بھارت کشمیری نوجوانوں کو چن چن کر مارنے کی پالیسی ترک کرے،کل نماز ظہر کے بعد کشمیری عوام شہدا کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کریں:حریت قیادت کی اپیل

بھارت کشمیری نوجوانوں کو چن چن کر مارنے کی پالیسی ترک کرے،کل نماز ظہر کے بعد ...
بھارت کشمیری نوجوانوں کو چن چن کر مارنے کی پالیسی ترک کرے،کل نماز ظہر کے بعد کشمیری عوام شہدا کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کریں:حریت قیادت کی اپیل

  

سری نگر(ڈیلی پاکستان آن لائن)مشترکہ آزادی پسند قیادت سید علی شاہ گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے بھارتی فوج اور فورسز کی جانب سے کشمیر کے طول و عرض میں جاری قتل و غارت گری کے خونیں واقعات میں کشمیری نوجوانوں کو چن چن کر مارنے اور انہیں طاقت اور قوت کے بل پر پشت بہ دیوار کرنے کے مذموم عمل کو بھارتی استعماریت کا بھیانک روپ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف جموں وکشمیر کے عوام کو اپنے بنیادی حقوق سے محروم کرنے ،جموں وکشمیر کی متنازعہ حیثیت اور ہیئت کو متاثر کرنے، ریاست کی آبادی کے تناسب کو تبدیل اور یہاں کے عوام کے سیاسی حقوق پر شب خون مارنے کیلئے مختلف حربے بروئے کار لائے جارہے ہیں اور دوسری طرف یہاں کے نوجوانوں پر بندوق کے دہانے کھول کر انہیں تہہ تیغ کرنے کا خونیں کھیل جاری ہے۔

مقبوضہ کشمیر کےحریت قائدین نے گنو پورہ شوپیاں، سوپور اور کپوارہ میں عسکری معرکوں کے دوران شہید کئے گئے عسکریت پسندوں بلال احمد، ظہور احمد، ریاض احمد ڈار،خورشید احمد ملک ، ارشد احمد ، وقار احمد شیخ، اعجاز احمد ، عمر نذیر ملک اور ایک نہتے شہری بلال احمد خان کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایک بلند نصب العین کے حصول کیلئے دی جارہی قربانیاں ہر گزرتے دن کے ساتھ یہاں کے حریت پسند عوا م کے حوصلوں اور جذبوں میں توانائی اور حرارت پیدا کررہے ہیں ۔قائدین نے کشمیری عوام سے کپواڑہ ، سوپوراور شوپیاں کے خونیں واقعات میں شہداکی 5 اگست کو نماز ظہر کے بعد غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے 5 اور6 اگست کے احتجاجی ہڑتال اور پروگرام کو کامیاب بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس ہڑتال کا مقصد جہاں35A کے ساتھ چھیڑ چھاڑ پر اپنے بھر پور ردعمل کا اظہار کرنا ہے وہیں کشمیر میں تواتر کے ساتھ پیش آرہے خونیں واقعات ،ظلم و زیادتیوں، مار دھاڑ، قتل و غارت گری کے واقعات کیخلاف صدائے احتجاج بلند کرنا ہے تاکہ عالمی رائے عامہ کی توجہ یہاں کے عوام کیخلاف ہو رہی زیادتیوں کی جانب مبذول کی جاسکے اور بین الاقوامی برادری کو کشمیر کی صحیح صورتحال سے آگاہ کیا جاسکے ۔حریت قائدین نے ان واقعات میں فوج اور فورسز کی بلا جواز فائرنگ کے نتیجے میں درجنوں افراد کو زخمی کئے جانے اور پر امن مظاہرین کیخلاف طاقت اور تشدد کے بے تحاشا استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال سے بالعموم اور گزشتہ سال سے بالخصوص یہاں کے عوام اپنے جائز حق کے حصول کی پاداش میں بھارتی فوج اور فورسز کی جانب سے سنگین نوعیت کے تشدد اور مظالم کا سامنا کررہے ہیں،حقوق انسانی کی شدید پامالیاں جھیل رہے اور آئے روز اپنے عزیزوں کے جنازے اٹھا رہے ہیں۔حریت قائدین نے کہا کہ یہ بھارت کی جانب سے کشمیری عوام پر ڈھائے جارہے مظالم اور زیادتیوں کا ردعمل ہے کہ یہاں کی نوجوان نسل عسکریت کا راستہ اختیار کررہی ہے اور اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر اس قوم کو بھارتی تسلط سے آزاد کرانے کیلئے قربانیوں کی ایک تاریخ رقم کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے تئیں اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی خاموشی کشمیری عوام کی پریشانیوں اور مصائب میں اضافے کا باعث بن رہی ہے اور بھارت کی جانب سے کشمیری عوام پر جو مظالم ڈھائے جارہے ہیں اس طرح کی خاموشی سے ان کو سند جواز فراہم ہو رہی ہے۔

مزید : قومی /علاقائی /آزاد کشمیر /مظفرآباد