حکومت کلبھوشن کی طر ح کشمیر معاملے پر متحرک ہوتی تو مسئلہ حل ہو چکا ہوتا: احسن اقبال 

  حکومت کلبھوشن کی طر ح کشمیر معاملے پر متحرک ہوتی تو مسئلہ حل ہو چکا ہوتا: ...

  

  نارووال(نمائندہ خصوصی)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ سرینگر سوشل میڈیا ٹرینڈ بنا کر نہیں پہنچا جا سکتا، حکومت عملی اقدامات کرے،فوری طورپراسلامی سربراہی کانفرنس کااجلاس بلائے جبکہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں دوبارہ اٹھایا جائے، تاکہ بھارت پر موثر دباو ڈالا جاسکے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں عائد لاک ڈاون ختم کرے۔ انکا کہنا تھا مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کو ایک سال ہو چکا۔ہمارا مطالبہ ہے کشمیریوں کے بنیادی حقوق بحال کئے جائیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان حکومت نے سلامتی کونسل میں بھارت کو بلا مقابلہ ممبر بننے میں مدد کی۔ کلبھوشن یادیو کے حقوق کیلئے حکومت جتنی سرگرم، اتنی مقبوضہ کشمیر کے حقوق کیلئے ہوتی تو وہ آزاد ہو جاتا۔ ا ن خیالات کا اظہار انہوں نے محلہ صدیق پورہ میں وزیرستان کے علاقہ وانا میں سماج دشمن عناصر کیخلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنیوالے پاک آرمی کے سپاہی محمد توصیف کے اہلخانہ سے فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،ان کے ہمراہ رکن صوبائی اسمبلی خواجہ وسیم بٹ اورپارٹی کے ضلعی عہدیدار بھی موجود تھے۔احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں حکومت کے وزیر انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے فیصلوں کا حوالہ دیکر یہ بات سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کلبھوشن یادیو کیلئے ایک آرڈیننس جاری کرنا کیوں ضروری تھا، جبکہ عالمی عدالت انصاف کے اندر حکومت یہ موقف لے چکی تھی کہ ہمارے قانون کے نظام میں کوئی سقم نہیں، انکا کہنا تھا ملٹری کورٹ کیخلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جاسکتی ہے تو پھر کلبھوشن یادیو کے نام پر سے خصوصی آرڈیننس جاری کرکے پاکستان کی بے عزتی کرنے کی کیا ضرورت تھی، اسلامی سربراہی کانفرنس کے اجلاس میں بھارت کے اقتصادی بائیکا ٹ کی قرار داد بھی پیش کی جائے، اگر او آئی سی کے نزدیک مسئلہ کشمیر مسلم امہ کا مسئلہ نہیں تو پھر تنظیم میں ممبر شپ پر نظر ثانی کرنا چاہیے۔

احسن اقبال

مزید :

صفحہ آخر -