وسیم خان اور مکی آرتھر

وسیم خان اور مکی آرتھر
 وسیم خان اور مکی آرتھر

  



پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایم ڈی وسیم خان کے خلاف ملک کے سینئر اور عظیم کھلاڑی ظہیر عباس نے بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے واضح طور پر ان کی ایم ٖڈی کے عہدے پر تقرری کوذو معنی قرار دیتے ہوئے ملکی کرکٹ کے لیے نقصان قرار دیا ہے۔ جبکہ ان کے اس بیان کے بعد ایم ڈی پی سی بی وسیم خان کی جانب سے ایسا کوئی بیان سامنے نہیں آیا جس کے بعد ان دونوں میں کوئی نئی جنگ چھڑتی نظر آئے، لیکن جو بھی ہے ظہیر عباس ہمارے ملک کی شان ہیں ان کی ملک کے لیے کافی خدمات ہیں جن کو بھلایا نہیں جا سکتا، لیکن ایک بات ذہن میں دوڑتی ہے کہ جب کوئی کسی عہدے پر آکر براجمان ہو جاتا ہے تب ہی ہمیں کیوں خیال آتا ہے کہ یہ ملکی کرکٹ کے لیے بہتر نہیں ہے یا کیا بہتر ہے اور کیا نہیں۔

حالانکہ وسیم خان پاکستانی نژاد برطانوی ہیں اور وہ برطانیہ میں پلے بڑھے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ وہ کرکٹ کی الف ب سے واقف نہیں ہیں۔ موصوف انگلینڈ کی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل چکے ہیں اور اس دوران انہوں نے اپنی ٹیموں کی کامیابی میں اہم کردار بھی ادا کیا ہے ان کی اپنی پرفارمنس بھی اتنی بری نہیں ہے کہ ان کے کیریئر پر سوالیہ نشان لگا دیا جائے۔

پڑھے لکھے کرکٹ کی سمجھ بوجھ رکھنے والے وسیم خان اگر پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے کوئی خدمات انجام دینا چاہتے ہیں تو اس میں حرج ہی کیا ہے حالانکہ ان کے بارے میں سنا ہے کہ وہ دوروں کے دوران کوئی الاؤنس وغیرہ بھی نہیں لیتے اور تنخواہ کا بھی کوئی ایسا مطالبہ نہیں کرتے۔ جبکہ وہ قومی کرکٹ کے ڈومیسٹک نظام کی بحالی کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ دوسری طرف ہم کوچ کے انتخاب کے لیے کبھی یہ نہیں سوچتے کہ ہمیں غیر ملکی کوچز سے زیادہ ملکی کرکٹر کی خدمات حاصل کر کے کھلاڑیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانا چاہئے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ مکی آرتھر ان دنوں اپنے مستقبل کے حوالے سے کافی سرگرم نظر آرہے ہیں اور اس حوالے سے ان کی پی سی بی سے میٹنگز بھی جاری ہیں، لیکن دوسری طرف اطلاعات یہ ہیں کہ انہوں نے برطانیہ کی کوچنگ کرنے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

حالانکہ وہ یہ بات بھی جانتے ہیں کہ ایک، دو دن تک ان کے نام کا قرعہ پھر سے نکل سکتا ہے لیکن مستقبل کی پلاننگ کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں مزید دوام نہ بخشا تو پھر انہیں انگلینڈ کے لیے انتظار کرنا پڑے گا اور رہ گئی بات قومی کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کی تو ہمیں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں رکھنی چاہیے کہ ہمارے ملک کے لیے ہمیں اپنے ہی سابقہ کھلاڑیوں میں سے کسی کو سلیکٹ کرنا ہوگا،کیونکہ ہمارے کھلاڑیوں میں زبان کے فقدان کے باعث آدھے سے زائد کھلاڑی بات سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں جس کے باعث ان کی پرفارمنس پر اثر بھی پڑتا ہے اور کوچ کی کارکردگی پر بھی انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں۔

اگر میاں داد، محسن حسن خان یا کوئی اور اس کی ذمہ داری اٹھانے کی حامی برتا ہے تو ہمیں غیر ملکی کوچز کی بجائے انہی پر انحصار کرنا چاہئے۔

محمد عامر کی ٹیسٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد سابقہ فاسٹ باؤلر محمد آصف نے ان کی باؤلنگ پر سوالیہ نشان اٹھا دیا ہے۔ ان کے کہنے کے مطابق محمد عامر کی گیند زیادہ سوئنگ نہیں ہوتی ا س لیے ٹیسٹ میچز میں ان کے متبادل کے طور پر ایسا باؤلر سامنے آنا چاہیے جو گیند کو اچھی گھمانا جانتا ہو۔ اب ان ہی کو لے لیں یہ بھی اپنے زمانے میں کافی اچھی گیند بازی کا مظاہرہ کر چکے ہیں اور ان کا موازنہ میگرا جیسے باؤلر سے بھی کیا جاتا رہا ہے، لیکن ایک داغ نے ان کا کیریئر داؤ پر لگا دیا اور یوں اعلیٰ کوالٹی کا یہ باؤلر ہماری ٹیم سے دور ہو گیا ہے۔

اب ان کی جگہ بھی کوئی پر ُنا کر سکا تو محمد عامر کی جگہ کون پرُ کرے گا۔ محمد حسنین کو ہم نے ابھی تک نہیں آزمایا ان کو ٹیسٹ کے لیے آزمانے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہئے، اس سے ان کو ٹیسٹ کھیلنے کا تجربہ بھی میسر آجائے گا اور ہو سکتا ہے کہ یہ مستقبل میں اچھی کامیابیاں بھی دلوا سکیں۔

مزید : رائے /کالم