاحات پسند موجودہ ڈائریکٹرجنرل خالد عیا ض خان کی شبانہ روز کاوشوں کی بدولت ایک مختلف ڈگر پر انتہائی سرعت سے جنگلی حیات کے فروغ،پارکس اور چڑیا گھروں کی ترقی وتر ویج کی جانب گامزن ہے اورنت نئے سنگ میل عبورکررہاہے ۔یادرہے کہ محکمہ 1934ء میں گیم ٖڈیپارٹمنٹ کے نا م سے قائم ہواجو1973 ء میں محکمہ تحفظ جنگلی حیات وپارکس پنجاب کے نام سے ازسرِنو منسوب ہو کر صوبائی محکمہ جنگلات ، جنگلی حیات وماہی پر وری پنجاب سے منسلک کر دیا گیا ۔محکمہ کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ 10علاقائی/ ڈویژنل دفاتر ، 36ضلعی دفاتراور 119تحصیل دفاتر پر مشتمل ہے ۔صدر دفتر لاہورکے علاوہ دیگر علاقائی اور ڈویژنل دفاتر بھی ہیں ۔لاہور ،گوجرانوالہ ، فیصل آباد، ساہیوال ، سرگودھا، ملتان ،سالٹ رینج چکوال ، راولپنڈی ، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان شامل ہیں۔ محکمہ وائلڈلائف ایکٹ(ترمیمی) 2007ء اور ترمیم شدہ قواعد وضوابط2010ء کے تحت صوبہ میں جنگلی حیا ت کے تحفظ ، قیام ، بقا اور بندوبست کیلئے کا م کر رہا ہے۔صوبہ بھرمیں محکمہ کے زیر انتظام 1221 ایکڑپر محیط 14وائلڈلائف پارکس ، 62ایکڑپر 03چڑیا گھروں اور 242ایکڑ پرمحیط 01سفاری زو میں خطرے سے دوچار جنگلی حیات کی مقامی آبادی کی اسیری میں کامیاب افزائش نسل جاری ہے عوام کی تفریح ، تعلیم و تحقیق کے لئے ان پارکس اور چڑیا گھر وں میں 45اقسام کے1221ممالیہ، 195اقسا م کے 5826پرندے جبکہ11اقسام کے215خزندے رکھے گئے ہیں جہاں لاکھوں کی تعداد میں روزانہ آکر عوام اپنی علمی و تحقیقی تشنگی دور کرنے کے علاوہ تفریح سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔صوبہ کے طول وعرض میں ایک قدرتی ماحول میں جنگلی جانوروں اور پرندوں کے تحفظ اور بقا کو یقینی بنانے کیلئے 497612ایکڑپر مشتمل 37 وائلڈ لائف سینگچوریز (جنگلی حیات کی محفوظ پنا گاہیں )،568205ایکڑ پر مشتمل 24محفوظ شکارگاہیں قائم کی گئی ہیں علاوہ ازیں چولستان اور سالٹ رینج میں وائلڈ لائف پر وٹیکشن فورسز کا قیا م بھی اسی مقصد کے پیشِ نظرکیا گیا ہے ۔صوبہ میں اڑیال کی آبادی کو تحفظ دینے کیلئے سالٹ رینج میں پانچ کمیونٹی بیسڈ آرگنائز یشنزکلرکہار سی بی او چکوال ، پوٹھوہار کنزرویشن سی بی او چکوال، وائلڈلائف لورز جہلم،ویسٹرن سی بی او جہلم اور کالاباغ سی بی او میانوالی بھی اسی سلسلے کی مضبوط کڑیاں ہیں۔

