”126 دن کنٹینر پر کھڑے ہو کر عمران خان پر احسان نہیں کیا کیونکہ آپ تواس شخص سے معافیاں مانگتے پھر رہے تھے اور جب دال نہیں گلی تو ۔۔۔“ رﺅف کلاسرا نے شیخ رشید کو آئینہ دکھادیا

”126 دن کنٹینر پر کھڑے ہو کر عمران خان پر احسان نہیں کیا کیونکہ آپ تواس شخص سے ...
”126 دن کنٹینر پر کھڑے ہو کر عمران خان پر احسان نہیں کیا کیونکہ آپ تواس شخص سے معافیاں مانگتے پھر رہے تھے اور جب دال نہیں گلی تو ۔۔۔“ رﺅف کلاسرا نے شیخ رشید کو آئینہ دکھادیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی رﺅف کلاسرا کا کہنا ہے کہ شیخ رشید نے 126 دن عمران خان کے ساتھ کنٹینر پر کھڑے ہو کر کوئی احسان نہیں کیا کیونکہ وہ معافی تلافی کرکے نواز شریف کے ساتھ شامل ہونا چاہتے تھے لیکن دال نہیں گلی تو مجبوراً شاہ محمود قریشی کی طرح عمران خان کے پاس ہی جانا پڑا ۔
رﺅف کلاسرا نے شیخ رشید کے اس بیان ’ عمران خان کے ساتھ 126 دن کنٹینر پر کھڑا رہا‘ پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ’جان کی امان پاﺅں تو عرض کروں؟ آپ نے بھی شاہ محمود قریشی کی طرح نواز شریف سے معافی تلافی کر کے شامل ہونے کی کوشش کی تھی۔ دال نہ گلی تو پھر آخری راستہ کنٹینر ہی بچتا تھا۔ احسان کس بات کا؟ آپ کی سیاسی زندگی کا سوال تھا، شاہ محمود بھی رائے ونڈ ڈیل لینے گیا تھا نہ ملی تو پی ٹی آئی لیڈر بن گیا‘۔

خیال رہے کہ شاہ محمود قریشی نے نومبر 2011 میں پیپلز پارٹی کو خیرباد کہا اور ساتھ ہی وزارت خارجہ سے استعفیٰ دیا جس کے بعد انہوں نے مسلم لیگ ن میں شمولیت کی بھرپور کوشش کی ۔ 23 نومبر 2011کو انہوں نے نواز شریف سے ملاقات کی اور ن لیگ کا حصہ بننے کی کوشش کی تاہم معاملات طے نہ پانے پر انہوں نے کچھ ہی روز بعد پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اس سے قبل پی ٹی آئی 30 اکتوبر 2011 کو مینار پاکستان پر پاور شو کرچکی تھی۔


ایک اور ٹویٹ میں رﺅف کلاسرا نے کہا کہ ’شیخ رشید عمران خان کے بغیر الیکشن لڑے اور ہار گئے تھے، اب آپشن یہی تھا جو آپ نے سمجھداری سے استعمال کیا۔ 2008 الیکشن ہارے اور پھر عمران خان سے الائنس کر کے 2013 میں جیتے، 2018 میں بھی پی ٹی آئی کی سپورٹ نہ ہوتی تو سیٹ نہیں نکلنی تھی، اس لیے آپ کو کنٹینر سوٹ کرتا تھا باس،درست فیصلہ لیکن احسان نہیں‘۔

واضح رہے کہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید 1985 میں پہلی بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے جس کے بعد وہ مسلسل6 بار پارلیمنٹ میں پہنچتے رہے لیکن 2008 میں جب انہوں نے راولپنڈی کے حلقوں این اے 55 اور این اے 56 سے ق لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تو وہ ہار گئے تھے۔ شیخ رشید کے کیریئر میں یہ پہلی بار تھا جب وہ پارلیمنٹ نہیں پہنچ سکے تھے۔