دیہی ترقی کا منصوبہ

دیہی ترقی کا منصوبہ
دیہی ترقی کا منصوبہ

  

تاشقند ازبکستان کا دارالحکومت اور سینٹرل ایشیاء کا سب سے بڑا شہر ہے۔ مجھے دو دفعہ تاشقند جانے کا موقع ملا  سفر کی یادوں کا کچھ تذکرہ میں نے اپنی کتاب ”پی ٹی وی میں مہ و سال“ میں کیا ہے لیکن اب تاشقند کی یاد وہاں سے ہمارے دوست محمد عباس کے ایک کالم نے دلائی ہے۔ اُن کے بقول تین سال میں تاشقند اور باقی ملک میں ایسے ترقیاتی پروگراموں پر عمل کیا گیا ہے جس سے تاشقند اور دوسرے شہروں اور دیہاتوں کا حلیہ بدل گیا ہے۔ دارالحکومتوں پر تو بہرحال حکومتوں کی توجہ رہتی ہے لیکن یہاں خاص بات یہ ہے کہ دیہات کا نقشہ بدل دیا گیا ہے۔ اِس انقلابی پروگرام سے ہم بھی کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں شہروں میں بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل سے نبٹنا مشکل ہو رہا ہے کیونکہ دیہات کی ترقی کا آئیڈیا ہمارے لئے کبھی دلکش نہیں رہا۔ 

ہمارا معاشرہ بنیادی طور پر دیہی معاشرہ تھا لیکن وقت کے ساتھ دیہاتوں سے شہروں کی طرف ہجرت ہوتی رہی جس کی رفتار ماضی قریب میں بہت تیز ہو گئی جس سے شہروں میں طرح طرح کے مسائل حکومتوں کیلئے چیلنج بنتے گئے لیکن یہ کیا دھرا بھی حکومتوں کا ہی تھا کیونکہ ماضی میں دیہی علاقے کی ترقی پر کام نہیں ہوا۔ وجوہات کئی تھیں ایک تو شہروں میں آبادی کی Concentration ہوتی ہے لہٰذا سہولتوں کی ضرورت بھی زیادہ ہوتی ہے پھر حکومت کو شہروں میں کام کرنے کا کریڈٹ بھی ملتا ہے کیونکہ میڈیا کی توجہ تو صرف شہروں پر ہوتی ہے۔ دیہات کی تو کوئی آواز نہیں ہوتی لہٰذا بے زبان مخلوق کی طرف کوئی توجہ کیوں دے۔ دیہاتوں میں اگر جدید سہولتیں نہیں ہوں گی تو پھر نقل مکانی تو ہو گی۔ دیہات میں رہنے والی آبادی کو تو پٹوار اور تھانے کے حوالے کر دیا گیا ہے اور کوئی نہیں جو انہیں اِن محکموں کے پنجے سے آزاد کرائے۔ مسلم لیگ کی حکومت نے اس شعبے میں بعض مثبت کام کئے جن کا اعتراف کرنا چاہئے مثلاً موٹروے کا جال بچھایا گیا جو بہت بڑا کام ہے اور دوررس اثرات کا حامل ہے۔ اب پنجاب کے کسی شہر سے تین چار گھنٹے میں آپ لاہور پہنچ سکتے ہیں یہ بات موٹروے سے پہلے ناممکن تھی اِس سے توقع ہے کہ شہروں کی طرف آبادی کی نقل مکانی میں کچھ فرق پڑے گا۔ پھر پنجاب میں ریونیو ریکارڈ کو کمپیوٹرازڈ کیا گیا  یہ بھی ایک بہت بڑا کام ہے تاہم محکمہ مال کے تسلط سے جان نہیں چھڑائی جا سکی۔ پولیس کے رویئے میں تبدیلی ابھی تک ایک خواب ہی ہے۔ سڑکوں کے علاوہ کم از کم پنجاب کے تقریباً سارے دیہات میں بجلی بھی موجود ہے لہٰذا کہہ سکتے ہیں کہ کافی بنیادی سہولتیں دیہات تک پہنچ چکی ہیں البتہ صحت اور تعلیم کے معاملے میں وہ معیار دستیاب نہیں جو بڑے شہروں میں ہے اور یہ شاید ابھی ممکن بھی نہیں۔ 

یہ ایک بنیادی بات ہے کہ جتنا آپ پاور کے مرکز سے دور ہوں گے اتنے ہی آپ پسماندہ رہیں گے اور احساس محرومی پیدا ہو گا۔ ہمارے ہاں سرائیکی علاقے کا یہی مسئلہ ہے کہ وہ اتفاق سے پاور کے مراکز سے دور ہیں ورنہ اُن کے ساتھ کسی حکومت نے شاید دانستہ زیادتی نہیں کی بلکہ ایک طویل عرصے تک تو موجودہ پاکستان کی قیادت کا تعلق سرائیکی علاقے سے ہی تھا۔ اب ظاہر ہے اسلام آباد اور لاہور دونوں پنجاب کے آخرمی کونوں میں ہیں۔ اِن حالات میں اِن دونوں مرکزوں کے درمیانی علاقے فائدے میں رہے ہیں۔ اگر سرائیکی صوبہ بن جائے تو پھر بھی سرائیکیوں کی ”پسماندگی“ کا مسئلہ پوری طرح حل نہیں ہو گا کیونکہ سرائیکی صوبے کا دارالحکومت صوبے کے باسیوں کو وہ کچھ نہیں دے سکے گا جو لاہور اور اسلام آباد میں رہنے والوں کو حاصل ہے۔ خیر یہ ایک طویل بحث ہے اِس کا ذکر میں  اپنے ایک کالم میں پہلے ہی کر چکا ہوں۔

