اقتصادی اور دفاعی انڈے!

اقتصادی اور دفاعی انڈے!
اقتصادی اور دفاعی انڈے!

  

ہمارا میڈیا، الیکٹرانک ہو یا پرنٹ دو موضوعات کو خشک اور مشکل گردانتا ہے۔ اقتصادیات اور دفاع دونوں موضوعات کو وہ اہمیت اور پذیرائی نہیں دی جاتی جو دوسرے موضوعات کو دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر لکھنے والوں کی بھی کمی ہے اور پڑھنے والوں کی بھی…… کسی گیت یا نغمے کا اگر گوّیا ہی نہ ہو تو سنو یا کہاں سے پیدا ہو گا؟ اس میں میڈیا کا تو کوئی قصور نہیں۔ اس نے تو وہی دکھانا اور لکھنا ہے جو اس میں فیڈ (Feed) کیا جاتا ہے۔ میڈیا ایسی مرغی نہیں جو خود انڈے دیتی، ان کو سیتی اور پھر بچے نکالتی ہے۔ میڈیا مرغی جنم جنم کی پھنڈر (بانجھ) ہے۔ خود انڈہ نہیں دے سکتی اور نہ بچہ نکال سکتی ہے۔ اس کے نیچے انڈے رکھنے پڑتے ہیں تو بچے نکلتے ہیں! اقتصادی اور دفاعی امور کے انڈے چونکہ بہت کمیاب ہیں اس لئے ہمارے میڈیا کی پھنڈر مرغیاں اس وقت تک کُڑکّ نہیں بیٹھتیں جب تک کوئی ان کے نیچے انڈے لا کر نہیں رکھ دیتا۔

چونکہ ہماری پاکستانی مارکیٹ میں دفاعی اور اقتصادی انڈوں کی مانگ نہیں اس لئے ان کے رنگ و روپ، اقسام، سائز اور تاثیر و اثرات سے بے خبری سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن جب بین الاقوامی مارکیٹ میں ان انڈوں کی کثرت اور فراوانی ہو تو اپنی قلت اور کمیابی کا نوٹس نہ لینا ناقابلِ فہم ہے۔

مجھے اقتصادی انڈوں کا تو بس واجبی سا علم ہے۔بلکہ یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ واجبی سے بھی کم ہے۔ کوشش کرتا رہتا ہوں کہ اس مبلغِ علم میں اضافہ کروں لیکن اس کی رفتار شائد اس لئے کم ہے کہ دفاعی انڈوں کی عالمی مارکیٹ اتنی تیزی سے پھل پھول رہی ہے کہ اس کی سُن گُن کو اقتصادی انڈوں کی خبروں پر فوقیت حاصل ہو رہی ہے۔ ویسے بھی اس سلسلے میں بین الاقوامی میڈیا کی مرغیاں، ہماری مرغیوں کی طرح پھنڈر نہیں بلکہ زرخیز و شاداب اور کثیر الاولاد ہیں۔ دنیا بھر کی میڈیا مرغیاں اگر اقتصادی اور دفاعی انڈوں کے تناظر میں کثیر الولد ہوں اور اپنی مرغی بانجھ ہو تو اس بانجھ پن کو دور کرنے کی طرف توجہ از بس ضروری ہو جاتی ہے۔ اس حوالے سے اقبال کا ایک ایسا شعر یاد آ رہا ہے جو پاکستانی قوم کے لئے حد درجہ سبق آموز ہے۔ فرماتے ہیں: ”دنیا کے نگینے کی خوبصورتی ہمیشہ جدید اور تازہ ایجادات سے ہوتی ہے اور یہ دنیا ایک ایسی ماں ہے جو ہمیشہ جدید اقوام کو اپنے پیٹ میں پالتی اور ان سے حاملہ رہتی ہے“:

ہے نگینِ دہر کی زینت ہمیشہ نامِ نو

مادرِ گیتی رہی آبستنِ اقوامِ نو

اگر ہماری میڈیا مرغی اس حوالے سے بانجھ ہے تو اسے جلد از جلد ”آبستن“ (حاملہ) ہو جانا چاہیے۔

