ٹک ٹاک خفیہ ڈیٹا چرانے کا ذریعہ بن گئی،امریکی تجارتی مشیر

        ٹک ٹاک خفیہ ڈیٹا چرانے کا ذریعہ بن گئی،امریکی تجارتی مشیر

  

 واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) سوشل میڈیا ایپ ”ٹک ٹاک“ خفیہ ڈیٹا چرانے کا ذریعہ بن گئی، جس کی مالک چینی کمپنی اپنے ارکان کی تمام ذاتی معلومات سے بھی چینی کمیونسٹ پارٹی کو پہنچا دیتی ہے۔ یہ وارننگ وائٹ ہاؤس کے تجارت اور مینوفیکچرگ کے بار ے میں مشیر پیٹر ناوارو نے ”فوکس نیوز“ کیساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ بظاہر ایک تفریحی ایپ کا ہلکا پھلکا معاملہ ہے لیکن جب بھی آپ اپنے آپ کو رجسٹر کروا کر اس کارکن بنتے ہیں تو آپ کی تمام ترمعلومات فوری طور پر چینی کمیونسٹ پارٹی،چینی فوج اور حکومت تک پہنچ جاتی ہے“۔ انہوں نے مزید کہا کہ ارکان کی ذاتی معلومات ان کے کاروبار کی تفصیل اور ان کی تما م نقل و حرکت کو اس ایپ کے ذریعے مانیٹر کیا جاتا ہے۔ تجارتی مشیر نے خبردار کیا کہ ”صدر ٹرمپ اسی وجہ سے اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔ وزیر خارجہ پومپیو بھی بہت متوجہ ہو چکے ہیں۔ یہ اب قومی سلامتی کیلئے خطرے کا باعث بن گیا ہے۔ ردعمل کے طور پر اس پر مکمل پابندی لگ سکتی ہے کیونکہ یہ ٹرمپ مخالف تحریکوں میں بہت مقبول ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب معاملہ نازک ہو چکا ہے اور امریکہ چین کیساتھ ٹیکنالوجی کے دباؤ کے ذریعے تبادلے کا معاملہ اٹھانے جا رہا ہے کیونکہ یہ ایپ خطرناک ہو چکی ہے۔ تجارتی مشیر نے مزید کہا کہ چین کی حکومت ہر ایسے موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے جس سے امریکی صارفین کو مانیٹر کیا جاسکے اور اب افواہ ہے کہ ٹرمپ کے مخالف سرگرم بزنس مین اور مائیکروسافٹ کے مالک بگ گیٹس ”ٹک ٹاک“ کو خریدنے پر غور کر رہے ہیں۔ پیٹر ناوارو نے اپنے تبصرے میں مزید کہا کہ ”چین نے لابی کرنے کیلئے بہت سے امریکیوں کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں جو ایپ کے ذریعے ڈیٹا چرانے میں اس کی مدد کر رہے ہیں۔

امریکی تجارتی مشیر

مزید :

صفحہ اول -