صوبہ میں محکمہ کے جاری ترقیاتی پراجیکٹس میں 199.215 ملین کی لاگت سے امپروومنٹ/ری ہیبلی ٹیشن آف وائلڈلائف پارک بانسرہ گلی مری،131.970ملین کی لاگت سے کپیسٹی بلڈنگ آف ریسرچ اینڈٹریننگ اِن وائلڈلائف ڈسپلن،190.305ملین کی لاگت سے منی زو بھکر،399.100ملین کی لاگت سے ڈویلپمنٹ آف اینیمل سفاری اینڈ امپروومنٹ آف ایگزسٹنگ فسیلیٹیز ایٹ سفاری زو لاہور (فیز(11-،142.078ملین کی لا گت سے امپروومنٹ /ماڈرنائزیشن آف لاہور زو ،60.529ملین کی لا گت سے ایسٹیبلشمنٹ آف اسٹرٹیجک مینجمنٹ یونٹ اِن وائلڈلائف ڈیپا رٹمنٹ اور 151.152ملین کی لاگت سے ایسٹیبلشمنٹ آف منی زو ایٹ تونسہ سٹی شا مل ہیں جبکہ مستقبل کے منصو بہ جا ت میں 10481.183ملین کی لاگت سے سا لٹ رینج میں نیشنل سفا ری پا رک کا قیام ،80.000ملین کی لاگت سے پنجا ب ولچر ریسٹو ریشن اینڈ کنزر ویشن پرا جیکٹ،120.000ملین کی لا گت سے اوکاڑہ شہر میں وائلڈ لائف پا رک کا قیا م ،85.000 ملین کی لاگت سے امپروومنٹ اینڈڈیویلپمنٹ آف چشمہ ویٹ لینڈ با ئیو ڈائیورسٹی ، 59.988 ملین کی لا گت سے امپروومنٹ/ ری ہیبلیٹیشن آف وا ئلڈ لائف پارک ہیڈسلیما نکی ضلع اوکاڑہ ، 85.071ملین کی لاگت سے چھا نگا ما نگا وائلڈلائف پا رک کی امپروومنٹ اور ڈئیر سفا ری کا قیا م اور 78.249ملین کی لاگت سے پر وٹیکشن، کنزرویشن اینڈ سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ آف ویٹ لینڈ ایٹ تونسہ بیرا ج ضلع مظفر گڑھ شا مل ہیں۔

مزید برآں جنگلی حیا ت کے تحفظ اور فروغ کیلئے کئے جانے والے حا لیہ اقدامات میں محکمہ کی تا ریخ میں پہلی مرتبہ سفا ری زولاہور میں ہنٹر ز سیمینار ، کلر کہار میں کمیو نٹی بیسڈآرگنا ئزیشن کنونشن اور لا ہور چڑیا گھر لاہور میں پرا ئیویٹ وائلڈ لائف بر یڈنگ فا رمرز کنونشن کا انعقاد ، وا ئلڈ لائف ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے قواعد و ضوابط میں قید و جرما نے کی سزاؤ ں میں اضافہ ،سفا ری زورائیونڈ روڈلا ہور میں نئے جنگلی جانوروں کی نما ئش کے علاوہ سٹیٹ آف دی آرٹ فوڈکورٹ اور پلے لینڈکا قیام ، کپیسٹی بلڈنگ آف ریسرچ اینڈٹریننگ اِن وائلڈلائف ڈسپلن،صحرائے چولستان بہا ولپور میں کالا ہرن اور چنکارہ کی ٹرافی ہنٹنگ اور کلر کہار میں فیزنٹ شوٹنگ کا انعقاد جس سے محکمہ کولاکھوں روپے ریونیوحاصل ہوا علاوہ ازیں کیپٹو ہیڈوائلڈ لائف سپیشیز میں ڈیلنگ لائسنس کا اجراء اور صوبہ میں غیر قانونی شکاریوں کے خلاف ایک موثراور مر بوط مہم کا آغاز قا بل ذکر ہیں تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ حُسن فطرت کے نگہبان اس محکمہ جنگلی حیات و پارکس پنجاب کے شانہ بشانہ عوام بھی اس قومی کاز اور اثاثے کے تحفظ کیلئے اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کریں تا کہ جنگلی حیات کی شکل میں یہ قیمتی سرمایہ ہماری آئندہ نسلوں کیلئے محفوظ رہے۔

مزید :

کالم -