پنجاب میں تعلیمی صورت حال!

پنجاب میں تعلیمی صورت حال!

معاصر کی ایک خبر کے مطابق پنجاب میں تعلیمی سہولتوں میں کوئی ترقی نہیں ہوئی اور سکول سے باہر رہنے والے بچوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ محکمہ سکولز ایجوکیشن کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق 2007ء میں 21لاکھ 79ہزار بچوں نے پرائمری سکولوں میں پہلی جماعت میں داخلہ لیا اور میٹرک تک پہنچتے یہ تعداد 6لاکھ سولہ ہزار رہ گئی باقی بچے سکول چھوڑ گئے۔تازہ ترین سروے کے مطابق اس وقت 113سرکاری سکول کسی عمارت کے بغیر چلائے جا رہے ہیں۔ صوبے کے 36اضلاع میں 52ہزار سرکاری سکولوں میں سے گیارہ سو 58میں بجلی کی سہولت نہیں،593 سکولوں (بوائز+گرلز) میں بیت الخلاء کی سہولت اور 273سکولوں میں پینے کے لئے پانی میسر نہیں، وفاقی وزارتِ تعلیم کے مطابق 2016-17ء میں سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد ایک کروڑ 5لاکھ تھی جو 2018-19ء میں ایک کروڑ 18لاکھ ہو گئی ہے، یوں تیرہ لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔یہ سرکاری رپورٹ اور سروے ہے جس کے مطابق پنجاب میں ابتدائی تعلیم اور ناخواندہ رہنے والے بچوں کی حالت کا ذکر ہے۔ رپورٹ کے مطابق ضرورت کے مطابق آئندہ دس سال میں فری تعلیم کے لئے 627 سکولوں 2لاکھ 33ہزار 915نئے کلاس رومز،4لاکھ 3ہزار 35 اساتذہ کی ضرورت ہو گی اور ان وسائل کے لئے کم از کم 6ارب 60کروڑ روپے کی بھی ضرورت ہو گی۔یہ چشم کشا حالات ہیں، ان پر حکومت کی توجہ ہونا چاہیے کہ موجودہ حکومت تعلیم کے لئے کوشاں ہے اور اب تو وزیراعلیٰ نے ابتدائی تعلیم قومی زبان (اردو) میں شروع کرنے کا بھی حکم دے دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کے لئے نہ صرف زیادہ بجٹ مختص کیا جائے بلکہ نگرانی کا سخت ترین نظام وضع کیا جائے کہ بدعنوانی نہ ہو۔ صرف اسی طرح خواندگی کی شرح بڑھ سکتی ہے۔

مزید : رائے /اداریہ