21ویں صدی کا دوسرا عشرہ اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے اور پاکستان دونوں اطراف (مشرق و مغرب) سے سینڈوچ بنا ہوا ہے۔ مشرق میں ہمارا جنم جنم کا دشمن انڈیا ہے جس نے ٹھیک ایک برس پہلے 5اگست 2019ء کو اس علاقے کی آئینی حیثیت ختم کر دی جو گزشتہ 72برسوں سے پاکستان اور ہندوستان کے مابین متنازعہ تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر کا تنازعہ ہی تو ہے جس نے اس علاقے کی ہمہ گیر ڈویلپمنٹ کے آگے بند باندھا ہوا ہے۔ یہ درست ہے کہ ایک پاور فل دشمن آپ کی بقا کا ضامن ہوتا ہے لیکن یہ ضمانت جن دو ستونوں (اقتصادیات اور دفاع) پر استوار ہوتی ہے اس کا ذکر سطور بالا میں کر آیا ہوں۔

مغربی سرحد پر اگرچہ فی الحال کوئی بڑا حریفانہ عسکری اجتماع دیکھنے میں نہیں آ رہا لیکن وہاں آج بھی ایسے عناصر خیمہ زن ہیں جو پاکستان میں داخلی امن و امان کی راہ میں حائل ہیں۔ انڈیا اور امریکہ تو پہلے سے موجود تھے لیکن امریکہ 18،20برس کے بعد جاتے جاتے بھی افغانستان میں ایسی فضا چھوڑ کر جا رہا ہے جیسی 1947ء میں تقسیمِ برصغیر کے وقت برطانیہ چھوڑ کر گیا تھا۔ برطانیہ نے اگر کشمیر کا تنازعہ اگست 1947ء میں حل کر دیا ہوتا یا زیادہ سے زیادہ 26اکتوبر 1947ء تک یہ خطہ پاکستان کے حوالے کر دیا ہوتا تو پاکستان مسلسل سات آٹھ عشروں سے جنگ و جدال کی کیفیت میں گرفتار نہ رہتا اور امن و امان کی فضا میں جنوبی ایشیا کے ان دونوں ممالک کو ہمہ جانبی تعمیر و ترقی کی طرف گامزن کر جاتا اور شائد ہمارا میڈیا بھی آج ان مباحث و موضوعات پر بحث و مباحثہ کرتا نظر آتا جو دنیا کے دوسرے ترقی یافتہ ممالک کے میڈیا ہاؤسز کر رہے ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ ہمارے مغربی ہمسائے میں اب ISIS کے عناصر بھی آکر بیٹھ گئے ہیں جو پاکستان پر آئے روز ”شب خون“ مارتے رہتے اور ہمارے فوجی افسروں اور جوانوں کی شہادت کا سبب بنتے ہیں۔ یعنی یہ کیفیت وہی ہے جو اگست 1947ء میں برطانویوں کے یہاں برصغیر سے نکل جانے کے وقت تھی۔ امریکہ اپنی پوری کوشش میں ہے کہ وہ جب یہاں سے نکالا جائے تو افغانستان کی سرزمین بھی جموں اور کشمیر کی طرح پاکستان دشمن گوریلا فورسز کی آماج گاہ بن جائے……

.

سوال یہ ہے کہ اس مشکل کا حل کیا ہے؟…… اور  آیا پاکستان اس حل کی جانب گامزن ہے یاکسی اور طرف نکل رہا ہے…… راقم السطور کا خیال ہے کہ جب تک ہم فوجی لحاظ سے مضبوط نہیں ہوں گے تب تک پاکستان کی مشکلات آسان نہیں ہوں گی۔ پاکستان کا سوادِ اعظم اگرچہ پاکستان کو مضبوط دیکھنا چاہتا ہے لیکن ریاست کا چوتھا ستون (میڈیا) وہ رول ادا نہیں کر رہا جو اسے کرنا چاہیے۔ یہ ایک بڑا ٹیڑھا سوال ہے اور بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے والی بات ہے۔ اس میڈیا کے بہت سے ناخدا اگلے الیکشنوں کے انتظار میں ہیں۔ وہ نہ کسی طرح سے اپوزیشن کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں اور میرا ایمان ہے کہ اپوزیشن زندہ ہونی بھی چاہیے لیکن وہ اپوزیشن ایسی ہو جو پاکستان کو زندہ تر کر دے۔ اگر پاکستانی عوام نے اگلے الیکشنوں میں موجودہ سیاسی سیٹ اپ کو مزید 5سال دے دیئے تو شائد میڈیا کو ہوش آ جائے۔ دوبارہ عرض کروں گا کہ زیادہ تر ابلاغی ادارے 2023ء کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ جوں جوں اگلے الیکشنوں کے دن نزدیک آئیں گے، آپ دیکھیں گے کہ کون کون سے لوگ، کس کس طرح کی سرمایہ کاری کرتے ہیں، تاہم اگر پاکستانی میڈیا کی مرغی غیر اقتصادی اور غیر دفاعی انڈوں کو سینے کی عادی ہے تو اس کو دفاعی امور سے کیا غرض؟

