’’وادی چنارمیں خزاں اور آگ لاک ڈائو ن کا ایک برس‘‘

’’وادی چنارمیں خزاں اور آگ لاک ڈائو ن کا ایک برس‘‘

  

آج مقبوضہ وادی جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے نافذ کردہ لاک ڈاؤن کو ایک برس مکمل ہو گیا۔ 21 ویں صدی میں تمام تر ترقی کے قمقموں کی روشنی کے ہوتے ہوئے بھی بھارتی حکومت نے وادیِئ جنت نظیر میں پتھر و دھات کے زمانے کی تاریکی پیدا کر رکھی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے جذبے کو ختم کرنے کے حوالے سے بھارتی حکومت ہر روز نت نئے منصوبے بناتی ہے اور وادی میں موجود آٹھ لاکھ نفوس پر مشتمل فوج ان منصوبوں پر نہ صرف عمل کرتی ہے بلکہ اپنی مرضی سے مقبوضہ ریاست کے باشندوں پر ظلم و ستم کے نئے نئے ہتھکنڈے آزماتی ہے۔

وادی میں موجود بھارتی فوجی کشمیری عوام کو انسان سمجھتے ہیں نہ وادی کی تہذیب و ثقافت کو کوئی اہمیت دیتے ہیں۔ مقامی آبادی کے ساتھ غاصب بھارتی فوجیوں کا رویہ حیوانوں سے بدتر ہے۔ وادی میں باہر سے لوگ لا کر بسائے جا رہے ہیں۔ اب آرمی، بارڈر سیکیورٹی فورس، سی آر پی ایف اور دیگر اداروں کی جانب سے زمین کے حصول کے لئے جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ سے این او سی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ یوں بھارتی فوج، بارڈر سیکیورٹی فورسز، پیرا ملٹری فورسز اور اس طرح کے دیگر اداروں کے عہدیدار مقبوضہ وادیِ کشمیر کے محکمہ داخلہ کے این او سی کے بغیر زمین حاصل کر سکیں گے۔

 واضح رہے کہ بھارتی فاشسٹ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے 5 اگست 2019ء کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت (آرٹیکل 370) کو ختم کر دیا تھا اور جموں و کشمیر کی تنظیم نو سے متعلق نیا قانون منظور کر لیا تھا۔ چنانچہ وادی میں موجود آٹھ لاکھ بھارتی فوجی درندے بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی کو منوانے کے لئے ہر منفی حربہ آزما رہے ہیں۔

لیکن مقبوضہ وادی کے باشندے ہیں کہ بھارتی جبر اور تسلط کے سامنے بتیان مرصوص بنے کھڑے ہیں۔ ہر روز شہیدوں کے لہو کا نذرانہ دیتے ہیں اور ان کے نوجوان ہر روز بلکتی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور سہاگنوں کو چھوڑ کر اندھیروں میں گم ہو جاتے ہیں۔ ستر برس سے زائد عرصہ سے مقبوضہ وادی کے لوگ آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ حکومت پاکستان روزِ اول سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا ساتھ دے رہی ہے۔

ہمارے عظیم قائد نے جو برصغیر کی تاریخ اور جغرافیہ پر عقابی نگاہ رکھتے تھے، وادی کشمیر کو پاکستان کی شاہرگ قرار دیا تھا۔ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان اپنی شاہرگ ایک ایسے ہمسایہ ملک کے ہاتھ میں دے دے جو ازلی طور پر کمینہ، کینہ پرور، ظالم اور بزدل ہے اور فسطائی فطرت کا حامل ہے۔ وادی کے شیروں سے بھارتی حکومت اس قدر خوف زدہ ہے کہ اس نے عید الاضحیٰ کی نماز کی ادائیگی پر بھی پابندی لگا دی۔ اگرچہ مقبوضہ وادی کے لوگ اب زندگیوں کا سودا کر چکے ہیں۔ پابندیوں کے باوجود وہ جلوسوں اور اجتماعات کے ذریعے اپنے غصے اور اپنے جذبوں کا اظہار کرتے ہیں۔ گولی کا جواب پتھر سے دیتے ہیں یا پھر اپنے سینوں پر گولی روکتے ہیں۔

بھارت پاکستان کے روز روز کے اقدامات سے خوفزدہ ہے۔ پاکستان پر اپنا سارا غصہ وہ لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزیوں کی صورت میں کرتا ہے۔ تاہم پاکستانی فوج بھی اب جواب میں اپنے ٹھیک ٹھیک نشانوں سے بھارت پر واضح کرتی ہے کہ وہ جاگی ہوئی ہے اور اپنی ذمہ داریوں کا کامل ادراک رکھتی ہے۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی خلاف ورزیوں سے پاکستانی علاقے میں اکا دکا شہادتیں ہوتی ہیں یا شہری زخمی ہو جاتے ہیں۔ تاہم پاکستان ایسے اقدامات نہیں کر سکتا کیونکہ دوسری جانب بھی کشمیری مسلمان ہی بستے ہیں۔ پاکستان عالمی ضمیر کو آئے دن جھنجوڑتا رہتا ہے اور امید ہے کہ عالمی ضمیر ضرور جاگے گا اور مقبوضہ وادی کے باشندے اپنی آرزؤں اور امنگوں کو حقیقت کے روپ میں دیکھ پائیں گے۔

مقبوضہ وادی جموں و کشمیر کی خواتین کو میں سلام پیش کرتی ہوں کہ جن کے حوصلے ہری پربت سے بلند ہیں اور جن کے جذبے ڈل جھیل سے زیادہ گہرے ہیں۔ جن کی پیشانیوں پر اگتے سورج جیسی روشنی ہے اور جن کی آنکھوں میں وادی کی آزادی کی چمک جھلملاتی ہے۔ ان خواتین کا نام یقیناً صابرین و شاکرین میں لکھا جائے گا کہ ان کے پیارے شہیدوں کی میتیں جب ان کے گھروں کی دہلیزوں پر آ ئے دن رکھی جاتی ہیں تو ان کشمیری خواتین کا جذبہ مضمحل ہوتا ہے نہ ان کے ارادوں میں ضعف پیدا ہوتا ہے۔ مقبوضہ وادی کی عورتیں، ایک کشمیری ہندو آئی اے ایس خاتون کے بقول بلا شبہ شیرنیاں ہیں۔ گھر کے کام کاج ہوں یا احتجاجی جلوس، کشمیری خواتین اپنے فرائض سے غافل نہیں ہیں۔

 رَبِ رحیم سے دعا ہے کہ وہ مقبوضہ وادی کے باشندوں کو بھارتی غاصبوں سے نجات دلائے اور وادی کو اس امن و امان کی فضا سے نوازے جو ربِ رحیم ہی کی بنائی گئی ارضی جنت کا تقاضا ہے۔ مقبوضہ وادی کے باشندے آزادی کے حصول کی خاطر ایک مدت سے قربانیاں ادا کر رہے ہیں اور صدقِ دل سے ربِ رحیم سے رحمت اور استعانت کے طلب گار ہیں۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -