گھسیٹنا تھا کسی اور نے گھسیٹتا کوئی اور ہے 

04 اگست 2018 (11:56)

محمد علی خان

عام انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد حکومت سازی کے مراحل جاری ہیں اور سیاسی پنڈتوں کی نظریں جہانگیر ترین کے جیٹ طیارے کی آنیاں جانیاں دیکھ رہی ہیں ۔انکا ہر دورہ جہاں خان صاحب کی منزل قریب کرتا ہے وہیں متحدہ اپوزیشن کے ارمانوں پر اوس ڈال جا تا ہے۔ ابھی تک متحدہ کا نہیں پتہ تھا کہ وہ اپوزیشن میں ہوگی یا حکومت میں اب کی بار انہوں نے یہی سوچا تھا کہ مرکز میں تحریک انصاف کے ساتھ اور صوبے میں پیپلزپارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنا لیں گے ۔اس طرح مولانا فضل الرحمٰن کا ریکارڈ بھی ٹوٹ جائے گا اور وزارتیں بھی مل جائیں گی مگر نئی صورتحال میں وہ پیپلزپارٹی سے فاصلے پر نظر آ رہے ہیں لگتا ہے ترین طیارے کا مشن کامیاب ہو گیا ہے۔

اپوزیشن کی آل پارٹیز کے دو اجلاس سامنے آ چکے ہیں جسکا خلاصہ یہ سامنے آیا ہے کہ شکست خوردہ مولانا فضل الرحمٰن کی ایک نہیں سننی اور پارلیمنٹ میں بھی جانا ہے، حلف بھی اٹھانا ہے ،جمہوری طریقے سے جدوجہد کرنی ہے۔ اس وقت مولانا کی پوری کوشش ہے کہ نمبر گیم میں کسی طرح برتری حاصل کر کے تحریک انصاف کو شکست سے دو چار کیا جائے مگر مولانا صاحب کی جیت کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں کیونکہ مقابلہ اپنے سے بہتر؟ بہترین بلکہ جہانگیر ترین سے پڑ گیا ہے۔ 

شہبازشریف کے پیپلزپارٹی کے مختلف رہنماؤں سے رابطے نے سیاسی حلقوں کو اچنبھے میں ڈال دیا ہے ۔ جہاں ایک طرف عمران خا ن نے دو ٹوک موقف اختیار کیا کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ کسی قسم کا کوئی اتحاد نہیں ہوگا اور حکومت سازی میں انکو شامل نہیں کیا جائے گا۔ وہاں دوسری طرف شہبازشریف پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماؤں خورشید شاہ صاحب ۔ شیریں رحمان اور دیگر کے سامنے بچھے بچھے نظر آئے۔

عام انتخابات کے دوران اور اس قبل بھی کئی مواقع پر شہبازشریف پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت آصف علی زرداری صاحب کو آڑے ہاتھوں لے چکے ہیں ۔ جوش جذبات میں کبھی انکو کراچی۔ لاہور اور لاڑکانہ کی سڑکوں پر گھسیٹتے رہے تو کبھی پیٹ پھاڑ کر سوئس بینکوں کی دولت بر آمد کرنے کے دعوے کرتے رہے مگر اقتدار میں ہونے کے باوجود اس حوالے سے عملی اقدامات نظر نہ آسکے۔

عام انتخابات میں تبدیلی سرکار کی کامیابی نے دو سابقہ روایتی حریفوں کو گھسیٹ کر اپک ٹرک پر سوار کرا دیا ہے۔ مگر اس ٹرک کا اسٹئیرنگ کس کے ہاتھ ہوگا کس کی مرضی سے چلے گا رکے گا یہ منظر بھی دیکھنے والا ہوگا۔ یوں تو متحدہ مجلس عمل بحیثیت پارلیمانی پارٹی اس ٹرک پر موجود ہوگی مگر مولانا فضل الرحمٰن کو سفر کھڑے ہو کر کرنا پڑے گا ۔کیا کیا جائے شکست کا خمیازہ تو بھگتنا پڑتا ہے۔ سوائے مولانا صاحب کے سب نے نوشتہ دیوار پڑھ لیا ہے اور جمہوریت کی خاطر ہر قربانی کے لئیے تیار ھوگئے ہیں۔ ویسے بھی سندھ میں پیپلزپارٹی اکیلے حکومت بنارہی ہے اس لیئے مرکز کے بجائے اسکا فوکس سندھ پر ہوگا ایسے میں اپوزیشن کی پھرتیاں ۔ نشستند۔ گفتند۔ برخاستند سے زیادہ نہیں ہیں۔ اپک دوسرے کو گھسیٹنے کے اس سفر میں جمہور یعنی عوام گھسٹ۔ گھسٹ کر گھٹ گھٹ کر مرتے رہیں گی کیونکہ انہوں نے اپنا آئینی اور جمہوری حق ادا کرکے جمہوریت کو بچا لیا ہے۔شاید وہ وقت اب آجائے جہاں کوئی زرداروں کا محتاج نہ ہو نہ ہی اپنے مسائل کے حل کے لئیے شریفوں کا اشارہ ابرو دیکھنا پڑے۔ 

۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزیدخبریں