” بھارت کی دہشتگرد فوج کے کلسٹربم حملے کا تشویشناک پہلو“

” بھارت کی دہشتگرد فوج کے کلسٹربم حملے کا تشویشناک پہلو“
” بھارت کی دہشتگرد فوج کے کلسٹربم حملے کا تشویشناک پہلو“

  


بھارتی کی جانب سے ایک مرتبہ پھر لائن آف کنٹرول کیخلاف وزری کرتے ہوئے وادی نیلم میں معصوم شہریوں اور سو ل آبادی کو کلسٹربموں سے نشانہ بنایاگیا ہے ، بھارت کی ریاستی دہشتگردفورسز کی جانب سے ٹوائے کلسٹربم کے ذریعے سول آباد کو نشانہ بنایاگیا جس کے نتیجے میں ایک چار سالہ معصوم بچے سمیت2شہری شہید اور 11شہری زخمی ہوگئے ہیں ۔مقبوضہ وادی میں بھارت کی ریاستی دہشتگرد فوج کے ظلم و بربریت پر مزید روشنی ڈالنے سے قبل ہم کو کلسٹربم اوراس کی تباہ کاریوں کا جائزہ لینا ہوگا ۔

کلسٹر بم فضا یا زمین سے پھینکے جانے والے بموں کی ایک قسم ہے جس کے اندر چھوٹے چھوٹے کئی بم ہوتے ہیں۔ یہ بم وسیع علاقے میں جانی نقصان یا گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں۔یہ بم جب پھینکے جاتے ہیں تو اس سے نکلنے والے مزید چھوٹے چھوٹے بم وسیع علاقے میں نقصان کاباعث بنتے ہیں۔ کلسٹر بم ایک خالی شیل ہوتا ہے جس کے اندر 2 سے لے کر 2000 تک چھوٹے بم موجود ہو سکتے ہیں۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد اب تک ان بموں کا استعمال امریکہ اور روس کی جانب سے عراق ، افغانستان اور شام میں کیا گیا ہے جس سے سینکڑوں کی تعداد میں معصوم شہری جاں بحق ہوئے اور املاک کو بے تحاشہ نقصان پہنچا ۔امریکہ نے افغانستان میں ان علاقوں میں جہاں یہ سمجھا جاتا تھا کہ طالبان زیادہ تر کثرت میں مقیم تھے، انہیں ڈیزی کٹر بموں سے جلا کر خاک کردیا۔ جہاں یہ بم استعمال کئے گئے وہاں پر سترہ سو میڑ کے دائرے میں ہرطرف آگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔ تمام مشتبہ علاقوں میں کلسٹر بموں سے شدید طریقے سے کارپٹ بمباری کی اور ان کو جلاکر راکھ میں بدل دیا۔ روس پر بھی شام میں جدید کلسٹر بم استعمال کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ روس کے لڑاکا طیاروں نے ان بموں کو بشارالاسد کے مخالفین کے ٹھکانوں پر برسایا ہے یاپھر انھیں دمشق حکومت کو مہیا کرنے کا الزام ہے۔شام کے وسطی شہر ہاما میں انسانی حقوق سے متعلق کارکنوں نے تین سالہ خانہ جنگی کے دوران پہلی مرتبہ کلسٹر بموں کی طرح کے بارود کے حامل راکٹوں کے استعمال کی نشاندہی کی ہے۔ ان راکٹوں کے حوالے سے غالب گمان ہے کہ انہیں شامی حکومت نے اپنے ہی شہریوں کیخلاف استعمال کیا ہے ۔

کلسٹر بموں کے استعمال کے انسانیت اور ماحول پر پڑنے والے بھیانک اثرات کی وجہ سے مئی 2008 میں آئرلینڈ میں کلسٹر بموں پر ہونے والے کنونشن کی توثیق کرنے والے ممالک پر کلسٹر بم کے استعمال کی پابندی عائد ہے جب کہ 2010 سے اس پر پابندی کو انٹرنیشنل قوانین کا حصہ بھی بنادیا گیا ہے۔ اب تک 120 ممالک اس کنونشن میں شامل ہوچکے ہیں۔

اب جب مقبوضہ کشمیر میں بھارت انسانی تاریخ کے ریکارڈ ظلم وستم ، بربریت اور ریاستی دہشگردی کا مظاہرہ کرنے کے باوجود کشمیریوں کی پرامن جد و جہد آزادی کودبانے میں کامیاب نہیں ہوسکا تو اس کی جانب سے جہاں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے تو وہاں عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے ، آزاد کشمیر کی پرامن سول آبادی پر کلسٹر بم بھی برسا دیئے گئے ہیں ، اگرچہ بھارت کے اس مکروہ فعل کی حکومت پاکستان کی جانب سے شدید مذمت کی گئی ہے اور پاک فو ج کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے اس پار قابض ریاستی دہشتگردی فورسز کومنہ توڑ جواب دیا جارہاہے لیکن یہ بات تشویشناک ہے کہ عالمی سطح پر بھارت کی اس عالمی قانونی شکنی کی کوئی مذمت نہیں کی گئی ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حریت رہنما علی گیلانی کی مسلم امہ سے قابض بھارتی فورسز کے ہاتھو ں تحفظ کی اپیل کے بعد اوآئی سی کو خط لکھ دیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ عالمی سطح پر بھارتی دہشتگردی بے نقاب کرنے کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت دیگر عالمی فورمز کا بھی استعمال کیا جائے تاکہ دنیا پر بھارت کامکرودہشگرادانہ چہرہ بے نقاب کرکے پاکستان اور کشمیر ی عوام کے خلاف ہونیوالی سازشوں کا موثر طریقے سے توڑ کیا جاسکے ۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