کپاس کی فصل کی بہتر نگہداشت کیلئے سفارشات جاری 

کپاس کی فصل کی بہتر نگہداشت کیلئے سفارشات جاری 

  

لاہو(سٹی رپورٹر)ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق کپاس کی اچھی پیداوار کیلئے کاشتکار زیادہ بارش کی صورت میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں اور اضافی پانی کو کھیتوں سے نکاسی کے لئے انتظامات کریں۔ بارش کے بعد جڑی بوٹیاں بڑھ جاتی ہیں ان کی تلفی کے لئے فلیٹ فین نوزل سے جڑی بوٹی مار سپرے کریں اور پانی کی مقدار100تا120 لٹر فی ایکڑ استعمال کریں۔اگر فصل کے نقصان کا اندیشہ موجود ہو تو شیلڈ لگا کر سپرے کریں۔زیادہ بارشوں والے علاقوں میں نائٹروجن 23 کلوگرام(ایک بوری یوریا) فی ایکڑ بذریعہ رجر استعمال کریں۔مزید براں 2 کلوگرام یوریا 100 لٹر پانی میں حل کرکے سپرے کریں۔آبپاشی واٹر سکاؤٹنگ کے بعد کریں۔پھل پھول آنے پر پانی کی کمی ہرگز نہ آنے دیں اور پانی ترجیحاً شام کے وقت لگائیں۔اچھی پیداوار کے حصول کے لئے متوازن کھادوں کا استعمال بہت ضروری ہے۔یوریا کھاد کھیت میں وتر آنے پر رجر کے ساتھ یا ڈرم میں حل کرکے دیں۔اس کے علاوہ ٹینڈے بننے پر پوٹاش کا استعمال ضرور کریں۔پھول آنے پر پوٹاشیم نائٹریٹ بحساب 200 گرام،زنک سلفیٹ بحساب250 گرام،بورک ایسڈ بحساب300 گرام100 لٹر پانی میں حل کر کے سپرے کریں۔زمین کے تجزیہ کے بعد اگر زمین کلراٹھی ہو اور تجزیہ گاہ جپسم کا استعمال تجویز کرے تو جپسم کے استعمال کا بہترین وقت ماہ اگست ہے۔

ترجمان محکمہ زراعت نے مزید بتایا کہ رس چوس کیڑوں کے حیاتیاتی کنٹرول کے لئے کرائسوپرلا کارڈ 80تا90 فی ایکڑ اور ٹینڈے کی سنڈیوں کے لئے ٹرائیکوگراما کارڈ5 تا6 فی ایکڑ استعمال کریں۔کاشتکارہفتہ میں دو بار پیسٹ سکاؤٹنگ ضرور کریں اور نقصان کی معاشی حد کو سامنے رکھتے ہوئے محکمہ زراعت کے مقامی عملے کے مشورہ سے سپرے کریں۔گلابی سنڈی کے موثر تدارک کیلئے 5جنسی پھندے فی ایکڑ استعمال کریں اور15دن کے وقفے سے جنسی کیپسول تبدیل کریں۔لشکری سنڈی کا حملہ نظر آئے تو متاثرہ پتوں کو توڑ کر زمین میں دبا دیں اور اگر حملہ سارے کھیت میں ہو تو محکمہ زراعت کے مشورہ سے مناسب زہر پاشی کریں۔ایک ہی گروپ کی زہروں کو بار بار سپرے نہ کریں اور سپرے سورج نکلنے سے پہلے یا شام5 بجے کے بعد کریں۔

مزید :

کامرس -