حُسن و عشق کا شاعر۔۔۔۔ناصر زیدی

حُسن و عشق کا شاعر۔۔۔۔ناصر زیدی

  

عصرِ حاضر میں بہت سی ایسی ادبی وصحافتی شخصیات جنہوں نے اپنے کام کی بدولت دنیائے ادب وصحافت میں بڑا نام پیدا کیا ایسے گنے چنے ناموں میں سے ایک نام ناصر زیدی کا تھا۔ جن کا شمار اُن ادیبوں میں ہوتا تھا جن کی ساری زندگی کتاب سے عبارت رہی ہو۔ ان کی پیدائش مظفر نگر (یوپی انڈیا) میں ہوئی۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ شہرِ زندہ دلاں لاہور میں پلے بڑھے اور پڑھے۔ شاعری اور ادب وصحافت کا چسکا بھی یہیں سے پڑا۔ وہ زمانہء طالب علمی میں اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور کے مجلہ ”فاران“ کے مدیر رہے، اس کے علاوہ انہوں نے کئی ادبی، فلمی، مذہبی، اور عورتوں کے رسالوں کی ادارت کا فریضہ سرانجام دیا، جن میں گُلِ خنداں، شمع، بانو، آئینہ، بچوں کی دنیا، اُمنگ، جگنو، اخبارِ مصنفین، پیامِ عمل وغیرہ شامل تھے۔ انہوں نے پاکستان کے قدیم ترین ادبی جریدہ ”ادبِ لطیف“ لاہور میں 1966 ء سے 1980 ء تک بطور مدیر پندرہ برس کام کیا، جس کے بعد وہ اسلام آباد چلے گئے، جہاں آپ متعددِ وزرائے اعظم اور صدورِ مملکت کے ”سپیچ رائٹر“ رہے۔ پھر کچھ عرصہ کے بعد لاہور میں رہے اور پھر سے ”ادبِ لطیف“ کے مدیر مقرر ہوئے۔ 

ناصر زیدی ایک کتاب دوست آدمی تھے۔ انہیں کتابیں اور کتابی چہرے اچھے لگتے تھے۔ وہ اسلام آباد ریڈیو سے اپنے ہفتہ وار پروگرام”کتاب نما“ میں اپنی گفتگو کا آغاز اس پیغام سے کرتے تھے۔

”اللہ شوق دے تو کتابیں پڑھا کرو“

میرے خیال میں ہمیں آج اس پیغام پہ عمل پیرا ہونے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ کتابیں انسان کی بہترین زندگی کا نمونہ ہوتی ہیں۔ ناصر زیدی کا گھر جوہر ٹاؤن میں شوکت خانم کے قریب ہے، جہاں وہ تنہا کتابوں کو اپنا ہمدم و دمساز اور ہمراز بنائے ہوئے تھے۔ ان کے گھر جاؤ تو معلوم ہوتا ہے، اُن کا گھر کتابوں کا مسکن ہے، انہیں دن کی روشنی اور رات کی چاندنی میں تنہا رہنا پسند تھا۔”رات کی چاندنی“ میں نے اس لئے کہا کہ وہ خود کہتے تھے کہ:

نشانی اپنے گھر کی کیا بتاؤں؟

چلے آؤ، جہاں تک روشنی ہے

انہیں صبح شبنم کے قطرے، قدرت کے رنگ اور شاخوں پہ کھلتے ہوئے گلاب کی خوشبو کے ساتھ ساتھ حسین چہرے اچھے لگتے تھے۔ اس حوالے سے ان کا یہ شعر دیکھئے۔

یہ تازگی، یہ صباحت، یہ رنگ، یہ خوشبو

یہ کس حسین کا چہرہ ہے جو گلاب میں ہے

ناصر زیدی ٹیلی وژن اور ریڈیو کے مقبول فی البدیہہ صدا کار،نیوز کاسٹر، کمپیئر، براڈ کاسٹر اور شاعر کے طور پر اپنی پہچان آپ تھے۔ ان کی زندگی کے بہت سے پہلو ہیں۔ وہ ایک شاعر، محقق، مرتب، کالم نویس، مدیر مورخ اور ادبی جاسوس کے طور پر بھی جانے جاتے تھے۔ ادبی جاسوس سے مطلب یہ کہ وہ مشہور آوارہ شعروں پر اصل خالق کی تحقیق کر کے انہیں حسب نسب عطا کرتے تھے۔ کسی سے غلط طور پر منسوب شعر کو اپنے خالق سے ملاتے تھے۔

کچھ نہ کچھ تو مل ہی جاتی اس کو بھی دادِ سخن

اک گماں شہرت کا تھا ناصرؔ کی شہرت کچھ نہ تھی

ناصر زیدی اصل میں حسن وعشق کے شاعر تھے، وہ محبت کے چمن میں چہل قدمی کرتے ہوئے محبت کے گن گاتے ہوئے کسی کو بھول جانے پہ یوں صدا دیتے۔

بھول جانا ہی مناسب ہے اُسے اب ناصرؔ

اُس کے گن اور کہاں تک تُو بھلا گائے گا

ناصر زیدی کے شعری مجموعوں میں ”ڈوبتے چاند کا منظر“، ”وصال“، ”ورافتگی“ اور ”التفات“ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک انتخاب ”ہمارا کشمیر،ہمارا کشمیر“ کے نام سے شائع ہوا۔ میرے پاس ان شعری مجموعوں میں سے ”التفات“ موجود ہے۔ اس کی ابتداء میں ان کا ایک شعر اس طرح درج ہے کہ:

میں نے کہا کہ چاہیے تھوڑا سا التفات

اُس نے کہا، مزاج نہ بادِ صبا کے رکھ!