ہر حکومت چاہتی ہے کہ وہ ہر علاقے کے لوگوں کو مطمئن کر سکے لیکن ظاہر ہے حکومت کی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں اب پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے تو اُس کا نعرہ ہی یہی تھا کہ وہ سٹیٹس کو کو توڑے گی اور روایتی سیاست کی بجائے میرٹ کی سیاست کرے گی اور پھر عمران خان نے کئی نئے آئیڈیاز پیش کئے مثلاً مکانات کی تعمیر، درخت لگانے کی مہم اور سیاحت کا فروغ وغیرہ اب یہ تو وقت بتائے گا کہ وہ اپنے خیالات کس حد تک نافذ کر سکتے ہیں کیونکہ بہرحال مجبوریاں ہر حکومت کی طرح اُن کی بھی ہیں اور وقت بھی محدود ہے یعنی اب تقریباً تین سال رہ گئے ہیں اُس میں سے بھی آخری چھ آٹھ ماہ تو الیکشن کی تیاری کی نذر ہو جاتے ہیں۔ میں اُن کی توجہ دیہات کی ترقی کے موضوع کی طرف دلانا چاہتا ہوں اگرچہ وہ لوکل باڈیز کے حق میں بہت  ہیں لیکن اس معاملے میں بھی انہیں کامیابی ابھی تک نہیں ہو سکی لیکن دیہی ترقی کے معاملے میں انہوں نے کوئی خصوصی منصوبہ پیش نہیں کیا میرا خیال ہے کہ یہ موضوع اُن کے ذہنی راڈارپر آیا ہی نہیں۔

لوکل باڈیز کی اہمیت بہت زیادہ ہے اگرچہ عجیب اتفاق ہے کہ جب بھی فوج حکومت میں آتی ہے تو وہ لوکل باڈیز کو فوراً بحال کر دیتی ہے اور سیاسی حکومتوں کا رویہ اِس معاملے میں منفی ہوتا ہے معذرت کے ساتھ میں کہوں گا کہ دونوں کی نیت ٹھیک نہیں ہوتی۔ فوجی حکومت لوکل باڈیز بحال کرکے موجودہ سیاستدانوں کی ہوا نکالنا چاہتی ہے اور سیاسی حکومتیں اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہیں۔ حالانکہ موجودہ نظام کے تحت 22 کروڑ لوگوں میں سے قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو ملا کر چند ہزار لوگوں کو اقتدار میں شریک کیا جاتا ہے باقی کروڑوں لوگوں کو مقامی سطح پر اقتدار دینے کے لئے کوئی تیار نہیں ہوتا بلکہ انہیں یہ صرف ووٹ پر ٹرخا دیا جاتا ہے حالانکہ لوکل باڈیز نئی قیادت کیلئے نرسری کا کام دیتی ہے۔ لوکل باڈیز کا رول ایم این اے اور ایم پی اے سنبھال لیتے ہیں حالانکہ یہ اُن کا کام نہیں ہوتا لیکن ہمارے ہاں یہ رواج عام ہے کہ ہر ادارہ دوسرے اداروں کے اختیارات پر قبضہ کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔

میری تجویز یہ ہے کہ دیہاتوں کو بھی شہر کا ٹچ دیا جائے۔ اس سلسلے میں دیہات میں گلیاں پکی کی جائیں، دیہاتوں تک سڑکیں تو پہلے ہی پختہ ہو چکی ہیں اور سیوریج سسٹم بچھایا جائے اور ہر گاؤں میں آئندہ توسیع کیلئے بھی کچھ رہنما اصول بنا دیئے جائیں اس کے علاوہ ہر بڑے قصبے میں ایک پارک بنایا جائے اور صحت مند تفریح کیلئے ایک گراؤنڈ بھی بنایا جائے۔ اِس آئیڈیا پر 80 کی دہائی میں رورل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت کچھ کام ہوا تھا اِس کے تحت ماڈل ویلج کی ایک سکیم نافذ کی گئی تھی میں اُن دنوں فیصل آباد میں تھا اور ایک ایسے ہی ماڈل ویلج کے دورے پر میں کمشنر فیصل آباد جاوید قریشی کے ساتھ گیا تھا۔ لاہور میں گلبرگ کے ایک علاقے میں بھی کچھ اِسی قسم کا کام ہوا تھا لیکن بعد میں یہ سکیم ختم کر دی گئی موجودہ حکومت لوکل باڈیز کی بحالی کے ساتھ اس سکیم کو دوبارہ نئے خدوخال کے ساتھ لانچ کر سکتی ہے۔ دیہات پر خصوصی توجہ موجودہ حکومت کے لئے سیاسی طور پر بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ عمران خان کو پڑھے لکھے مڈل کلاس طبقے کی  شہروں میں سے حمایت حاصل ہوئی ہے دیہات میں شاید ابھی تک پی ٹی آئی جڑیں نہیں پکڑ سکی۔

مزید :

رائے -کالم -