تیراہ اورکزئی میں بادشاہ میر انور کے مزارکی بندش کے خلاف ریلی نکالی گئی

      تیراہ اورکزئی میں بادشاہ میر انور کے مزارکی بندش کے خلاف ریلی نکالی گئی

  

پاراچنار(نمائندہ پاکستان)بادشاہ میر انور غگ کمیٹی کے رہنماؤں اور بادشاہ میر انور بزرگوار کے عقیدت مندوں اور مریدوں نے تیراہ اورکزئی میں بادشاہ میر انور کے مزارکی بندش کے خلاف ریلی نکالی اورحکومت سے مزار کو عقیدت مندوں کیلئے کھولنے اور تزئین و آرائش کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا بادشاہ انور غگ کمیٹی کے زیر اہتمام ریلی سید کمال سید میاں کی مزار سے شروع ہوئی اور مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی پاک فوج 8 بلوچ کے یونٹ پہنچی اور جلسے کی شکل اختیار کرلی اس موقع پر اپنے خطاب میں سابق سینیٹر سجاد سید میاں، سید محمود جان میاں اور پی ٹی آئی کے ایم پی اے اقبال میاں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج نے ملک سے اور خصوصا قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کا خاتمہ کردیا ہے اور ضلع کرم میں قیام امن پاک فوج ہی کی مرہون منت ہے، ملک کو بیرونی طاقتوں کے شر سے پاک فوج نے ہی بچایا ہے انہوں نے کہا کہ وہ ہر وقت اور ہر محاذ پر پاک فوج کے شانہ بشانہ رہیں گے اور ہر قسم قربانی دینے کیلئے تیار ہیں پاک فوج پر ہمیں فخر ہے اور ہم پاک فوج کے قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں رہنماوں نے کہا کہ پاک فوج کی قربانیوں کے باعث اورکزئی میں امن قائم ہوچکا ہے اور دڈبوری میں مسجد کا دوبارہ تعمیر وافتتاح خوش آئیند ہے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے آئین کے مطابق تمام مکاتب فکر کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے مگر افسوس کیساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ تیراہ اورکزئی میں روحانی پیشوا بادشاہ میر انور بزرگوار کا مزار عرصہ دراز سے بند پڑی ہے جس کے باعث ان کے عقیدت مندوں میں تشویش پیدا ہوگئی ہے انہوں نے پاک فوج کے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ بادشاہ میر انور بزرگوار کی مزار کو عقیدت مندوں کے لئے جلد از جلد کھولنے کیلئے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا اس موقع پر اپنے خطاب میں پاک فوج 8 بلوچ کے لیفٹیننٹ کرنل محمد جاوید الیاس نے کہا کہ وطن کی محبت پاک فوج کی ایمان کا حصہ ہے اور ملک عزیز کو میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو نشان عبرت بنائیں گے انہوں نے کہا کہ چونکہ بادشاہ میر انور بزرگوار کی مزار کی بندش کے معاملے کو حکام بالا تک پہنچائیں گے کیونکہ یہ آپ لوگوں کا آئینی اور قانونی حق ہے بعد ازاں ریلی پاک فوج زندہ باد کے نعروں کیساتھ اختتام پذیر ہوگئی

مزید :

پشاورصفحہ آخر -