یہ ساری کی ساری ”مکالماتی غزل“ ہی بہت اچھی ہے، میں نے بار بار پڑھی ہے۔ اس کتاب کے آغاز میں ظہیر کاشمیری اپنی رائے کا اظہار یوں کرتے ہیں کہ”ناصر زیدی کا انداز بیان سادہ و پُرکار ہے وہ شستہ اور رواں دواں شعر کہتا اور اس کے ہاں فنی محاسن اور خیال کے ڈانڈے آپس میں ملے ہوئے ہیں، جس طرح اُس کے احساسِ جمال سبک اور روح پرور ہے، ویسے ہی اس کی غزلوں سے بھی گل رُخوں کے بدن کی مہک آتی ہے۔“

اس کے علاوہ کتاب میں احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹر وحید قریشی، ڈاکٹر شان الحق حقی اور احمد فراز کی آرا شامل ہیں۔ اس کتاب کی ایک اور خاصیت یہ ہے کہ اس میں کئی مقتدر مرحوم شعراء کی آرا ء بھی شامل ہیں جن میں جوش ملیح آبادی، احسان دانش، رئیس امروہوی اور شہرت بخاری جیسے مقتدر نامور شعرا کے نام نمایاں ہیں۔ التفات کے مطالعہ کے دوران کچھ غزلیں نذرِ غالب، نذرِ فیض اور نذرِ فراز کے عنوان سے بھی منسوب نظر آئیں۔ 

ناصر زیدی میرے بزرگوار تھے۔ میری اُن سے پہلی ملاقات پاک ٹی ہاؤس میں صوفی غلام مصطفی تبسم مرحوم کی پوتی ڈاکٹر فوزیہ تبسم کی موجودگی میں ہوئی۔ اس کے بعد چند ملاقاتیں  ہولی ڈے ہوٹل اور روزنامہ پاکستان کے دفتر میں ہوئیں۔ ناصر زیدی ”پاکستان“ اخبار میں ”بادِ شمال“ کے عنوان سے کالم لکھتے تھے۔ اس کے علاوہ انہیں ادبِ لطیف لاہور کا پھر سے مدیر بنایا جانا اور ان کے قلمی وتخلیقی صلاحیتوں سے فائدہ اُٹھانا، بہت بڑی بات تھی۔

زمانے بھر میں جو مشہور ہو گئے ناصرؔ

سخنوری کے سبب ہی تو یہ کمائی کی

ان کی رومانوی شاعری کا ایک پہلو یہ تھا کہ ہر مصرع میں نرگسیت یعنی خود جمال پرستی اپنا رنگ خود دکھاتے ہوئے محبت اور امن کا پیغام دیتی ہے۔ انہیں اپنی زندگی میں ”غالب نمبر اور علامہ اقبال نمبر ”ادبِ لطیف“ کے ضخیم پرچے شائع کرنے کا اعزاز حاصل رہا۔ وہ گزشتہ کئی ماہ سے علیل تھے اور اپنے بیٹے حسن ناصر اور عدیل ناصر کے ہمراہ اسلام آباد میں مقیم تھے اور گذشتہ روز 3 جون 2020 ء کی صبح اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ان کی تدفین راولپنڈی کے بحریہ ٹاؤن کے فیز ۸ کے قبرستان میں  ہوئی، جس میں بہت سی ادبی وصحافتی اور دیگر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ اس مضمون کے دوران ان کے بچپن کے دوست عطاء الحق قاسمی بتاتے ہیں کہ”وہ میرا بچپن کا دوست تھا ہم دونوں ایک ساتھ چھٹی کلاس سے لیکر میٹرک تک پڑھے۔ وہ بھی ماڈل ٹاؤن میں رہتا تھا اور میں بھی۔ پھر ہم دونوں کی راہیں جدا جدا ہو گئیں۔ وہ ایک بہت زبردست شاعر ہونے کیساتھ ساتھ ایک غیرت مندر اور غیور آدمی تھا۔ مجھے اپنے بچپن کے دوست کے بچھڑ جانے کا شدید غم ہے۔“ آخر میں یہی کہوں گا کہ ایسے لوگ خال خال ملتے ہیں، جنہوں نے عمر بھر قلم اور کتاب سے رشتہ جوڑے رکھا۔ ان کا حافظہ تاریخِ ادب سے معمور تھا۔ شعرو سخن کے اس قیدی کے حوالے سے جان کاشمیری لکھتے ہیں کہ:

حافظہ دولتِ تاریخِ ادب سے معمور

زندگی بھر وہ رہا شعرو سخن کا قیدی

اُس کی رائے تھی سدا فن پہ سند کا درجہ

اب تو ممکن ہی نہیں دوسرا ناصر زیدی

مزید :

رائے -کالم -