اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں دس سپیشلائزڈ ڈیپارٹمنٹس کی منظوری 

 اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں دس سپیشلائزڈ ڈیپارٹمنٹس کی منظوری 

  

بہاولپور(ڈسٹرکٹ رپورٹر)آئی یوبی شعبہ فزکس کواپ گریڈ کرکے انسٹی ٹیوٹ میں تبدیل کردیاگیا تفصیل کے مطابق  اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا شعبہ فزکس جو کہ اس یونیورسٹی  کے ابتدائی دور کے ڈیپارٹمنٹس میں شامل ہے، اور گزشتہ 45 سال سے سائنسی علوم میں (بقیہ نمبر9صفحہ6پر)

 ایک منفرد مقام کا حامل رہا ہے،  اپ گریڈ ہوکر انسٹیٹؤٹ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اس میں دس سپیشلائزڈ ڈیپارٹمینٹس کی منظوری دی گئی ہے جن میں میڈیکل فزکس، میٹیریل سائینس،  بائیو میڈیکل فزکس، پارٹیکل فزکس، ارتھ سائینس، رینیویبل انرجی، سپیس سائینس، کمپیوٹیشنل فزکس، سیمی کنڈکٹر اینڈ نینوٹیکنولوجی، میڈیکل امیجینگ اینڈ الیکٹرونکس اور کنڈینسڈ میٹیر فزکس شامل ہیں۔ بی ایس فزکس اور ایم ایس سی فزکس میں داخلے جاری ہیں۔ اس دفعہ بی ایس فزکس میں داخلوں کی اہلیت میں بھی ترمیم  کی گئی، جس کی وجہ سے اب ایف ایس سی پری میڈیکل کو بھی داخلہ دیا جاے گا۔ انسٹیٹؤٹ آف فزکس اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا قیام جنوبی پنجاب  کے لیے ایک نئے افق کی شروعات ہے جو کہ ھماری آنے والی نسلوں کا مستقبل روشن کرتی رھے گی۔  بہاولپور کے سماجی حلقوں کے مطابق انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب، وائس چانسلر کو اس جدت کا کریڈٹ جاتا ہے۔ کہ ادارے میں ایسے پروگرامز، ڈیپارٹمنٹس، اور فیکلٹیز کا قیام عمل میں لایا گیا، جو کہ آج کے دور کا تقاضا تھا۔ ان کے ساتھ ساتھ شعبہ جات کے سربراہان اور اساتذہ کرام، جنہوں نے اپنے دائرہ کار میں ان جدید پروگرامز کی بنیادیں رکھیں، ان کے سلیبس بنائے اور بورڈز و کونسلز میں ان کو پیش کیا، دفاع کیا، اور پھر منظور کروایا۔  شعبہ فزکس کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد بزدار نے کہا کہ انسٹیٹؤٹ آف فزکس ان کا خواب تھا، اور وہ وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب کے مشکور ہیں جن کے بھر پور تعاون اور سرپرستی سے یہ ممکن ہوا۔ وائس چانسلر کی بصیرت کے باعث، یونیورسٹی نے اپنے ترقیاتی بجٹ سے، انسٹیٹؤٹ آف فزکس کے لیے نئی عمارت بنانے کی بھی منظوری دی ہے۔ انسٹیٹؤٹ آف فزکس اپنے جدید پروگرامز کی بدولت، اس یونیورسٹی میں ایک ممتاز مقام حاصل کرے گا۔ جنوبی پنجاب کے جونوانوں کو سائنسی تحقیق کے لئے جدید لیبارٹریز میسر ہونگے اوراس کے ساتھ ساتھ  روزگار کے مواقع بھی پیدا ہونگے۔

منظوری

مزید :

ملتان صفحہ آخر -