صادق واَمین کی بحث کا اصل ہدف

صادق واَمین کی بحث کا اصل ہدف
صادق واَمین کی بحث کا اصل ہدف

  



پانامہ لیکس فیصلہ میں سپریم کورٹ کے لارجربنچ کے پانچوں معززجج صاحبان کے نزدیک نوازشریف صادق اور امین نہیں رہے ۔جس پرآئین کی دفعات 62۔63کے تحت کے تحت وزیراعظم نوازشریف کو تاحیات نااہل قرار دے دیا گیا۔جس کے ساتھ ہی یہ دونوں آئینی دفعات مسلم لیگ ن اورملک کے سیکولرحلقوں کے اعتراضات کی زدپر آگئی ہیں۔اِن ترامیم پر ایک اعتراض یہ کیا جارہاہے کہ’’یہ ترامیم آمریت کی یادگارہیں،جنہیں صدرضیاء الحق نے آئین میں شامل کیاتھا۔‘‘کوئی اِن بھلے مانسوں سے پوچھے کہ جب آپ لوگوں کی حکومتیں تھیں تو آپ نے اِن ترامیم کو ختم کیوں نہ کیا؟ نواز شریف 1997میں اگرتیرہویں ترمیم کے ذریعے دفعہ58/2Bکو ختم کرکے صدرسے وزیراعظم کی مرضی کے بغیروزیراعظم کو برطرف کرنے کا اختیارچھین سکتے تھے تو 62۔63 کی دفعات کو بھی ختم کرسکتے تھے،مگر اُلٹاہوا،یہ کہ انہوں نے چودھویں ترمیم کرکے دفعہ 63 ہی میں یہ اضافہ کردیا کہ جماعتی وفاداری تبدیل کرنے والا ایم این اے نااہل ہوجائے گا۔ان ترامیم پر انہیں پیپلزپارٹی کی حمایت بھی حاصل رہی۔پھر پرویزمشرف کے دورِ اقتدار میں ایل ایف او کے تحت دفعہ 62 میں پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے بی اے کی شرط کا اضافہ کیاگیا۔بعداَزاں سیاست دانوں کو اَٹھارویں ترمیم کے ذریعے بی اے کی شرط والی شق ختم کرانے کا کریڈٹ لینا تو یادرہا،لیکن "صادق و امین" والی شقیں بدستوربرقراررہنے دی گئیں۔پیپلزپارٹی کے دورحکومت میں بھی یہ آئینی شقیں قائم رہیں۔

مختصریہ کہ حزب اقتداراَورحزب اختلاف دونوں کی رضامندی سے 62\63پاکستان کے آئین میں شامل چلی آرہی ہیں۔اب چونکہ مسلم لیگ کو اِنہی دفعات کے تحت اپنے وزیراعظم سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔اس لیے یہ دفعات اُن کے زیرعتاب آگئی ہیں۔میاں نوازشریف نے سپریم کورٹ سے نااہلی پر اَپنے ردعمل میں کہاکہ’’ انہوں نے اپنی تین نسلوں کا حساب دیا،لیکن احتساب کیا صرف ایک آدمی اور اس کے خاندان کا ہونا چاہیے اور کیا ملک میں باقی سب صادق اور امین ہیں؟‘‘جبکہ مسلم لیگی رہنماسعدرفیق کا کہنا تھاکہ’’صادق و امین کا تماشہ لگا تو معاملہ بہت دُور تک جائے گا۔آرٹیکل 62 ،63 نیا 58 ٹو بی بن گیا ہے،اوریہ ہماری نالائقی ہے کہ اسے آئین سے نہیں نکال سکے ۔‘‘گزشتہ ماہ انتخابی اصلاحات کی کمیٹی کے اِن کیمرہ اجلاس میں پیپلز پارٹی نے آئین سے آرٹیکل 62اور 63کو مکمل طورپر ختم کرنے کامطالبہ کیا ۔جبکہ اس مطالبے میں متحدہ قومی موومنٹ ،تحریک انصاف اور عوامی نیشنل پارٹی نے بھی پیپلز پارٹی کی حمایت کی تھی۔