جن قوموں نے ترقی کی ہے، براہِ کرم ان کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں۔ جمہوریت کے ”حسن“ کو جو معانی ہمارے سیاستدانوں نے پہنا رکھے ہیں ان کی ایک الگ کھیپ ہے۔ یہ جلدی ختم ہونے والی نہیں۔ اس کی آبیاری میں آنے والے دو تین برسوں میں جو سرمایہ کار کوئی اہم رول ادا کریں گے، ان پر نظر رکھنی چاہیے۔

دفاعی انڈوں کا ذکر کرتے کرتے میں سیاسی انڈوں کی طرف نکل گیا ہوں لیکن اس کے لئے کوئی معذرت نہیں چاہوں گا۔ اقتصادی اور دفاعی انڈوں سے جو بچے نکلتے ہیں، ان میں سیاسی چوزوں کی نسل بھی ضرور ہوتی ہے۔لیکن یہ نسل اگر باقی دو نسلوں سے مرعوب (Dominated) ہوجائے تو قوم کا بے مثال سرمایہ اور اثاثہ (Asset)ہے اور اگر نہ ہو تو ایک ناروا بوجھ (Liability)ہے۔

چلئے اس بحث کو ختم کرتے ہیں …… میں گزشتہ 30برسوں سے اردو زبان میں دفاع کے موضوع پر کالم اور مضامین لکھ رہا ہوں۔ لیکن میں نے یہ دیکھا ہے کہ ہر آنے والے دن میں دفاعی میدانوں (Fields) میں اتنی تیزی سے ڈویلپ منٹ ہو رہی ہے کہ اس کی تفہیم اردو زبان میں مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ چونکہ بازار میں کوئی ”انگلش۔ اردو ملٹری ڈکشنری“ دستیاب نہیں اس لئے پرانی یا نئی عسکری اصطلاحات کو اردو کالموں میں استعمال کرکے دفاعی مسائل و معاملات کی جانکاری دینا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے…… لیکن اس کا کوئی حل بھی تو نکلنا چاہیے…… میں نے سوچا ہے کہ دفاعی امور سے متعلق اپنے اردو کالموں میں انہی انگریزی اصطلاحات کو اردو میں املا کر دیا کروں جو انگریزی میں استعمال ہوتی ہیں۔ دنیا کے وہ ممالک جن کی قومی (اور فوجی) زبان انگلش نہیں، وہ بھی انگریزی میں ان موضوعات کو قلمبند کرتے وقت بین الاقوامی انگلش اصطلاحات ہی کا سہارا لیتے ہیں ……

اس میں ایک قباحت یہ ہے کہ میرے قارئین کی تعداد میں نسبتاً کمی آ جائے گی۔ ان کو اگر اردو مشکل معلوم ہوتی ہے تو انگریزی تو مشکل تر ہو گی!…… لیکن میرے پاس اب اس آپشن کے سوا کوئی اور آپشن نہیں …… آنے والے ایام میں یہ تجربہ کرکے دیکھتا ہوں۔ قارئین سے گزارش کروں گا کہ وہ اس سلسلے میں میری رہنمائی فرمائیں اور یہ بتائیں کہ یہ اسلوب ان کی تفہیم میں آسانی پیدا کرتا ہے یا مشکل تر ہے…… ان کا پیشگی شکریہ!

مزید :

رائے -کالم -