مراد علی شاہ کی حکومت اپنے حصے کی گندم جاری نہیں کر رہی، اس سے پہلے گورنرراج کی بات ہو سندھ حکومت اپنی روش بدلے: شبلی فراز

    مراد علی شاہ کی حکومت اپنے حصے کی گندم جاری نہیں کر رہی، اس سے پہلے ...

  

اسلام آباد، لاہور(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک آئی این پی)وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات  شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت سندھ اپنے حصے کی گندم ریلیز نہیں کررہی، اس کی وجہ سے سندھ میں بھی گندم کی قلت ہے۔ پیر کواسلام آباد میں وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی فخر امام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ گندم کی طلب و رسد میں وفاق کا کوئی کردار نہیں بنتا، سندھ حکومت  کے اقدام سے ہمارے لیے مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔ شبلی فراز  نے کہا  اس سے پہلے کہ ہم گورنر راج کی بات کریں سندھ حکومت اپنی روش بدلے۔ شبلی فراز نے کہا کہ تاثر دیا جارہا ہے کہ مارکیٹ میں آٹے کی قیمت بڑھ رہی ہے، یہ تاثر بھی دیا جارہا ہے کہ گندم کی پیداوار کم ہوئی، سندھ اور پنجاب گندم کی پیداوار والے صوبے ہیں،پاکستان ایک خاص طریقے سے چلتا آیا ہے، جس میں خاص طبقات قوانین سے کھیل کر منافع خوری کرتے آئے ہیں،اس دفعہ وزیراعظم آٹے اور چینی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہر ہفتے ایک اجلاس بلایا جاتا ہے،ہم نے چونکہ ایک مختلف انداز اختیار کیا ہے اس لیے یہ عناصر اس کا ردعمل دیتے رہیں گے۔ گندم کی قیمت کا تعین طلب رسد پر ہوتا ہے لیکن جب بیچ میں اسمگلنگ سمیت دیگر عناصر بھی آ جاتے ہیں.وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبوں میں طلب ورسد سے وفاق کا تعلق نہیں، سندھ اپنے حصے کی گندم نہیں دے رہا جس کی وجہ سے قیمتیں بڑھ رہی ہیں، گندم نہ دینے کے باعث سندھ کے عوام کو مشکلات ہیں۔ آٹے کی قیمت میں اضافے کی وجہ سندھ حکومت کا حصے کاسٹاک ریلیز نہ کرنا ہے۔شبلی فراز نے کہا کہ ہم چار صوبے نہیں چار بھائی ہیں، سندھ حکومت کو بھی ہمارے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا لیکن بدقسمتی سے سندھ حکومت ہمارے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی۔ سندھ حکومت مینڈیٹ پر پورا نہیں اتری، سندھ حکومت نے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا اور کراچی کا حال سب کے سامنے ہے، سندھ حکومت کے اقدامات سے سندھ کے عوام کو تکلیف ہو رہی ہے، اس سے پہلے کہ گورنر راج کی بات کریں سندھ حکومت روش بدلے۔۔شبلی فراز نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر پوا پاکستان متفق ہے۔جبکہ وفاقی وزیر غذائی تحفظ سید فخر امام نے کہا ہے کہ سرکاری شعبے میں 66 لاکھ ٹن گندم خریداری کی گئی، پچھلے سال کی نسبت اس سال 26 لاکھ ٹن زیادہ گندم خریدی ہے جبکہ گندم خریداری کا ہدف 27 ملین ٹن تھا۔ وزیر غذائی تحفظ نے کہا کہ پاکستان میں کارٹیلائزیشن ہے، ذخیرہ اندوزی کی جاتی ہے، پاکستان گندم پیدا کرنے والے ممالک میں آٹھویں نمبر پر ہے۔فخر امام نے کہا کہ سندھ حکومت نے اس سال 3.9 ملین ٹن گندم کی خریدی  ہے، پنجاب نے گندم ریلیز کی، سندھ حکومت نہیں کررہی۔ گندم کی قلت کی ذمے داری سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، روسی حکومت کو بھی لکھا ہے کہ ہم گندم خریدنا چاہتے ہیں۔فخرامام نے کہا کہ سندھ حکومت گندم ریلیز کرے تو قیمتیں یقینی طور پر کم ہوجائیں گی، ذخیرہ اندوزوں کو پکڑنا صوبائی حکومتوں کی ذمیداری ہے۔انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو پنجاب میں پکڑا بھی گیا، جبکہ ہم نے اسمگلنگ کو بہت حد تک روکا لیکن ذخیرہ اندازی اب بھی ہورہی ہے اور اگلے سیزن کے لیے ابھی سے ہی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔دریں اثنا پنجاب کے وزیر خوراک  عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کو فوری طور پر بے حسی چھوڑتے ہوئے عوام پر رحم کرنا چاہیے اور پنجاب اور کے پی کے کی طر ز پر فلور ملز کو سبسڈائزڈ نرخوں پر گندم کی فراہمی شروع کرنی چاہیے تاکہ آٹے کی قیمتوں میں پایا جانے والا فرق ختم ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر میں فلور ملوں کو کم نرخوں پر سرکاری گندم کی فراہمی کے بعد20کلو آٹے کا تھیلا 860روپے میں دستیاب ہے جو رحیم یار خان سے بارڈر کراس کرتے ہی سندھ میں جا کر1200روپے سے بھی مہنگا فروخت ہوتا ہے اور آئین پاکستان کے مطابق کوئی صوبہ گندم و آٹے کی بین الصوبائی نقل و حمل نہیں روک سکتا لہذا یہ تمام بوجھ پنجاب کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ عبدالعلیم خان نے یہاں لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے پاس گندم کے بڑے ذخائر موجود ہیں جبکہ وہاں ابھی تک لا پرواہی کے باعث فلور ملو ں کو سبسڈی نہیں دی جا رہی جبکہ پنجاب اربوں روپے اس مد میں خرچ کر رہا ہے اور وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات کے بعد صوبہ کے پی کے میں بھی فلور ملز کو سبسڈی پر گندم کی فراہمی شروع ہو چکی ہے لیکن سندھ کی طرف سے گندم اور آٹے کی منتقلی ہمارے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے اور ہم اتنے بڑے بوجھ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔عبدالعلیم خان نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے سندھ میں فلور ملز کو گندم کی کم نرخوں پر فراہمی یقینی بنائے اور آٹے کی قیمتوں کو پنجاب کے سطح پر لائیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر پنجاب اور کے پی کے سستا آٹا فراہم کر سکتے ہیں تو سندھ کیوں نہیں؟عبدالعلیم خان نے بتایا کہ پنجاب میں فلور ملوں کو روزانہ 17ہزار ٹن گندم کی فراہمی جاری ہے جسے عید کے دنوں میں 32ہزار ٹن کر دیا گیا،ہمارے پاس10ماہ کا سٹاک موجود ہے اور انشاء اللہ دسمبر سے قبل درآمد شدہ گندم شروع ہو جائے گی جس میں پنجاب کا حصہ 7سے8لاکھ ٹن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک 4.44لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کے آرڈرز جاری ہو چکے ہیں،پنجاب دیگر صوبوں کے عوام کے لئے بھی حاضر ہے لیکن اُن صوبوں کو خود بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب بھر میں آٹے کی کم نرخوں پر فراہمی جاری ہے اور 20کلو کا تھیلا860روپے میں ہر جگہ پر وافر مقدار میں دستیاب ہے۔محکمہ خوراک کے علاوہ اربن یونٹ بھی اس عمل کی مانیٹرنگ کر رہا ہے جہاں کوئی کہیں شکائیت آئے وہاں ڈپٹی کمشنر فوری ایکشن لیتا ہے۔ عبدالعلیم خان نے پنجاب میں آٹے پر سبسڈی کے طریقہ کار میں تبدیلی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پر کا م شروع ہو چکا ہے اور آئندہ چند ماہ میں نیا لائحہ عمل واضح کر دیا جائے گا جس کے تحت بلا تفریق سب کو کم نرخوں والا آٹا دینے کی بجائے صرف مستحق لوگوں کو سبسڈی ملے گی جس سے 860والا تھیلا مزید سستا ہو سکتا ہے اور اس ٹارگٹڈ سبسڈی کے لئے احساس پروگرام کے ڈیٹا سے مدد لی جا سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چکیوں پر ملنے والا آٹا مارکیٹ ریٹ کے مطابق ہے کیونکہ وہاں سرکاری ریٹ پر گندم مہیا نہیں کی جاتی۔عبدالعلیم خان نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ بالائی پنجاب میں بارشوں اور دیگر عوامل کے باعث گندم کم ہوئی ہے،پنجاب حکومت نے نان فنکشنل فلور ملز کو سبسڈی ریٹ پر گندم نہیں دی جبکہ محکمہ خوراک نے 40لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کی خرید مکمل کی ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔

شبلی فراز

مزید :

صفحہ اول -