اب اِن دونوں دفعات کا خلاصہ ملاحظہ کیجیے:’’پارلیمنٹ کے رُکن کا کردار اچھا ہو، وہ اسلامی شعائر کی خلاف ورزی کی شہرت نہ رکھتا ہو۔ اسلامی تعلیمات کا مناسب علم رکھتا ہو ۔ گناہ کبیرہ میں ملوث نہ ہو، کسی غیر اخلاقی جرم میں سزا نہ پائی ہو اور پاکستان کے نظریہ اور اتحاد کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث نہ رہا ہو۔دُہری شہریت نہ رکھتا ہو،وہ عاقل ہو، فاسق نہ ہو، اور صادق و اَمین ہو،‘‘وغیرہ۔اِن شرائط میں سے کون سی شرط ایسی ہے کہ جو کسی بھی مسلمان کے لیے ناپسندیدہ ہو!حقیقت تو یہ ہے کہ اگر کوئی رُکنِ پارلیمان مذکورہ خصوصیات کا حامل نہیں ہے تو اُسے کیا حق پہنچتاہے کہ وہ اِس ملک کے کروڑوں مسلمانوں کی نمائندگی کا اہل ہونے کا دعویٰ کرسکے۔ہرملک اپنی روایات وثقافت اورتہذیب ومعاشرت کی بنیادپر اَعلیٰ حکومتی مناصب کے لیے اُصول وضوابط مقررکرتاہے۔اِسی طرح پاکستان کواَپنے دینی تشخص اور مذہبی شناخت کی بناء پر اَپنے پارلیمانی نمائندوں کی اہلیت کے لیے آئینی اصلاحات کی تشکیل وتنفیذکامکمل حق حاصل ہے۔فرینکلن ڈی روز ویلٹ سے کسی نے پوچھاتھاکہ منصبِ صدارت کے لیے کیا اوصاف درکار ہیں؟ صدر کو صاحبِ کردار ہونا چاہیے ،یا انتظامی صلاحیتیں زیادہ ضروری ہیں؟ امریکی صدرکابلا توقف جواب تھا کہ’’کردار زیادہ ضروری ہے ،آپ امور مملکت چلانے کے لیے ذہین و فطین مشیروں کی خدمات توحاصل کر سکتے ہیں، مگر ایمانداری و دیانت داری کسی سے مستعار نہیں لی جا سکتی۔‘‘

نیشنل پارٹی کے سربراہ ،وفاقی وزیرمیر حاصل بزنجو نے کہا کہ ’’آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی جو تشریح کی گئی ہے اس کی روح سے ملک کا کوئی شہری صادق اور امین نہیں، اسی طرح جنرل ، جج، سیاستدان ، بیوروکریٹس بھی امین اور صادق نہیں کہلا سکتے۔ ملک میں کوئی بھی آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتا۔ ‘‘حیران کن بات ہے کہ میرحاصل بزنجوکے نزدیک پورے ملک میں ایک بھی شخص آئین کی ان دفعات کی رُوسے صادق اوراَمین کی کسوٹی پر پورانہیں اترتا۔دراَصل یہ صرف حاصل بزنجوہی کی نہیں، اُس اقلیتی گروہ کی سوچ اورمائنڈسیٹ کی نمائندہ فکرہے جو گروہ پاکستان کی اساسی ونظریاتی شناخت کو منہدم کرنے کے درپے ہے،یہ محدود طبقہ پاکستان میں مادرپدرآزادی،کرپشن،اقرباپروری،لوٹ مار،سرکاری اورقومی املاک پر قبضہ جیسے کلچرکے فروغ کا حامی ہے۔اِس گروہ کو بخوبی معلوم ہے کہ اگر دِیانتداراَورقومی دردرَکھنے والے لوگ اسمبلیوں،وزارتوں اورریاستی اداروں میں آگئے تو اُن کی جاگیریں،رعب ودبدبہ اوررعونت وتکبرکا خاتمہ اوراُن کی مالی واَخلاقی کرپشن کے راستے بندہوجائیں گے۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر صادق واَمین لوگ اعلیٰ مناصب پر براجمان ہوگئے توپھراُن کی خیرنہیں ہے۔قومی اداروں کی بربادی،اعلیٰ سطحی ٹیکنکل کرپشن، پاک فوج کے خلاف پراپیگنڈہ مہم ، این آر او ، میثاق جمہویت، میمو گیٹ سکینڈل ، رینٹل پاور سکینڈل،این ایل سی سکینڈل،سیف سٹی پراجیکٹ،ایل ای ڈی لائٹس،اوگرا کیس،خزانے سے لاکھوں ڈالروں کی یورپی بینکوں میں منتقلی،سرے محل،آف شورکمپنیاں، لندن میں جائیدادیں اوربھاری اثاثہ جات جیسے معاملات میں ملوث ایک ایک سرغنہ کی عبرت انگیزٹھکائی اورچھترول ہوگی۔قانون اورآئین کی بالادستی ہوگی اورقرآن وسنت کی حکمرانی ہوگی،عدل واِنصاف کا رَاج ہوگا۔کرپشن زدہ سیاستدانوں،بدعنوان ججوں،بددیانت بیوروکریٹوں اوراَسٹیبلشمنٹ کے بے مہاروں کا کڑا اِحتساب ہوگا۔

پاکستان کا لبرل اورسیکولرطبقہ ہی دراَصل آئینی دفعات63,62 کے نفاذاوراُن کے اطلاق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔پاکستان کی نظریاتی شناخت کو ختم کرنا اُن کا دَستورِ حیات ہے،چونکہ لادین طبقے اسلام پر براہِ راست تنقیدکرنے کی جرأت نہیں رکھتے ،اِس لیے وہ اِن دفعات ہی کو اَپنی نیش زنی کا ہدف بنائے ہوئے ہیں۔ہماری دینی جماعتوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ حالات کا اِدراک کرتے ہوئے اِن دفعات کا اطلاق پانامہ لیکس کے نامزداَفرادپر ہی نہیں،بلکہ تمام ریاستی اداروں پر لاگو کرانے کی جدوجہدکا آغازکریں ۔تاکہ معاشرے میں صادق واَمین کی مثالی صورت ظہورپذیرہوسکے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