علاقائی تجارت کے فروغ کیلئے جدوجہد جاری رکھونگا،افتخار علی ملک

 علاقائی تجارت کے فروغ کیلئے جدوجہد جاری رکھونگا،افتخار علی ملک

  

کراچی (اکنامک رپورٹر)صدرسارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ سارک خطہ تجارتی دنیاکی ایک بڑی مارکیٹ ہے اور سارک ممالک کی باہمی تجارت کوترقی دے کرخطے سے غربت  اور بے رزگاری کا خاتمہ ممکن ہے،میری ہرممکن کوشش ہے کہ علاقائی تجارت کے فروغ کے لئے میں اپنی بھر پور جدوجہد جاری رکھونگا جس کیلئے مجھے سارک ممالک کے تمام نائب صدور اور ممبران کا تعاون حاصل ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار یونائٹیڈ بزنس گروپ(یو بی جی)کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر ساے ملاقات میں گفتگو کے دوران کیا۔اس موقع پر پنجاب سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین سردار تنویرالیاس خان،یو بی جی کے جنرل سیکریٹری زبیرطفیل،سندھ ریجن کے چیئرمین خالدتواب اورچیف کوآرڈینیٹر یو بی جی ملک سہیل حسین بھی موجود تھے۔افتخار علی ملک نے کہا کہ سارک ممالک کے درمیان علاقائی تجارت کا فروغ میرا مشن اوراولین ترجیح ہے، خطے کے معاشی حالت بہتر ہونے سے عوام کا معیار زندگی بہتر ہوسکتا ہے۔

،کورونا وائرس کی وباء نے خطے کے ممالک کی معیشت کو بری طرح سے متاثر کیا ہے لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی حالات بہتر ہونگے۔صدر سارک چیمبر نے کہا کہ حکومت پاکستان سارک ممالک کے ساتھ ملکی تجارت بڑھانے کی مربوط کوششیں کرے تاکہ پاکستان کی معیشت میں استحکام آسکے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے جنوبی ایشیا میں محفوظ اور پرامن ماحول انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ علاقائی تعاون کو مزید تقویت دینے میں مثبت کردار ادا کریں گے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ سارک چیمبر کاسیکریٹریٹ پاکستان لانا اور سارک چیمبرکی اسٹیٹ آف دی آرٹ بلڈنگ اسلام آباد میں تعمیرکرنا صرف میرے لئے ہی نہیں بلکہ میرے ملک پاکستان کیلئے اعزاز کا باعث ہے اور میری ہرممکن یہ کوشش ہوگی کہ سارک چیمبر کا سیکریٹریٹ نہ صرف پاکستان میں رہے بلکہ وہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو۔یو بی جی کے سرپرست اعلیٰ اور سابق صدر ایف پی سی سی آئی ایس ایم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کی نظر میں سارک تنظیم کی بے حد اہمیت ہے اور پاکستان اس کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد پر قائم ہے،وزیراعظم عمران کی حکومت بھی تمام ممبر سارک ممالک کو اہمیت دیتی ہے تاہم خطے کی تجارت میں پاکستان کا حصہ بڑھانے کی ضرورت ہے اورہمیں امیدہے کہ افتخار علی ملک اپنے وسیع تجربے کی بنیاد پر علاقائی تجارت کے فروغ اور سارک ممبر ممالک کو قریب لانے کے لئے اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے۔ایس ایم منیر نے کہا کہ کورونا وباکی وجہ سے نہ صرف پاکستان کی معیشت مشکلات سے دوچار ہے بلکہ سارک کے دیگر ممبر ممالک بھی اس وباء کی لپیٹ میں ہیں تاہم خطے کے تمام ممالک میں اب  یہ وباء دم توڑتی جارہی ہے اس کے باوجود محتاط رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ زبیرطفیل نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اس علاقائی فورم کو خودمختاری اور مساوات کے اصول پر مبنی باہمی تعاون کے لئے ایک متحرک تنظیم بنانے کی کوشش کی ہے، سارک کے اراکین دیگر ممبر ممالک کی معیشتوں کو مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کی بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں۔خالدتواب نے کہا کہ تنظیم کو خطے کی معاشی، ثقافتی اور معاشرتی نمو کے لئے کام کرنے اور خطے میں خوشحالی کے لئے ممبر ممالک کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانے پرکام کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

کامرس -